خارش یا جسم پر سرخ نشانات بھی کورونا کی ممکنہ علامات قرار

برطانیہ میں کی جانے والی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ خارش یا انسانی جسم پر سرخ نشانات بھی کورونا کی ممکنہ علامت ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل مئی 2020 میں کورونا کے آغاز کے چند ماہ بعد اٹلی کےماہرین نے بھی پاؤں اور ہاتھوں کی انگلیوں کی سوزش، امراض جلد، خارش اور جسمانی تبدیلیوں کو بھی ممکنہ کورونا کی علامات قرار دیا تھا۔

تاہم اب برطانیہ میں کی جانے والی آن لائن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خارش یا انسانی جسم میں سرخ نشانات بھی کورونا کی ممکنہ علامت ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ میں کورونا کی مختلف علامات اور مسائل پر تحقیق کرنے والے ادارے ’زوئے کووڈ اسٹڈی‘ کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں کورونا سے متاثر ہونے والے سیکڑوں افراد نے خارش اور جسم میں سرخ نشانات کی علامات کی بھی نشاندہی کی۔

مذکورہ ادارہ ایک ایپلی کیشن کی طرح کام کرتا ہے، جو کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لینے سمیت آن لائن سروے بھی کرتا ہے۔

خارش جیسی انتہائی معمولی بیماری بھی کورونا کی ممکنہ علامت قرار

ادارے کی جانب سے کورونا سے متاثر افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیے جانے اور لوگوں کی جانب سے علامات بتائے جانے سے معلوم ہوا کہ بعض افراد میں خارش، جسم پر سرخ دانے نکلنے اور جسم کا سرخ ہوجانا بھی ممکنہ طور پر کورونا کی علامت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ عام طور پر دو طرح کے سرخ نشانات اور خارش کورونا کی علامت ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن افراد کو چکن پاکس کی طرح دانے نکلتے ہیں اور جو لوگ اچانک ریشس یعنی جلد کے سرخ ہوجانے کے بعد خارش، جلد اور سوزش جیسے مسئلے سے گزرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر کورونا کا شکار بن چکے ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خصوصی طور کہنیوں، گھٹنوں، ہاتھوں اور پیروں کے پچھلے حصے میں چکن پاکس کی طرح کے دانے نکلنا کورونا کی ممکنہ علامت ہو سکتی ہے۔

اسی طرح جسم کے کسی بھی حصے، چہرے، پیٹھ، کمر، پاؤں اور دیگر حصوں میں سرخ نشانات پڑ جان، جلن، سوزش اور خارش کا اچانک نمودار ہونا بھی کورونا کی ممکنہ علامت ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسی علامات آنے والے افراد کو چیک اپ کروانا چاہیے اور خارش اور جلد پر نشانات آنے کے بعد ان سے نجات پانے کے لیے ٹھنڈے پانی سے نہانے سمیت خارش کے وقت آزمائے جانے والے دوسرے طریقے بھی آزمائے جا سکتے ہیں۔