صرف ٹیکسز لگانے تک محدود نہ رہیں، آئی ایم ایف کا پاکستان سے ‘ڈو مور’ کا مطالبہ

پاکستان کو معیشت کی مسابقت بڑھانے کے لیے دیگر طریقے بھی تلاش کرنے چاہئیں، نمائندہ آئی ایم ایف

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان کو صرف ٹیکس سے متعلق اقدامات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے معیشت کی مسابقت بڑھانے کے لیے دیگر طریقے بھی تلاش کرنے چاہئیں۔

یہ بات عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ریذیڈنٹ نمائندہ ایستھر پیریز روئیز نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد میکرو اکنامک استحکام کو فروغ دینا اور ملک کی مالیاتی اور معاشی پالیسیوں کو اس سلسلے میں اس کے وژن کو فروغ دینا چاہیے۔

نمائندہ آئی ایم ایف نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد پالیسیوں کا ایک سلسلہ لانا ہے جو پائیدار اور جامع ترقی کو فروغ دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں ٹیکس کی شرح کا تناسب بہت کم ہے، اس لیے حالیہ فنانس بل کے ذریعے انڈسٹری کو سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کا مقصد ٹیکس کے نظام میں پیچیدگیوں کو کم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان دیرپا اور پائیدار ترقی حاصل کرے اور اس کے لیے سب سے پہلے میکرو اکنامک پالیسیوں کو لاگو کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے، جس سے ملک کی معاشی ترقی ہو۔

آئی ایم ایف نمائندہ نے کہا کہ تاہم ہم آپ کی جانب سے (آئی ایم ایف پروگرام پر) ریمارکس، مشاہدات اور خدشات سننے کے لیے تیار رہیں گے۔

اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر نے کہا کہ چیمبر پاکستان کے جاری 22ویں آئی ایم ایف پروگرام کے قومی معیشت اور خاص طور پر نجی شعبے کی ترقی پر اثرات کے حوالے سے کافی حساس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ہم 21ویں پروگرام کی طرح اس پروگرام کی کامیاب تکمیل کا مشاہدہ کریں گے۔