Home بلاگ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ازالہ کیسے ہوگا ؟

جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ازالہ کیسے ہوگا ؟

روداد خیال

صفدر علی خاں

قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کا ازالہ نہ کیا جاسکا ،بہاولپور سے رحیم یارخاں کی تحصیل صادق آباد تک پھیلا ہوا علاقہ گوناں گوں مسائل کا شکار ہے ،سرائیکی بولنے والے تو 5000ہزارسال قدیمی شہر ملتان تک موجود ہیں مگربہاولپور کی تحصیل احمدپور شرقیہ سے لےکر صادق آباد کے کچے کے علاقے تک پھیلے اس پسماندہ جنوبی پنجاب میں انگریز کے دور میں جس قدر ترقیاتی کام ہوئے ہماری سیاسی حکومتوں کے ہاتھوں سب ملیامیٹ ہوگئے۔ اب ضلع رحیم یار خان کی تحصیل اورشہر خان پور کے ماضی کی تابناک تاریخ دیکھیں جو 70کی دہائی تک ذرائع آمدورفت اور رابطہ سڑکوں کی بدولت خوشحالی کا پیکر ہوا کرتا تھا ،خان پور انگریز کے زمانے میں ضلع کی حیثیت رکھتا تھا اور اس دور سے ہی اس کا ریلوے اسٹیشن جنکشن کادرجہ رکھتا ہے۔ اس وقت خان پور کا ایک اندرونی دیہات تک رسائی کا طویل ٹریک ججہ عباسیاں سے چاچڑاں شریف کی طرف بپھرے دریائے سندھ کی طوالت سے مسافروں کو بچاکر مختلف نواحی علاقوں میں انکی منزل تک پہنچاتا رہا۔ 80اور 90 کی دہائی تک یہ شاندار ریلوے ٹریک جنوبی پنجاب کے اندرونی رابطوں کا بہترین ذریعہ تھا مگر پھر کیا ہوا پہلے ریلوے کے بحران کی زد میں آکر ٹرین بند ہوئی پھر یہ طویل ٹریک بھی غائب ہوگیا ،قومی ترقی کے نام پر ایسا زوال ہم نے زندگی میں نہیں دیکھا ،پھر جنوبی پنجاب کے مکینوں کی صوبہ بنانے کی آواز بلند ہوئی تو ہر حکومت نے انکو لولی پاپ دیکر خاموش کروادیا ۔تحریک صوبہ بہاولپور بھی ماند پڑ گئی جب پی ٹی آئی کی حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے نام پر کچھ انتظامی افسروں کی تعیناتی سے الگ صوبے کے وعدے کو نبھانے کی سیاسی چال چلی ۔حالانکہ ماہرین کے خیال میں جنوبی پنجاب کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے وہاں پر مقامی حکومتوں کے قیام کی ازحد ضرورت ہے, زبان کی بنیاد پر سیکرٹریٹ بنانے کا عملی مظاہرہ اسے اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ ملتان کے معاملات جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقوں سے بہت مختلف ہیں, البتہ اسکے کچھ نواحی پسماندہ علاقوں کو پرانی ریاست بہاولپور کی طرز پر بہاولپور کے ساتھ ملاکر نیا خود مالیاتی اورانتظامی لحاظ سے خودمختار صوبہ بہاولپور کے قیام کی ضرورت ہے ،جسے 18ویں ترمیم کے تحت اس کا این ایف سی ایوارڈ میں پورا حصہ بھی دیا جائے تو پھر جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے ازالے کی راہ نکلتی ہے ورنہ جو اب تک حکومتیں کررہی ہیں یہ محض سیاسی شعبدوں کے سوا کچھ نہیں ۔تاریخی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو قائد اعظم محمد علی جناح نے ریاست بہاولپور کو صوبے کے مساوی نظام کے برقرار رکھتے ہوئے ترقی دینے کی بات کی تھی ،لیکن اقتدار پرست سیاستدانوں نے قائد اعظم کے وژن کے برعکس ریاست بہاولپور کی حیثیت ختم کرکے اسکو پسماندہ رکھنے کا سامان پیدا کردیا۔بہاولپور کی تاریخی حیثیت اور نواب بہاولپور کی قائد اعظم محمد علی جناح سے وفا تقاضا کرتی ہے کہ اسکی “ریاست “کی سابق پوزیشن اگر بحال نہیں ہوسکتی تو اسے صوبے کا درجہ ضرورملنا چاہئے۔قیام پاکستان کے وقت ریاست بہاولپور کو پاکستان میں شامل کرانے پر رضا مندی سے لے کر ملکی معاملات چلانے بشمول سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے کثیر مالی امداد نواب آف بہاولپور نے کی تھی ۔ریاست بہاولپور، برطانوی ہند میں ایک ریاست تھی۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد اس نے پاکستان سے الحاق کیا لیکن 1955ء تک اس کی ریاستی حیثیت برقرار رہی۔بعدازاں اسکی یہ حیثیت ختم کردی گئی جس کے بعد وہاں بہاولپور صوبہ بنانے کی مہم چلائی گئی ۔جنوبی پنجاب کے انتظامی امور کے حوالے سے بھی بہاولپور کو ہی مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔اس حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح نے ریاست بہاولپور کی خود مختار حیثیت برقرار رکھنے کی ہدایت دی تھی مگر ان کے انتقال کے بعد کسی نے بھی بہاولپور کی خود مختاری کو بحال کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی تحریک چلانے والوں نے بھی بہاولپور کے لئے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا ،اس حوالے سے صوبہ پنجاب میں جنوبی خطے سے تعلق رکھنے والے لوگ عرصہ دراز سے دو الگ صوبوں کا مطالبہ کرتےآرہے ہیں۔ ایک تحریک صوبہ بہاولپور جبکہ دوسری سرائیکستان صوبے کے قیام سے خطے میں بسنے والی اکثریتی سرائیکی آبادی کو پہچان دینے کی بات کرتی ہے۔حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس سلسلے میں سرگرم متحدہ جنوبی پنجاب محاذ سے اپنی حکومت کے پہلے سو دن میں صوبہ بنانے کا تحریری معاہدہ کیاتھا اور اسی بنیاد پر انہیں سیاسی طور پر اپنے ساتھ ملایا۔اس کے بعد حکومت نے جنوبی پنجاب یا بہاولپور صوبہ بنانے کی بجائے وہاں سول سیکریٹریٹ کے قیام کا اعلان کیا اور وہاں ایڈیشنل سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر محکموں کے سیکرٹری تعینات کردیے۔اس سیاسی قلابازی پر حکومت کو تو سیاسی فائدے حاصل ہوگئے تاہم جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے خاتمے کی جانب حقیقی پیش رفت نہ ہوسکی ۔اب وفاقی وزراء کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبے کی شکل دینا وزیراعظم کا عوام کے ساتھ کیا گیا وعدہ ہے ، ہم نے رولز آف بزنس میں ترامیم کر کے اختیارات کو منتقل کردیاہے ۔ملتان اور بہاولپور میں سیکریٹریٹ قائم کرکے افسران تعینات ہونے کے بعد کام کا آغاز بھی ہوچکا۔ان کا بیانیہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی سے جنوبی پنجاب صوبہ حقیقت کا روپ دھارسکتا ہے، اگرپیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے معاملے پر سنجیدہ ہے توبات چیت کرنے کیلئے تیارہیں۔
ان حالات میں اب تمام سیاستدانوں کو جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کو ختم کرنے کیلئے متفقہ طور پر لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت اس خطے کو مکمل مالیاتی خود مختاری دینے کے ساتھ انتظامی لحاظ سے بھی اسی علاقے کے لوگوں کو آگے لانا ہوگا اور کام کے لئے باقاعدہ نیا صوبہ بنانا اب ناگزیر ہے اس سے کم کوئی بھی اقدام محض جنوبی پنجاب کے عوام کےلئے کسی “لولی پاپ “سے زیادہ کچھ نہیں ۔(جاری ہے )

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

بیوروکریسی بمقابلہ ٹیکنالوجی ذہنیت میں خلل ڈال رہی ہے

تحریر اکرام سہگل ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے باوجود ہمارے سرکاری اداروں کا نقطہ نظر، ہمارے...

حکومت عوام دشمنی پر اُتر آئی ہے !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدعوام کی بے لوث خدمت کرنے کی دعویدار حکومت نے اپنے قیام کے صرف تین ماہ کے ابتدائی...

پاک سر زمین کا نظام

زاد راہ ۔۔سیدعلی رضا نقوی پاکستان کے نظام کی خرابیوں کو ہم سب اکثر آشکار کرتے ہیں...

سر سبز و شاداب شہر

منشاقاضیحسب منشا شہروں کی آبادی بڑھ جانے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں , وہ لوگ کتنے خوش...

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...