Home بلاگ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ازالہ کیسے ہوگا ؟ (دوسری اور آخری...

جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ازالہ کیسے ہوگا ؟ (دوسری اور آخری قسط)

روداد خیال

صفدر علی خاں

۔

تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے جب اپنے سیاسی کارڈ کے طور پر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا نعرہ مستانہ لگایا ,وہیں انہوں نے کبھی کھل کر تو کہیں درپردہ اپنے ہی اس اعلان کی مخالفت بھی کرڈالی ۔60برسوں سے جنوبی پنجاب کے مسائل اسکی خود مختاری سے جڑے ہوئے ہیں ،کئی نسلیں ان محرومیوں کے ازالے کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہیں لیکن حکمران اشرافیہ صرف اپنا مطلب نکالنے کی خاطر اعلانات اور منصوبہ بندی کا اعلان کرکے اقتدار کی مدت پوری کرتی چلی آرہی ہیں ،اب تک کے حالات میں تو اس کے سوا کوئی پیشرفت نہیں دیکھی جاسکتی کہ جنوبی پنجاب کے ووٹ بینک کو ہتھیانے کی خاطر دلفریب وعدے اور منصوبے بناکر پیش کرتی رہیں ،پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے تئیں بڑا تیر مارا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بناکر اسے صوبے کے مساوی قرار دینے کی مہم چلادی تاہم اپوزیشن نے اس کی حقیقت کھول کر رکھدی ،اس پر بھی کوئی خاص پیش رفت نہیں دیکھی جاسکی ۔دوسری جانب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے بھی تو اپنے اپنے دور حکومت میں یہی کچھ کیا اور اب تک ایسا ہی چلن اختیار کررکھا ہے ۔جنوںی پنجاب صوبے کی جغرافیائی حدود کا تعین ہی نہیں کیا جاسکا ۔پارلیمان میں بل بھی پیش ہوتے رہے ،قراردادیں بھی منظور ہوئیں اور یہی سیاستدان اپنے ہی موقف پر یوٹرن لیتے ہوئے جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے پائیدار حل، اسکو الگ صوبے کا درجہ دینے کے اپنے ہی اعلان سے پیچھے ہٹتے چلے گئے ،گزشتہ دنوں سینیٹ کے اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کا بل پیش کرنے کا معاملہ بھی سیاستدانوں کے اسی رویے کا شکار ہوا ہے ۔سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے قانون ساز رانا محمود الحسن نے پی ٹی آئی اور پی پی پی کی حمایت میں جنوبی پنجاب الگ صوبہ بنانے کیلئے پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا۔تاہم ان کی ہی جماعت کے ساتھی قانون ساز، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس کی مخالفت کرڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ نئے صوبے بنانے سے ایک پنڈورا باکس کھل جائے گا جس کا وفاق متحمل نہیں ہو سکتا۔
یہ بتاتے ہوئے کہ یہ وہیں نہیں رکے گا، انہوں نے نشاندہی کی کہ 18ویں ترمیم نے صوبوں کو بااختیار بنایا ہے اور نوٹ کیا کہ مقامی حکومتوں کے ساتھ صوبوں کو بھی مضبوط کیا جانا چاہیے۔رانا محمود نے جنوبی پنجاب صوبے کا کیس پیش کرتے ہوئے ایوان سے تعاون طلب کیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لیے میلوں دور جانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایوان میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ مسئلہ اہم ہے اور انہوں نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی اپنی حکومت کے دوران بہاولپور صوبے کے قیام کے لیے سینیٹ سے بل پاس کرانے میں کامیاب ہوئی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں نہ کہ سیکرٹریٹ۔۔اس پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ اصولی طور پر وزیراعظم عمران خان جنوبی پنجاب صوبے کے حق میں ہیں لیکن بعض مسائل پر بات چیت اور حل کی ضرورت ہے۔انہوں نے چیئرمین سے کہا کہ وہ مزید غور و خوض اور سیاسی اتفاق رائے کے لیے بل کو متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بل پی ٹی آئی کی امنگوں کے مطابق ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت پہلے ہی جنوبی پنجاب کی شکایات کو دور کرنے کی جانب پیش قدمی کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ رِنگ فینسنگ کا تصور متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت جنوبی پنجاب کے لیے آبادی کے حساب سے ترقیاتی رقم مختص کی جائے گی اور رقم دوبارہ مختص کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بل کی منظوری سے نہ صرف جنوبی پنجاب کے عوام کی خواہش پوری ہوگی بلکہ وفاق بھی مضبوط ہوگا۔اپوزیشن لیڈر کے ایک ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے، قریشی نے کہا کہ سیاست میں کبھی دیر نہیں ہوتی، پی پی پی پر زور دیا کہ وہ اس کیلئے حکومت کی کوششوں پر تعاون کرے اور اس کی حمایت کرے۔وزیرخسرجہ نے مزید کہاکہ اگر بڑی سیاسی جماعتیں آگے بڑھیں تو ہم کوئی راستہ نکال سکتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جائے گا۔سینیٹ کے حالیہ اجلاس کی کارروائی میں وہی سب کچھ ہوا جو قبل ازیں ہوتا رہا ہے ۔پارلیمان میں اتفاق رائے کے نام پر مفاہمت کی بات کی جاتی ہے مگر حقیقت میں واقعی اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن نے جیسے کوئی سمجھوتہ کرلیا ہو،عوام کے سامنے باہمی مشاورت سے نیا صوبہ بنانے کی بات ضرور کی جا…

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

مایوس نہیں ہونا’ یہ نظام ضرور بدلے گا

تحریر؛ ناصف اعواناس وقت دیکھا جا سکتا ہے کہ ملک میں شدید سیاسی بحران ہے فریقین باہم دست گریبان ہیں اور...

حق کا انعام عقل سلیم

منشاقاضیحسب منشا وہ قافلے , وہ کارواں , وہ جماعتیں , وہ ادارے , وہ تنظیمیں جن...

عمران خان پورے کا پورا توشہ خانہ ہی کھاگئے: طلال چوہدری

 طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے ملک کا جو نقصان کیا ہے اس کے ازالے کے لیے قانونی کارروائی...

سابق وفاقی وزیر مرزا ناصر بیگ کا پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان

لودھراں : پی پی 224 اور 228 کےضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران سابق وفاقی وزیر مرزا ناصر بیگ نے...

واپسی کیلئے کسی لیگی رہنما کی اجازت نہیں چاہیے، نوازشریف کا حکم کافی ہے: اسحاق ڈار

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان واپسی کا فیصلہ نواز شریف کے کہنے پر کیا۔