Home بلاگ جنگ سے بچیں) نوید الہی)

جنگ سے بچیں) نوید الہی)

13 اپریل 1984 کی سرد و خاموش دوپہر تھی۔ بھارت نے چپکے سے سیاچن گلیشئیر کی بلند چوٹیوں پہ قبضہ کر لیا۔ یہ چوٹیاں خالی تھیں۔ ان پہ پاکستان یا بھارت کی فوج موجود نہ تھی۔ پاکستان امریکہ کے ہمراہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف مصروف تھا۔ جواباً پاکستانی فوج نے جوابی کاروائی شروع کر دی اور سیاچن پر ، جو کہ 20000 فٹ کی بلندی پر دنیا کا بلند ترین میدانِ جنگ سمجھا جاتا ہے، خون ریز جھڑپیں شروع ہو گئیں جو آج بھی جاری ہیں۔ یہاں پر پاکستان فوج بھارتی فوج سے پچھلے چالیس سال سے پامردی سے نبرد آزما ہے۔
جنرل ضیا الحق نے کہا تھا یہاں تو گھاس کا تنکا بھی نہیں اگتا تو ہم کیوں دونوں ممالک یہاں اپنے جوانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ نواز شریف نے بھی اس بے مقصد جنگ پر بے تحاشا وسائل کے ضیاع کو، جو کہ عوام کی تعلیم اور صحت پر خرچ ہو سکتا تھا، بے معنی قرار دیتے ہوئے دونوں فوجوں کو بیک وقت اس جگہ سے پیچھے ہٹنے کی تجویز دی تھی۔ بلکہ اس حد تک بھی کہا کہ اگر بھارت اس تجویز کو قبول کر لے تو پاکستان پہلے اپنی فوج پیچھے ہٹا لے گا۔
مگر بھارت یونہی رات کے اندھیرے میں اس ویرانے میں نہیں آ بیٹھا تھا۔ اس کا مقصد اس جگہ پر قبضہ کر کے کشمیر پر سودا بازی کرنا تھی۔
۲۰۰۸ کی بات ہے کنگز کالج لندن کے وار سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں میرے ایک انڈین ہم جماعت نے بتایا کہ پی ایچ ڈی کا ایک طالبعلم کشمیر پہ ریسرچ کر رہا ہے اور اسکا ایک لیکچر ہے، وہ سنتے ہیں۔ ہم دونوں اس کلاس روم میں چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ وہ پی ایچ ڈی کا طالبعلم بھی انڈین ہے۔ بہرحال دورانِ لیکچر اس نے بہت دردمندی سے سیاچن پر انسانی جانوں کے ضیاع پر تاسف کا اظہار کیا۔ اور بھارت کو سیاچن سے پیچھے ہٹنے کی تجویز دی۔ میں اس کی غیر جانبداری سے متاثر ہونے کو ہی تھا کہ اس نے آواز میں مزید درد بھرتے ہوئے تجویز کو مشروط کرتے ہوئے کہا کہ اسکے لئیے پاکستان کو بھی کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کے مطالبے پہ نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یعنی سیاچن کو خالی کرنے کے بدلے کشمیر دے دو۔
اس واقعہ کے تقریباً 14سال بعد امسال 12 جنوری کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انڈین فوج کے سربراہ جنرل منوج مکندا نراونے نے بیان دیا ہے کہ انڈیا سیاچن گلیشیئر سے فوج ہٹانے کے خلاف نہیں ہے۔ میں انکی اس تجویز سے متاثر ہونے کو ہی تھا کہ انہوں اس امن کی پیشکش کو مشروط کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے پیشگی شرط یہ ہے کہ پاکستان کو ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن (اے جی پی ایل) کو قبول کرنا ہو گا۔ یعنی جہاں تک بھارت قابض ہو کر بیٹھ گیا ہے اسکو بھارت کا حصہ مان لیا جائے۔ اب ایسے تو نہیں ہوتا نا۔ منوج صاحب !آپ کی پہلی بات اچھی ہے۔ دوسری بات ناحق ہے۔ امن کے لئیے مذاکرات کرنا اچھی بات ہے؛ ہمسایہ ملک کی زمیں پر غاصبانہ قبضہ کرنا ناجائز ہے۔
پاکستان کے عسکری و خارجی امور کے ذمہ داران کو اس پیشکش کا جواب احسن اور مدلل طریقے سے دینا چاہیے۔ بھارتی حکمتِ عملی کا پسِ منظر بھی دھیان میں رکھنا ہو گا۔ اس نے ہمیشہ پاکستان کی زمین کے حصوں پہ قابض ہو کر سودا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جارحیت کے بعد امن کا ڈھونگ رچایا ہے۔ جنرل منوج نے جو پیشکش کی ہے وہ سالہا سال پہلے کنگز کالج لندن کا بھارتی طالبعلم کر چکا تھا۔ یعنی یہ حکمتِ عملی مختلف ذرائع سے سالہا سال سے ہم تک پہنچائی جا رہی ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ 1971 کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول کے شمال میں آخری پوائنٹ این جے 9847 سے آگے کے علاقے میں زمینی طور پر سرحد کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی، لیکن اصولی طور پر نقشے میں اس پر اتفاق تھا اور اس سے آگے کے علاقے کے بارے میں غیر تحریری معاہدہ تھا کہ یہاں کوئی قبضہ نہیں کرے گا۔ مگر بھارت نے اسکی خلاف ورزی کی اور اس علاقہ پہ قابض ہو گیا۔ پاکستان کو مجبوراً اپنا علاقہ واگزار کرانے کے لئیے جنگ کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ اگر بھارت اس کو متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے 1982 کی پوزیشن پر واپس چلا جائے تو معاملہ طے ہو جائے گا۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد بھارت شدید دباو میں ہے۔ ادھر بھی بھارت نے غاصبانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ چین کے ساتھ اپنی متنازع سرحد جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول قرار دیا جاتا تھا اسے بین الاقوامی سرحد قرار دے دیا ۔ اسکا نتیجہ بھارت کے حق میں اچھا نہ نکلا۔
بھارت کو ان سرحدوں کی حفاظت کے لئیے لامحدود وسائل چاہئیے ہوں گے۔ مگر کورونا کی وبا نے اسکی معاشی حالت کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ غربت بڑھ گئی ہے۔ وہ اس مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان حالات میں اگر پاکستان سیاچن پر دباو بڑھاتا ہے تو چین کے لئیے بھارت کو مزید دباو میں لانا آسان ہو جائے گا۔ بھارت اس مصیبت سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ پاکستان کو اسے یہ راستہ دے دینا چاہیے۔ حل یہ ہے کہ بھارت غیر مشروط طور پر سیاچن پر 1982 کی پوزیشن پر واپس چلا جائے۔
پاکستان کی مجبوری ہے کہ اپنی سرحدوں اور زمین کی حفاظت کے لئیے اسے لڑنا پڑے گا۔ سیاچن پہ تنکا بھی نہ اگتا ہو مگر سرزمین تو وطن کی ہے۔ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ بھارت کے پاس دو راستے ہیں؛ ایک، دنیا کے بلند ترین گلیشئیر پہ قبضے کے نتیجے میں جنگ جاری رکھے ؛ دوم، 1982 کی پوزیشن پر واپس چلا جائے۔ دوسرا راستہ امن و آتشی کا راستہ ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ جنگ کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

جنگل کی خوشبو

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیمیں آرام دہ جو گر نرم و گداز جیکٹ اور ریشمی مفلر سے لیس ہو کر قریبی...

نہ سدھرے توسب بکھر جائے گا !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدتحریک انصاف صوائی اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان کے بعد سے شش وپنج میں مبتلا ہے ،اس بات...

نہ سدھرے توسب بکھر جائے گا

تحریر؛ راہیل اکبرلاہور والوں نے بھی عجیب قسمت پائی ہے اس شہر سے جتنے وزیر اعظم بنے ہیں شائد ہی پاکستان...

لاہور کا پہلا نمبر

تحریر؛ راہیل اکبرلاہور والوں نے بھی عجیب قسمت پائی ہے اس شہر سے جتنے وزیر اعظم بنے ہیں شائد ہی پاکستان...

سرائے ادب اور مقام اقبال

تحریر؛ ناصر نقویہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے ادب آداب پر بحث و مباحثہ تو ہوتا ہے اور دھواں دار ، چونکہ...