Home پاکستان ایم کیو ایم کے جاں بحق کارکن کی نماز جنازہ ادا، اہم...

ایم کیو ایم کے جاں بحق کارکن کی نماز جنازہ ادا، اہم رہنماؤں کی شرکت

کراچی میں سندھ بلدیاتی قانون کیخلاف گزشتہ روز احتجاج کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے جوائنٹ آرگنائزر اسلم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔

کراچی میں مبینہ طور پر پولی تشدد سے جاں بحق ایم کیو ایم کارکن اسلم کی نماز جنازہ میں پارٹی کے اہم رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

فاروق ستار:

ایم کیو ایم کے سابق رکن رکن اسمبلی فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل ہماری ماؤں، بہنوں پرتشدد کیا گیا، مظلوم قومیتوں پراس سے برا وقت کبھی نہیں آیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس، ریڈ زون میں جانا ہے تو میں پہلے جاؤں گا، اگرانصاف نہیں ہوا تو لاوا پک رہا ہے وہ پھٹے گا، کالے قانون کوواپس لو ورنہ وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ ہو گا، سول نافرمانی اور جیل بھروتحریک بھی شروع ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں پرتشدد کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔ ایم پی اے صداقت عباسی، بہنوں پرتشدد کی مذمت کرتا ہوں۔ پیپلزپارٹی، وزیراعلیٰ سندھ نے تمام حدوں کو پارکیا، متعصب پولیس کے ظالمانہ عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ایک اورتحریکی ساتھی ہم سے چھینا گیا ہے، پاکستان بنانے والوں کی موجودہ نسل کے سپاہی کوچھینا گیا۔

وزیراعظم نے ایم کیو ایم پاکستان کے احتجاج کے دوران پولیس تشدد کا نوٹس لے لیا

اُدھر وزیراعظم عمران خان نے سندھ پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم کے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد کا استعمال کرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

ٹویٹر پر بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ سندھ پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم کے پرامن احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کا نوٹس لیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھاکہ میں نے مظاہرین کے تشدد کے واقعے کی وزارت داخلہ، چیف سیکریٹری اور آئی جی سندھ پولیس سے مکمل رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ان واقعات کی رپورٹس ملنے کے بعد پُرامن مظاہرین پر تشدد میں ملوث ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا وفاقی وزیر امین الحق کو فون

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر امین الحق کو ٹیلفون کر کے گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے پیش آنے والے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات کسی صورت نہیں ہونے چاہئیں، سیاسی اختلافات کا حل بات چیت اور سیاسی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔

بات چیت کے دوران وزیراعلیٰ سندھ اور امین الحق میں اتفاق ہوا کہ اس واقعے کو لسانیت کا رنگ نہیں دیا جائے گا، دونوں رہنماؤں کی جانب سے لسانیت کے حوالے سے بیانات کی مذمت بھی کی گئی۔

علاوہ ازیں واقعہ میں اگر کوئی جاں بحق ہوا ہے تو پوسٹ مارٹم کرانے پر بھی مشاورت کی گئی، وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کرنے سے موت کا جو بھی سبب ہوگا وہ سامنے آجائے گا۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے گزشتہ روز کے واقعے میں زخمی ہونے والے متحدہ کے رکن صوبائی اسمبلی صداقت حسین کو بھی فون کر کے ان کی خیریت معلوم کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل( آئی جی) سندھ پولیس اور کمشنر کراچی کے ساتھ اجلاس کیا جس میں گزشتہ روز پیش آئے واقعے پر تفیصلی بات چیت کی۔

ترجمان وزیراعلیٰ کے جاری بیان کے مطابق مراد علی شاہ نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی سربراہی میں کمیٹی قائم کریں، انکوائری کمیٹی میں جس کے خلاف بھی زیادتی کے ثبوت ملے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ شہر کا امن حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ایم کیو ایم کے احتجاج کے دوران تشدد

واضح رہے کہ گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے حکومت سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی ریلی پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا تھا، لاٹھی چارج کے دوران ایک کارکن جاں بحق جبکہ خواتین سمیت متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے تھے، اور رکن صوبائی اسمبلی سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان آج یوم سیاہ منانے کا اعلان بھی کیا تھا۔

گزشتہ روز ایم کیو ایم نے شاہراہ فیصل سے اپنے احتجاج کا آٖغاز کیا اور مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ ہاوس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا تھا، مظاہرے میں پارٹی رہنماں، اراکین اسمبلی، خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ایک سینئر پولیس اہکار نے بتایا کہ پولیس نے ایم کیو ایم قیادت سے مذاکرات کیے تھے اور ان کو ریڈ زون سے ہٹ کر کراچی پریس کلب کے سامنے جانے کا کہا تھا۔

اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا، جس کے بعد مجبور ہو کر پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایکشن لیا اور لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

افسر کا مزید بتانا تھا کہ کئی لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا مگر صحیح تعداد معلوم نہیں ہے کیونکہ زیر حراست لوگوں کو مختلف تھانوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین اور پولیس اہلکار سمیت 3 لوگوں کو طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال لے جایا گیا تھا ۔

ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ ان کا ایک کارکن محمد اسلم ہسپتال میں دوران علاج انتقال کرگیا ہے۔ پولیس نے ان کے اراکین اسمبلی اور خواتین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ ایم کیو ایم کے کئی قانون سازوں اور کارکنوں کو نا معلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

ایم کیو ایم نے سندھ حکومت کو فاشسٹ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ اور پی پی کی متعصب قیادت کی ایما پر ہمارے پر امن کارکنوں پر حملہ کیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما عامر خان نے ویراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے فوری طور پر مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

علاوہ ازیں اپوزیشن کی کئی جماعتوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف پولیس کی کارروائی کی سخت مذمت کی جبکہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایم کیو ایم کے احتجاج کے دوران پولیس کے ایکشن کو بربریت قرار دیاہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

سندھ کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیاں کب سے ہوں گی؟ اعلان ہوگیا

سندھ بھر کے اسکولز اور کالجز میں سردیوں کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا۔ سندھ کے...

نئے ایڈمنسٹریٹر کراچی کیلئے ڈاکٹر سیف الرحمان کا نام فائنل ہو گیا

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی میں نیا ایڈمنسٹریٹر آج تعینات ہونے کا امکان ہے جس کے لیے نام بھی فائنل کر لیا...

دوہرے قتل کا ملزم فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے فرار

دوہرے قتل کا ملزم فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق طبیعت...

پی پی کا سیاسی ایڈمنسٹریٹر ہٹاکر ایم کیو ایم کا لگایا جا رہا جو قبول نہیں: حافظ نعیم

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم...

‘سسرال میں ہی رہتی ہوں’، صبا فیصل کے تعلق ختم کرنیکے اعلان کے بعد ‘بہو’ نے خاموشی توڑ دی

سینئر اداکارہ صبا فیصل کی جانب سے بیٹے سلمان فیصل اور بہو نیہا سلمان سے ٹعلق ختم کرنے کے اعلان کے...