Home پاکستان سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کا شور شرابا، ایوان سے واک آؤٹ

سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کا شور شرابا، ایوان سے واک آؤٹ

جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد کا وقفہ سوالات کے دوران وزیر کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سینیٹ اجلاس میں اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن شور شرابا کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرگئی۔

ڈپٹی چئیرمین مرزا آفریدی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا جس میں جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے وقفہ سوالات کے دوران وزیر کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر موصوف یہاں کیوں نہیں، کیا ہم فارغ ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ منسٹر کی دیکھا دیکھی سیکرٹریز بھی نہیں آتے۔

قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے جواب دیا کہ ہیلتھ کا وزیر نہیں بلکہ معاون خصوصی ہے، معاون خصوصی ایوان میں نہیں آتے بلکہ وزیر ان کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔
اپوزیشن نے ایوان میں شور شرابا کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی۔ ڈپٹی چیئرمین نے اپوزیشن اراکین کو منانے کیلئے سینیٹر اعجاز چوہدری و انوارالحق کو بھیجا لیکن اپوزیشن ارکان ایوان میں واپس نہ لوٹے، جس پر گھنٹیاں روک دی گئیں اور ایوان میں ممبران کی گنتی ہوئی تو کورم نامکمل نکلا، جس پر ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنے کے بعد دوبارہ شروع کردیا جس میں صرف حکومتی سینیٹرز شریک ہوئے۔

واک آؤٹ کے بعد شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جو اپوزیشن کے بغیر اجلاس چلا رہی ہے اسکی کوئی حیثیت نہیں، حکومت اپنی خود جگ ہنسائی کر رہی ہے، اگر حکومت نے ایسا کرنا ہے تو اپویشن ہرگز ان کے ساتھ نہیں بیٹھے گی اور ہم باہر اجلاس کریں گے۔ مرزا آفریدی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا جس میں جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے وقفہ سوالات کے دوران وزیر کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر موصوف یہاں کیوں نہیں، کیا ہم فارغ ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ منسٹر کی دیکھا دیکھی سیکرٹریز بھی نہیں آتے۔

قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے جواب دیا کہ ہیلتھ کا وزیر نہیں بلکہ معاون خصوصی ہے، معاون خصوصی ایوان میں نہیں آتے بلکہ وزیر ان کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔
اپوزیشن نے ایوان میں شور شرابا کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی۔ ڈپٹی چیئرمین نے اپوزیشن اراکین کو منانے کیلئے سینیٹر اعجاز چوہدری و انوارالحق کو بھیجا لیکن اپوزیشن ارکان ایوان میں واپس نہ لوٹے، جس پر گھنٹیاں روک دی گئیں اور ایوان میں ممبران کی گنتی ہوئی تو کورم نامکمل نکلا، جس پر ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنے کے بعد دوبارہ شروع کردیا جس میں صرف حکومتی سینیٹرز شریک ہوئے۔

واک آؤٹ کے بعد شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جو اپوزیشن کے بغیر اجلاس چلا رہی ہے اسکی کوئی حیثیت نہیں، حکومت اپنی خود جگ ہنسائی کر رہی ہے، اگر حکومت نے ایسا کرنا ہے تو اپویشن ہرگز ان کے ساتھ نہیں بیٹھے گی اور ہم باہر اجلاس کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

بیوروکریسی بمقابلہ ٹیکنالوجی ذہنیت میں خلل ڈال رہی ہے

تحریر اکرام سہگل ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے باوجود ہمارے سرکاری اداروں کا نقطہ نظر، ہمارے...

حکومت عوام دشمنی پر اُتر آئی ہے !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدعوام کی بے لوث خدمت کرنے کی دعویدار حکومت نے اپنے قیام کے صرف تین ماہ کے ابتدائی...

پاک سر زمین کا نظام

زاد راہ ۔۔سیدعلی رضا نقوی پاکستان کے نظام کی خرابیوں کو ہم سب اکثر آشکار کرتے ہیں...

سر سبز و شاداب شہر

منشاقاضیحسب منشا شہروں کی آبادی بڑھ جانے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں , وہ لوگ کتنے خوش...

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...