Home بلاگ مہنگائی کی گاڑی روکنے والی تحریک

مہنگائی کی گاڑی روکنے والی تحریک

۔روداد خیال

صفدر علی خاں

((ن لیگ اور پی پی کا حکومت کے خلاف تمام آپشنز استعمال کرنے پر اتفاق))

((غریب کچلنے والی مہنگائی کی گاڑی کو بریک لگانے کی ضرورت ))

2018ء میں عوامی بہبود کے نام پر نیا پاکستان بنانے کے وعدے پر پی ٹی آئی کو اقتدار ملا ،نئے کام کرنے کی بجائے پرانے کھلاڑیوں نے اقتدار تک پہنچنے کی خاطرمحض عوام کو فریب دینے کا چلن اختیار کیا ۔عمران خان نے جن سیاستدانوں پر” اقتدار پرستی “کا الزام لگایا انہی کو چن چن کراپنی جیت یقینی بنانے کیلئے ساتھ ملایا ،حتی’ کہ جس سیاسی رہنما کے بارے میں برسر عام اعلان کیا کہ اسے تو میں چپڑاسی بھی نہ رکھوں “سب سے اہم وزارت انہی صاحب کو سونپ دی گئی ،ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے کوئی کام بھی نہ کیا ، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا کوئی بھی وعدہ نہیں نبھایا ،ملکی معاشی حالت بگڑتی چلی گئی ،مہنگائی اور بے روزگاری نے عام آدمی کی زندگی کو وبال بناکر رکھ دیا ۔ان حالات میں اپوزیشن جماعتوں نے عوام کو مشکلات اور مصائب سے نجات دلانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد میں بڑا سیاسی اتحاد بنانے کا اعلان کیا ۔اپوزیشن جماعتوں نے
20ستمبر 2020کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم )کی بنیاد رکھی ۔پی ڈی ایم نے اپنے بنیادی منشور اور مقاصد میں جن 26 نکات کو شامل کیا تھا ان میں اتحاد کا سب سے اہم مقصد عوامی دباؤ ڈال کر پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔پی ڈی ایم تحریک کا پہلا مرحلہ عوامی رابطہ تھا جس کے تحت چاروں صوبوں میں تقریبآ 20 جلسے کیے گئے۔ تحریک کا یہ مرحلہ کامیاب رہا کیونکہ جلسوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کی تقریروں میں بالعموم عوامی جذبات کی گونج بھی سنائی دی ۔چاروں صوبوں میں ہونے والی پہلی 5 ریلیوں نے تحریک کو اوپر اٹھانے میں کافی مدد فراہم کی لیکن دسمبر کی نہایت سرد اور بھیگی شام کو ہونے والا لاہور کاجلسہ توقعات پر پورا نہ اتر سکا ۔اسکے بعد لانگ مارچ کا معاملہ بھی سرد پڑتا چلاگیا اورمارچ کو مارچ تک ملتوی کردیا گیا۔مگر سب سے زیادہ بدانتظامی قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے معاملے پر دکھائی دی۔ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا کہ سینیٹ الیکشن میں رکاوٹ ڈالنے اور پی ٹی آئی کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے استعفوں پر غور کیا جا رہا ہے،جس پر پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑنے لگی اور آخر کا سے اے این پی کے بعد پیپلز پارٹی نے بھی اپنی راہیں اس تحریک سے جدا کرلیں ۔اپوزیشن اتحاد بکھرنے پر حکومت نےپے در پے عوام پر “پٹرول بم “گرائے جس سے اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں ہوشرباء اضافہ ہوتا چلا گیا ،بکھری اپوزیشن جماعتوں پر اسٹبلشمنٹ سے رابطوں کے الزام نے تو حکومت کو آئی ایم ایف کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا پورا موقع فراہم کیا ،حکومت نے ملک اور قوم کوعالمی مالیاتی ادارے کے پاس گروی رکھنے کی پوری تیاری کرلی ،اپوزیشن کیلئے حکومت کیخلاف یکجا ہوکر تحریک چلانے کا بھرپور جواز ہونے کے باوجود کچھ نہ ہوسکا ۔گزشتہ دنوں پھر ایک سرگرمی نظرائی جس سے امید پیدا ہونے لگی ہے کہ دوبڑی جماعتوں کے درمیان لاہور میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات اس لئے حوصلہ افزا ہیں کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے ملاقات کے دوران حکومت کے خلاف تمام آپشنز استعمال کرنے پر اتفاق کیا۔سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ماڈل ٹاؤن شہباز شریف کی رہائشگاہ پر پہنچے جہاں ان کی صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف اور مریم نواز سے ظہرانے پر ملاقات ہوئی۔ شہباز شریف کی جانب سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کو ظہرانے کی دعوت دی گئی تھی۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی اور ن لیگی قیادت کے درمیان ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ ہم نے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری ہے، نواز شریف کے دور میں بھی قرضے لیے گئے لیکن ترقیاتی کام ہوئے، موجودہ حکومت نے کھربوں روپے کے قرضے لیے لیکن کہیں ایک اینٹ نہیں لگائی۔شہباز شریف نے کہا کہ عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ کب اس حکومت سے ہماری جان چھڑوائیں گے موجودہ حکومت قرضے لینے کے سوا کچھ نہیں کر رہی، پاکستان کو تباہی سے بچانے کے لیے ہمیں متحد ہونا ہو گا۔عدم اعتماد کے حوالے سے پیپلز پارٹی کلیئر تھی تاہم عدم اعتماد کے حوالے سے ہماری پارٹی میں مختلف آراء تھیں۔ ہم گزشتہ تین سال سے اشاروں پر چل رہے ہیں، عدم اعتماد کے حوالے سے معاملہ سی ای سی اور پی ڈی ایم کے سامنے رکھیں گے،عدم اعتماد کے حوالے سے چند دن میں فیصلہ کر لیں گے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہباز شریف کیساتھ ملکر کام کرینگے ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کو ہٹانے کے لیے ہم ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ حکومت کی نااہلی سامنے آ رہی ہے اور شہباز شریف اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ حکومت سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور ہم نے پارٹی کی رائے کو ن لیگ کی قیادت کے سامنے رکھا ہے۔ عوام کی بہتری کے لئے ہم اکھٹے آگے بڑھیں گے ۔تاحال ان دونوں بڑی جماعتوں نے عوام کی خاطر ساتھ چلنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس کے نتیجے میں پی ڈی ایم کے پھر سے فعال ہونے کی صورت بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔عوام کی بہتری کے لئے اگر دونوں بڑی جماعتیں پرخلوص ہوکر آگے بڑھیں گی تو پھر عالمی مالیاتی ادارے کے اشارے پر ہونے والی ہوشرباء مہنگائی کو بریک لگ سکتے ہیں ،حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے لئے پٹرول ،بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھانے سے گریز کرے گی ،جیسے ماضی میں پی ڈی ایم کی تحریک میں جان دیکھ کر حکومت نے مہنگائی کی گاڑی کو بریک لگائے تھے ۔عوام کے لئے تو فی الحال اتنا ریلیف ہی بہت ہوگا کہ اپوزیشن کی کوئی تحریک مہنگائی کی گاڑی کو غریب کچلنے سے روک دے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

بیوروکریسی بمقابلہ ٹیکنالوجی ذہنیت میں خلل ڈال رہی ہے

تحریر اکرام سہگل ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے باوجود ہمارے سرکاری اداروں کا نقطہ نظر، ہمارے...

حکومت عوام دشمنی پر اُتر آئی ہے !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدعوام کی بے لوث خدمت کرنے کی دعویدار حکومت نے اپنے قیام کے صرف تین ماہ کے ابتدائی...

پاک سر زمین کا نظام

زاد راہ ۔۔سیدعلی رضا نقوی پاکستان کے نظام کی خرابیوں کو ہم سب اکثر آشکار کرتے ہیں...

سر سبز و شاداب شہر

منشاقاضیحسب منشا شہروں کی آبادی بڑھ جانے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں , وہ لوگ کتنے خوش...

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...