Home بلاگ ((دوسری اور آخری قسط )) مہنگائی کی گاڑی روکنے والی...

((دوسری اور آخری قسط )) مہنگائی کی گاڑی روکنے والی تحریک

روداد خیال
صفدر علی خاں

( ان ہائوس تبدیلی کے لئے فضا سازگار بنائی جارہی ہے)
(حکومت عوامی بہبود کی بجائے انتخابی مہم پر زیادہ توجہ دے رہی ہے )

عوام کو بہرحال کسی طرف سے کوئی ریلیف نہیں مل سکا ،
عوام سے کئے گئے وعدے وفا نہیں ہوسکے ،اب اقتدار کا آخری سال رہ گیا ہے اس کو پورا کرنے کے لئے نئے وعدے کئے جارہے ہیں ،نئے پراجیکٹس کی تشہیر ہورہی ہے ،کئی منصوبوں کا افتتاح کیا جارہا ہے ۔ہر حکومت کے پاس آخری سال الیکشن کی مہم چلانے کے حوالے سے بہت سازگار ہوتا ہے، جس میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے حکومتی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ۔حکمران اقتدار کی اگلی ٹرم کیلئے ریاستی وسائل کے استعمال سے گریز نہیں کرتے اس کا اب بھرپور مظاہرہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے دور میں دیکھنے میں آرہا ہے ۔
وزیراعظم عمران خان نے تو گزشتہ دنوں اپنی ہی زیر صدارت تحریک انصاف کی سینٹرل ایگیزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں عوامی رابطہ مہم چلانے کی ہدایت بھی کردی ہے ۔ اس اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے طریقہ کار پر بھی مشاورت ہوئی، بڑے شہروں میں مئیرز کے لیے ناموں کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا ساتھ ہی وزیراعظم نے عوامی جلسوں کا شیڈول تیار کرنے کی ہدایت دیدی۔وزیراعظم نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو منظم کیا جائے، ہمارے کارکنان پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہیں، تحریک انصاف ملک کی مقبول جماعت ہے، بلدیاتی انتخابات میں پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گے، عوام کے پاس پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی بہتر آپشن نہیں ہے۔
مہنگائی اس وقت پاکستان کے غریب عوام کا بنیادی مسئلہ ہے ۔صرف مہنگائی ہی نہیں ریاست کی عدم توجہی کے سبب کئی معاشرتی خرابیوں نے جڑ پکڑی ہے ،جیسے برائی میں برے لوگ بھی ایک دوسرے سے بدلحاظی برتنے لگے ہیں ،بقول شاعر ۔ع۔

بد لحاظی نے برائی میں بھی جڑ پکڑی ہے
اک ریا کار ریا کار سے بچ بچ کے چلا ۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ریاست کے عمومی کردار پر پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ بھی برہم دکھائی دیتی ہے ۔7فروری کو ہی سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکی۔اس حوالے سے اپوزیشن بھی سرگرم نظر آرہی ہے ۔ائینی طریقے سے ان ہائوس تبدیلی کے لئے فضا سازگار بنائی جارہی ہے ۔
گزشتہ دنوں سیاسی رابطوں اور جوڑ توڑ میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے ۔سابق صدر أصف علی زرداری کی چودھری برادران سے ملاقات کے بہت چرچے رہے ۔ق لیگ کو کیا پیش کش کی گئی اور چودھری شجاعت نے کیا جواب دیا اس حوالے سے تو آنے والے دنوں میں پیدا ہونے والی صورتحال سے ہی وضاحت ہوسکے گی ۔تاہم ان ہائوس تبدیلی کے بارے میں کئی باتیں ابھی سربستہ راز ہی رہیں گی ،ق لیگ یقینی طور پر حکمران اتحاد کی اہم جماعت ہے اس کو ساتھ ملانے کی کاوش تو ضرور ہوئی ہے تاہم اس حوالے سے کسی بھی قسم کی پیش رفت کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔کیونکہ ابھی بساط بچھی ہے اور کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔سابق صدر أصف علی زرداری نے اپنی چال انتہائی سلیقے سے چلنے کی کوشش کی قہے ،عوام کو بے تحاشا مسائل سے نجات دلانے کے حوالے سے اپوزیشن رہنمائوں کا اس وقت کھل کر ہمدرد چہرہ سامنے آیا ہے ۔عوام میں مقبولیت کے سارے حکومتی دعوے صرف پٹرول کے باربار نرخ بڑھانے پر ہی عملی طور پر صفر ہوکر رہ جاتے ہیں ،اب پھر عوام پر پٹرول بم گرانے کی حکومتی تیاریاں عروج پر ہیں ،ائی ایم ایف کی کڑی شرائط پر قرض لینے کیلئے جس تیزرفتاری کیساتھ کام کیا گیا ہے اس سے پیچھے ہٹنا حکومت کیلئے مشکل ہوگا ،حالات نیا رخ اختیار کررہے ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے صرف زبانی کلامی جمع خرچ کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آرہا ۔ان حالات میں ان ہائوس تبدیلی کاوار کارگر بھی ہوسکتا ہے اس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ (ن) لیگ کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف نے تحریک عدم اعتماد کی منظوری دیدی،شہباز شریف کو اس سلسلے میں اہم ٹاسک سونپ دیا اگیا ہے ۔ق لیگ کے سامنے آخری ااور حتمی فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے اور اس میں عوام کی بہبود کا فوری کام کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،ق لیگ کی قیادت اس حوالے سے کئی بار عوام کے بنیادی مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کی مشروط حمایت پر راضی ہوتی رہی ہے ،قبل ازیں اندرون خانہ ق لیگ کے حکومت سے ناراض ہونے کی کئی کہانیاں طشت ازبام ہوچکی ہیں ،اس وقت عوام کو فوری ریلیف کی اشد ضرورت ہے جس پر تمام محب وطن جماعتیں متفق ہیں ،اس اتفاق سے کسی وقت بھی” ان ہائوس”
تبدیلی سے قومی حکومت کا قیام بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے ۔برسر اقتدارجماعت کے لئے ان حالات کا غور سے جائزہ لیتے ہوئے عوام کو مہنگائی کے دلدل سے نکالنے کی کوئی فوری صورت پیدا کرنا ہوگی ۔عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے کا روایتی چلن اب حکمرانوں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔قوم کی نظریں حالات بہتر بنانے والی ایسی قیادت کی تلاش میں ہیں جو انکے لئے فوری ریلیف کی صورت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔

1 COMMENT

  1. Very true and just analysis . In fact the price control committees are on bribe and doing nothing . No check on prices there must be a limit of earning profit but every body in administration is sleeping .
    Any body can demand any unrealistic price after creating shortage and the needy person had to pay for it .

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

سندھ کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیاں کب سے ہوں گی؟ اعلان ہوگیا

سندھ بھر کے اسکولز اور کالجز میں سردیوں کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا۔ سندھ کے...

نئے ایڈمنسٹریٹر کراچی کیلئے ڈاکٹر سیف الرحمان کا نام فائنل ہو گیا

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی میں نیا ایڈمنسٹریٹر آج تعینات ہونے کا امکان ہے جس کے لیے نام بھی فائنل کر لیا...

دوہرے قتل کا ملزم فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے فرار

دوہرے قتل کا ملزم فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق طبیعت...

پی پی کا سیاسی ایڈمنسٹریٹر ہٹاکر ایم کیو ایم کا لگایا جا رہا جو قبول نہیں: حافظ نعیم

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم...

‘سسرال میں ہی رہتی ہوں’، صبا فیصل کے تعلق ختم کرنیکے اعلان کے بعد ‘بہو’ نے خاموشی توڑ دی

سینئر اداکارہ صبا فیصل کی جانب سے بیٹے سلمان فیصل اور بہو نیہا سلمان سے ٹعلق ختم کرنے کے اعلان کے...