Home بلاگ اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق :حکومت کی پہلی شکست

اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق :حکومت کی پہلی شکست

۔۔ روداد خیال ۔۔۔۔۔

صفدر علی خاں

(سیاست کے کھیل میں سارے پتے شو نہیں کئے جاتے )

(حکومتی اتحادیوں سے اپوزیشن کے رابطوں میں تیزی)

پاکستان میں عوام کو ریلیف دینے کی فوری صورت پیدا کرنے والے سوال کا تاحال کوئی خاطر خواہ جواب نہیں مل سکا ۔عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال کر اقتصادی بہتری کے دعوے کرنے والوں کی حقیقت بھی اب کھل کر سامنے آرہی ہے ،ملک میں ہرسال نیا بجٹ پیش کرکے جس طرح عوام کو گمراہ کرنے کا چلن اختیار کیا جاتا رہا اب اس کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں جس طرح اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں عام آدمی کو الجھاکر اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا ان کی حقیقت آشکار ہوچکی ہے ۔عالمی سطح پر مہنگائی کا راگ الاپ کرپاکستان کا یورپ سے موازنہ کرنے والا طریقہ بھی غیر موثر ہی رہا ۔اب وزیر خزانہ شوکت ترین پٹرول کے نرخ بڑھانے کی بات نئے ڈھنگ سے کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ مصنوعی طریقے سے پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانا ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ ہے یعنی وزارت خزانہ اب یہ چاہتی ہے کہ ملک میں مسلسل تیزرفتاری سے آئی ایم ایف کے اصرار سے قبل پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے اور وقتی طور پر بھی بریک نہیں لگنے چاہئیں ۔حکومت کے انہی اقدامات کے سبب عوام اس سے متنفر ہورہے ہیں اور اس صورتحال پر اب اپوزیشن نے بھی فیصلہ کن کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے ۔سیاسی حالات میں تحریک کسی نئی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہونے جارہی ہے ،دوبڑی جماعتوں کے حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اصولی اتفاق کے بعد سیاسی حالات تیزی سے حکومت کے خلاف نئے مورچے بنانے کی راہیں کھول رہے ہیں ،اہم حکومتی اتحادیوں سے اپوزیشن کے رابطوں کے بعد حکومت سے ناراض انکے کچھ اپنوں نے بھی بیک ڈور چینل اپوزیشن سے رابطے کرلئے ہیں ،اسکے ساتھ ہی جہانگیر ترین جیسے گروپ بھی اڑان بھرنے کی خاطر پھڑپھڑاتے نظرآ رہے ہیں ،حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے شور میں کئی محاذ کھل گئے ہیں ،خود شائد اپوزیشن کو بھی ایسی توقع نہ تھی مگر یہ سب کچھ جس تیز رفتاری کیساتھ ہورہا ہے اس میں سب سے بڑی وجہ مہنگائی ہے ۔حکومت نے آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر اندھا دھند عملدرآمد کی ٹھان رکھی ہے جس کے تحت ملک میں بجلی ،گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ کرنا ہے ۔عوام کے لئے مسلسل مہنگائی کا عذاب اب ناقابل برداشت ہورہا ہے ،عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتے دیکھ کر اپوزیشن نے حکومت کے عذاب سے انہیں نجات دلانے کا نعرہ بلند کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع کردی ۔سیاسی سرگرمیوں میں تیزرفتاری آنے پر تحریک عدم اعتماد لانے کے مرحلے تک طے کئے جارہے ہیں ،شنید ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کی ابتدا اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ہوگی۔اسپیکر کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے گی، اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آخری مرحلے میں لائی جائے گی۔واضح رہے کہ فوری عدم اعتماد کا فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور لیگی رہنما میاں شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا تھا، نواز شریف نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی منظوری دی تھی۔اب چونکہ پی ڈی ایم سے الگ ہونے کا بنیادی جواز تحریک عدم اعتماد لانے پر باہمی رضا مندی کے سبب ختم ہوگیا ہے تو اصولی طور پر پیپلزپارٹی کے پی ڈی ایم میں واپسی کی راہ میں سردست کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ،اے این پی کے ساتھ بھی تیزرفتاری سے ہونے والے رابطے اس حوالے سے بڑی پیشرفت کا باعث ہونگے ،ایک دوسرے سے ناراض سیاسی جماعتوں کے یکجا ہوکر تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کرنے کے حوالے سے اب کوئی “موثر کارروائی” ہونے والی ہے ،ملکی معیشت کی سمت کو درست نہ کرسکنے پر حکمراں جماعت کے لئے انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے ،اس وقت تمام فریقین کے پاس وقت بہت کم ہے ،تحریک عدم اعتماد بھی اگر اپوزیشن نے لانی ہے تو اسکے لئے فوری طور پر اب اپنے پتے شو کرکے گیم کو آگے بڑھانا ہوگا ورنہ اپوزیشن کے ہاتھ میں لگے بڑے “پتے “حکمرانوں نے پہلے دیکھ لئے تو بازی پلٹنے کے امکانات بڑھ جائیں گے اسکے بعد اپوزیشن کی ساری احتجاجی تحریک کو نقصان پہنچے گا ۔حکومتی ارکان بھی کوئی توڑ کرنے کے لئے نئی چال سوچ رہے ہیں۔ اس پورے سیاسی کھیل میں نمبرز کے حوالے سے کام مخفی ہے ،وزیراعظم نے آصف علی زرداری کے چیک سے ارکان کی خریداری کا انکشاف تو کیا گیا ہے مگر یہ خود حکومت کو بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ کون کہاں پر کس کے ساتھ کھڑا ہے ،جہانگیر ترین گروپ کو ہی لے لیجئے ابھی تک پورے گروپ نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے تمام بڑے اور بولڈ فیصلوں کا اختیار جہانگیر ترین کو سونپ دیا ہے ۔اسی طرح چودھری شجاعت کے حکومتی اتحاد میں شمولیت کے باوجود حکومت سے تندوتیزمطالبات ایک نئی کہانی سنارہے ہیں
اب تو پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد لانے کا باقاعدہ اعلان بھی کردیا ہے ۔پی ڈی ایم کے ہنگامی اجلاس کے بعد صحافیوں کو فضل الرحمان نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے ملکر کیا ہے ۔
اسکے لئے حکومت کی حلیف جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے کہ وہ حکومت سے اپنا اتحاد ختم کریں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو نئی حکومت ڈیڑھ سال کے لیے ہو گی یا فوری اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی، اس پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم سارے کارڈ تھوڑی دکھائیں گے” پی ڈی ایم نے پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر چلنے کا بھی اعلان کیا ،اپوزیشن نے تاحال اپنے سارے کھیل کو ایوان میں میں مرحلہ وار کھیلنے کا جو فیصلہ کیا ہے بظاہراسے عوامی حمایت بھی حاصل ہے کیونکہ حکومت عوام پر نازل مہنگائی کا عذاب ٹالنے میں یکسر نا کام رہی ہے ۔اپوزیشن جماعتیں فی الحال اپنے باہمی تنازعات کو فراموش کرکے عوام کو بے تحاشا مسائل سے نجات دلانے کے نام پرتحریک عدم اعتماد لانے پر متفق ہوچکی ہیں ،سیاست کے اس پہلے رائونڈ میں یوں حکومت کی یہ پہلی شکست قرار دی جاسکتی ہے ۔

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

سندھ کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیاں کب سے ہوں گی؟ اعلان ہوگیا

سندھ بھر کے اسکولز اور کالجز میں سردیوں کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا۔ سندھ کے...

نئے ایڈمنسٹریٹر کراچی کیلئے ڈاکٹر سیف الرحمان کا نام فائنل ہو گیا

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی میں نیا ایڈمنسٹریٹر آج تعینات ہونے کا امکان ہے جس کے لیے نام بھی فائنل کر لیا...

دوہرے قتل کا ملزم فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے فرار

دوہرے قتل کا ملزم فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق طبیعت...

پی پی کا سیاسی ایڈمنسٹریٹر ہٹاکر ایم کیو ایم کا لگایا جا رہا جو قبول نہیں: حافظ نعیم

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم...

‘سسرال میں ہی رہتی ہوں’، صبا فیصل کے تعلق ختم کرنیکے اعلان کے بعد ‘بہو’ نے خاموشی توڑ دی

سینئر اداکارہ صبا فیصل کی جانب سے بیٹے سلمان فیصل اور بہو نیہا سلمان سے ٹعلق ختم کرنے کے اعلان کے...