Home پاکستان ڈپریشن کی وہ حیران کن نشانیاںجو لوگ نظرانداز کردیتے ہیں

ڈپریشن کی وہ حیران کن نشانیاں
جو لوگ نظرانداز کردیتے ہیں

مگر کچھ ایسی علامات بھی ہوتی ہیں جن کے عام ہونے کے باوجود لوگ انہیں نظرانداز کردیتے ہیں۔

ان علامات کو جاننا یقیناً آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

ضرورت سے زیادہ خریداری
اگر چیزوں کی خریداری آپ کے کنٹرول میں نہ رہے اور آپ ضرورت سے زیادہ خرچہ کرنے لگیں تو یہ جان لیں کہ ڈپریشن کے شکار کچھ افراد میں یہ غیرمعمولی نہیں۔

اب وہ کسی دکان پر جاکر کریں یا انٹرنیٹ پر، اس طرح کی بے مقصد خریداری بنیادی طور پر اپنا ذہن بھٹکانے یا خوداعتمادی بڑھانے کے لیے کی جاتی ہے۔

مگر یہ ‘ریٹیل تھراپی’ مختصر المد ہوتی ہے کیونکہ اس سے ڈپریشن میں کوئی کمی نہیں آتی۔

بھلکڑ ہونا
ڈپریشن بھی بھولنے کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ ڈپریشن یا تناؤ کا تسلسل جسم میں ایک ہارمون کورٹیسول کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔

ایسا ہونے سے دماغ کا وہ حصہ سکڑ جاتا یا کمزور ہوجاتا ہے جو یادداشت اور سیکھنے سے منسلک ہوتا ہے۔

ڈپریشن سے جڑی یادداشت کی محرومی بزرگ افراد میں بدتر نظر آتی ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ ڈپریشن کے علاج سے اس سے جڑے یادداشت کے مسائل میں بہتری آتی ہے۔

انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال
دوبدو کی بجائے آن لائن لوگوں سے رابطے کو ترجیح دیتے ہیں؟ یا زندگی کا زیادہ وقت انٹرنیٹ کی نذر کردیتے ہیں؟

تو یہ بھی ڈپریشن کی علامت ہوسکتی ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق بہت زیادہ ڈپریشن اور انٹرنیٹ کے بہت زیادہ استعمال کے درمیان تعلق موجود ہے۔

بسیار خوری اور موٹاپا
امریکا کی الاباما یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ ڈپریشن کے شکار نوجوانوں میں جسمانی وزن کمر کے ارگرد بڑھنے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے جو امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔

دیگر تحقیقی رپورٹس میں ضرورت سے زیادہ خوراک جزوبدن بنانے بالخصوص درمیانی عمر کے افراد میں اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو ثابت کیا گیا ہے۔

ڈپریشن کے علاج سے ان مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

چیزیں اٹھانا
ہوسکتا ہے کہ یہ سننا عجیب لگے مگر ڈپریشن کے شکار افراد بلاوجہ خریداری کے دوران چیزیں اٹھا کر جیب یا بیگ میں ڈال لیتے ہیں۔

ایسا کرنے سے انہیں طاقت اور اپنی اہمیت کا احاس ہوتا ہے اور وہ ایسا سوچے سمجھے بغیر کرتے ہیں چوری کی جانے والی چیزوں میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

کمر درد
کمر میں ایسے درد کی شکایت ہے جو ختم نہیں ہوتا؟ تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ ڈپریشن سے زیریں کمر کے دائمی درد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دائمی کمر درد کے شکار 42 فیصد افراد کو اس تکلیف کے آغاز سے قبل ڈپریشن کا سامنا تھا/

چونکہ اکثر افراد میں ڈپریشن کی تشخیص نہیں ہوتی یا وہ اسے نظرانداز کردیتے ہیں تو لوگوں کو خیال نہیں آتا کہ یہ تکلیف اس سے جڑی ہوسکتی ہے۔

جذبات کا غلبہ
ڈپریشن کے شکار افراد اکثر بہت کم جذبات کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر جب کرتے ہیں تو وہ حد سے زیادہ ہوتے ہیں۔

وہ اچانک چڑچڑے یا مشتعل ہوجاتے ہیں، ان کی جانب سے اداسی، ناامیدی، فکر یا ڈر جیسے جذبات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

کچھ افراد کو لگتا ہے کہ ان کی کوئی اہمیت نہیں یا بے وجہ پچھتاوے کا سامنا کرنے لگتے ہیں، رویے میں یہ اچانک تبدیلی ڈپریشن کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔

تمباکو نوشی
ڈپریشن کے شکار افراد میں تمباکو نوشی کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے بلکہ وہ ضرورت سے زیادہ تمباکو نوشی کرتے ہیں۔

جتنا زیادہ ڈپریشن ہوگا اتنی زیادہ تمباکو نوشی کریں گے اور ان کے لیے اس لٹ کو چھوڑنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

اپنا خیال نہ رکھنا
ایسے افراد جن کو اپنی فکر نہیں ہوتی یہ بھی ڈپریشن اور خوداعتمادی کی کمی کی نشانی ہوسکتی ہے۔

ایسے افراد میں مختلف نشانیاں جیسے دانتوں کو برش نہ کرنا، امتحانات کو چھوڑ دینا یا امراض بشمول ذیابیطس کی فکر نہ کرنا قابل ذکر ہوتی ہیں۔

ڈپریشن کے علاج سے لوگ اپنا خیال بھی رکھنے لگتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

مایوس نہیں ہونا’ یہ نظام ضرور بدلے گا

تحریر؛ ناصف اعواناس وقت دیکھا جا سکتا ہے کہ ملک میں شدید سیاسی بحران ہے فریقین باہم دست گریبان ہیں اور...

حق کا انعام عقل سلیم

منشاقاضیحسب منشا وہ قافلے , وہ کارواں , وہ جماعتیں , وہ ادارے , وہ تنظیمیں جن...

عمران خان پورے کا پورا توشہ خانہ ہی کھاگئے: طلال چوہدری

 طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے ملک کا جو نقصان کیا ہے اس کے ازالے کے لیے قانونی کارروائی...

سابق وفاقی وزیر مرزا ناصر بیگ کا پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان

لودھراں : پی پی 224 اور 228 کےضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران سابق وفاقی وزیر مرزا ناصر بیگ نے...

واپسی کیلئے کسی لیگی رہنما کی اجازت نہیں چاہیے، نوازشریف کا حکم کافی ہے: اسحاق ڈار

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان واپسی کا فیصلہ نواز شریف کے کہنے پر کیا۔