Home بلاگ سیاسی سرگرمیوں میں تیزی ،بساط لپیٹنے کا خدشہ

سیاسی سرگرمیوں میں تیزی ،بساط لپیٹنے کا خدشہ

روداد خیال

صفدر علی خاں

پاکستان میں عوام کو مہنگائی کا عذاب دینے والے حکمرانوں سے نجات دلانے کے لئے سرگرم اپوزیشن کی سیاسی سرگرمیوں میں انتہائی تیزی دیکھنے میں آئی ہے ۔اپوزیشن رہنمائوں کے پارلیمانی گروپس کے رابطے ہوئے ہیں ،صرف لاہور میں ایک ہی دن میں کئی اہم سیاسی رہنمائوں نے یکے بعد دیگرے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جو صبح سے شام گئے تک جاری رہا ۔ایک روزپہلے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ن لیگ کی قیادت کے ساتھ لاہور کے بلاول ہائوس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لئے آئے تھے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کےلئے انتہائی مفید مشورے کئے گئے ۔ان ملاقاتوں کے بعد رات گئے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی گروپس کو اہم ٹاسک سونپ دیئے گئے،جس کے بعد
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے اپنے ایم این ایز سے دستخط کروانا شروع کردیئے ۔حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور صبح پھر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سمیت پیپلز پارٹی کی اہم قیادت پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئی ،شہبازشریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کے بڑوں کی بیٹھک ہوئی ہے جس میں حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے اہم مشاورت کی گئی۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شہبازشریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن وفد کے ہمراہ پہنچے، وفد میں اکرم درانی، مولانا اسد الرحمان اور مولانا امجد سمیت دیگر شامل تھے،ملاقات میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اہم فیصلے ہوئے ۔ان کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری بھی وفد کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن پہنچے، ان کے وفد میں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی سمیت دیگر شامل تھے۔آصف علی زرداری کی آمد سے قبل مولانا فضل الرحمان اور شہبازشریف کی ملاقات ہوئی، جس میں شہبازشریف نے سربراہ پی ڈی ایم کو گزشتہ روز پیپلزپارٹی سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ دونوں رہنماؤں نے تحریک عدم اعتماد سمیت حکومت کے خلاف مختلف امور پر غور کیا۔ذرائع کےمطابق اپوزیشن جماعتوں نے 24 حکومتی ممبران کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں ن لیگ نے 16، پیپلزپارٹی نے 6 اور جے یو آئی نے 2 ممبران کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔ذرائع کا کہناہےکہ اپوزیشن قیادت اپنے 86 ممبران قومی اسمبلی سے دستخط شدہ تحریک تیار کررہی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس اپنے 162 ممبران موجود ہیں اس لیے اپوزیشن کو مزید 10 ووٹو ں کی ضرورت ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد مارچ کے دوسرے ہفتے میں جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن کو 24گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لانے کا چیلنج دے رکھا ہے ،اس تناظر میں دیکھا جائے تو اگلے 24گھنٹے بھی انتہائی اہم ہیں ،تاہم اپوزیشن کے کچھ زیرک سیاسی رہنمائوں نے اپنے مجوزہ پلان کو کسی کے اشتعال دلانے پر تبدیل کرنے سے گریز کی حکمت عملی بھی اختیار کررکھی ہے ۔اپوزیشن کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ روس کے موقع پر تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی لیکن ایسا تو ہوا نہیں تاہم اس بیانیہ کی حیثیت صرف بیان بازی تک ہی محدود رہی ،اس پورے کھیل میں اب تک دوبڑی حریف جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹانے کی خاطر تمام اختلافات بھلا کر اتحاد کرلیا ہے یہ ایک طرح کی انتہائی غیر معمولی پیش رفت قرار دی جارہی ہے ،عمران خان کے خلاف پوری اپوزیشن عملی طور پر یکجان ہوگئی ہے ،اس موقع پر عمران خان کے ان تمام اپوزیشن جماعتوں پر اپنے خلاف مجوزہ اتحاد کے خدشات اب حقیقت بن گئے ہیں !
اس موقع پر سابق بیوروکریٹ اور ممتاز شاعر مرتضیٰ برلاس کا یہ شعر ہی شائد عمران خان کے جذبات کی ترجمانی کرسکے ،
ع۔۔۔
مرے رقیبوں میں ہے یوں تو اختلاف بہت

مرے خلاف مگر اتحاد کتنا ہے

اب عمران خان کے خلاف برسر اقتدار مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کا ایک صفحے پر ہونا کوئی تعجب والی بات بھی نہیں ،کیونکہ جب ان سب کے مفادات ایک دوسرے سے تعاون پر جڑے ہوئے ہیں تو یہ اس عہد حاضر کا تقاضہ بھی ہے ۔
شاعر مرتضیٰ برلاس ہی کا یہ شعر اس حقیقت کو طشت ازبام کررہا ہے ۔

ہے آج کل کے مراسم کا انحصار یہی
کسی کی ذات سے ہم کو مفاد کتنا ہے

۔عمران خان کو ہٹانے کے طریقہ کار پر بھی بادی النظر میں اب ان جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں رہا ۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی عوامی مسائل کا حل انہی دوبڑی جماعتوں کے حالیہ طریقہ کار سے حکومت گرانے
کے عمل کو ہی قرار دیتے ہوئے تہہ دل سے قبول کیا ہے اور وہ عملی طور پر اس بات کا برسر عام اظہار بھی کررہے ہیں ۔
اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف نے حکومت مخالف تحریک کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے ،مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں کے مابین بات چیت فضل الرحمان اور آصف زرداری کی ملاقات کے بعد ہوئی ، جس میں مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو آصف علی زرداری سے ملاقات میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کےحوالےسےاقدامات پراعتماد میں لیا۔ملاقات میں حکومت کے خلاف مشترکہ جدو جہد کے حوالے سے بات کی گئی اور مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو آصف زرداری کی تجاویز سے بھی آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے حکومت مخالف تحریک کو مزید تیز کرنے اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنے پرآمادہ کرلیا ہے ،یوں اب تک بکھری ہوئی اپوزیشن جماعتوں میں مکمل اتفاق رائے پیدا ہوچکا ہے ۔ دوسری جانب حکومت گرانے کا مشن لیے ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر بڑی بیٹھک میں اہم فیصلے ہوئے ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ فارمولے پر اتفاق کیا ہے ۔
قبل ازیں جب سابق صدر آصف علی زرداری وفد کے ہمراہ شہباز شریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پہنچے، جس میں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی سمیت دیگر شامل تھے ۔ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کا استقبال کیا۔
آصف علی زرداری اپنے وفد کے ہمراہ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ بھی جا پہنچے ہیں اور جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق سے مدد مانگ لی ہے۔اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے اہم مشاورت کی گئی تھی ۔ان ملاقاتوں کے بعد تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی حالات میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل ازوقت ہوگا ،تاہم اپوزیشن جماعتوں کے بھرپور اتحاد اور اہم حکومتی اتحادیوں کو ساتھ ملانے کی جاندار کاوشوں سے کسی بڑی تبدیلی کے آثار ضرور دکھائی دیتے ہیں ،کوئی فارمولا تو ضرور طے پاگیا ہے چاہے وہ ساری بساط لپیٹنے کے بعد کسی قومی حکومت کے ظہور پذیر ہونے پر منتج ہی کیوں نہ ہو ،کچھ تو ہونے والا ہے۔ اب بات بیان بازی سے کہیں آگے نکل گئی ہے ،اس میں کوئی مخفی پہلو بھی جلد آشکار ہونے والا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

توبہ کے مسافر (آخری حصہ )

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیمیں حیرت کے شدید جھٹکوں سے گزر رہا تھا میرے قلب و باطن میں بھونچال سا آگیا...

ماحولیاتی فنڈ کی منظوری،وزیراعظم کی کامیابی

تحریر؛ اسداللہ غالبہتھیلی پر سرسوں جمنا ایک محاورہ ہے، جس کا عملی مظاہرہ مصر میں منعقدہ ماحولیاتی کانفرنس کوپ 27 کے...

گہری سوچ بچار کی ضرورت

تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق چند روز قبل میں ایک پہاڑی کے پاس سے گزرا تو میرے دل...

کرپشن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے

تحریر ایم فاروق انجم بھٹہ عصر حاضر میں کئی ایک سماجی برائیاں نسل انسانی کو گھن کی...

راولپنڈی، کل صدر تا فیض آباد اسٹیشن میٹروبس سروس بند رہے گی

راولپنڈی میں کل صدر سے فیض آباداسٹیشن میٹروبس سروس بند رہے گی۔ انتظامیہ میٹروبس سروس کے مطابق...