Home بلاگ عام الحزن

عام الحزن

بقلم: امِ عبداللہ

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے دسویں سال آپ کے محبوب چچا جان حضرت ابو طالب رحلت فرما گئے۔ اس حادثے کے مختصر عرصے کے بعد ایک قول کے مطابق تین دن بعد اور بعض روایات کے مطابق ایک ماہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا بھی وفات پا گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی جدائی کو پوری امت کے لیے سانحہ قرار دیا۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس امت پر دو مصیبتیں ٹوٹ پڑیں اور میں فیصلہ نہیں کر سکتا کہ ان دونوں مصیبتوں میں سے کون سی میرے لیے بڑی مصیبت ھے۔ ان دونوں شخصیات کی قدر و منزلت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی وفات کے ذریعے سہنے والی جدائی کو عام الحزن قرار دیا ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والد کی جگہ پرورش کرنے والے چچا اپنے مضبوط وفادار  اور با عظمت حامی سے محروم ہو گئے اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ محبت کرنے والی مالی طور پر ھدیہ کرنے والی با کمال زوجہ رخصت ہوئیں۔ قرآن نے سورج الضحیٰ میں فرمایا ووجدک عاءلا فاغنی  (آپ کے پاس مال نہیں تھا ہم نے آپ کو غنی فر ما دیا).

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس میں جو مال حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی طرف سے ھدیہ ہوا اس کا تذکرہ ہے۔ یعنی ہم نے آپ کو ان کے مال کے ذریعے سے غنی کر دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جدائی سے متاثر ہو کر اس سال کو غم و اندوہ کا سال فرما دیا۔

 اسی طرح، میرے لیے بھی یہ سال 2021، اپنے شریک حیات، جو ساری حیات کے شریک نہ بن سکے،  کے بغیر یہ سال عام الحزن تھا۔

اگرچہ اللہ رب العزت کے بے شمار اکرام اور اور انعام اور نوازشیں بھی رھیں۔ اللہ رب العزت کی طرف سے جو قانون بنا گیا ہے کہ مرد کو گھر کا قوام و نگران بنا کر ساری زمہ داری ڈالدی گئی ہے اور عورت کو صنف نازک کی وجہ سے گھر کی شہزادی اور ملکہ بنا دیا، اسی ذات کے فیصلے ہیں۔  اس کے بہترین قوانین ھیں کہ اس نے پہلے والدین کو بچوں کے لیے سائبان بنایا پھر جب وہ کمزور ہونے لگتے ہیں تو ان بچوں کو اگر لڑکے ہیں تو بہو کی صورت میں اور اگر بیٹیاں ہیں تو داماد کے مضبوط ہاتھوں میں سائبان کی صورت میں سپرد کر دیا.

جگر مراد آبادی نے کہا: 

سائبان کے بغیر جدائی ایک کڑا مسئلہ ہے

بے کیف دل ہے اور جئے جا رہا ہوں میں

خالی ہے شیشہ اور پئے جا رہا ہوں میں

وہ دل کہاں ہے اب کے جسے پیار کیجئے 

مجبوریاں ہیں ساتھ دیئے جا رہا ہوں میں

دوسرے معاملات کی زمہ داری ایک الگ مسئلہ ہے۔

اے اللہ!  ہم کمزوری بندیاں جن پر آپ نے زمہ داری ڈالدی ہے، اس زمہ داری سے بارآور ہونا اور ادا کرنا بھی آسان فرمائیں۔

اللہم انما اشکوا بثی و حزنی الیک 

اے اللہ میں آپ کی طرف اپنا غم اور اپنا دکھ بیان کرتی ہوں

حضرت یعقوب علیہ السلام کو جب یاد یوسف نے بے تاب کیا تو اللہ رب العزت نے یہ دعا سکھا دی تھی۔ کہ بندے میری طرف اپنے غم اور پریشانی کو حوالے کر کے دیکھ کہ جس ذات نے ہی یہ مقدر کیا ہے۔ وہ آپ کے غم کو دور کرنے والا ہے 

اللہم انما اشکوا ضعف قوتی وقلۃحیلتی ھوانی علی الناس (اے اللہ میں اپنی کم قوت کا اور کم آ سانی کا اور لوگوں کی نظر میں کم وقعت کا شکوہ کرتی ہوں ) 

اس دعا کے ذریعے سے اللہ رب العزت بندے کو اپنی طرف رجوع کرنے کا شوق دلا رہے ہیں کہ تو اپنی عاجزی کمزوری اسباب کی کمی طاقت کی کمی لوگوں میں بے وقعتی کو مستحضر رکھو تو میں قدرتوں والا، مسبب الاسباب ، ذی قوۃ المتین،  ذی المعارج ذات ۔ تجھے قوت و توانائی ھمت صبر عطا کر دوں گا اور جس کا رب ہو جائے اس کے سب ہو جاتے ہیں۔

دادی جاں حضور کا لکھا ہوا مرتبہ جو دادا جان کی وفات پر لکھا میرے دل کی بھی آواز ہے۔

سنا ہے ٹوبہ کی قبروں کے اندر 

وہ لیٹے ہیں آرام سے منہ چھپا کر 

ذرا خواب میں آ کر صورت دکھا دو 

سب احوال اپنا خدارا سنا دو 

میرے دل کو آ کر تسلی ذرا دو

ٹھر جائے دل کوئی ایسی دوا دو 

خدایا کسے اپنے دل کی سناؤں

میرے دل میں ہے آگ کیسے بجھائوں 

زلیخا کا یوسف خدایا کہاں ہے

وہ دکھیا اکیلی ہے اور نیم جان ہے

پریشان ہے ویراں ہے اور نوحہ خواں ہے

کہ ہر وقت آنکھوں سے آنسوں رواں ہے 

ہر انسان پانی کا اک بلبلا ہے 

سدا کون دنیا کے اندر رہا ہے

جو آیا یہاں اس کو جانا پڑا ہے

ہمیشہ جو باقی رہے بس خدا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...