Home بلاگ قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال قافلہ ء نو بہار سلور جوبلی تقریب...

قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال قافلہ ء نو بہار سلور جوبلی تقریب کا چشم دید احوال

منشاقاضی
حسب منشا

آگاہی اور خود آگاہی دونوں اپنے اندر مطالب و معانی کا ایک جہان لیئیے ہوئے ہیں اور گذشتہ روز میں نے ہر فرد کو جہاں فرد فرید پایا وہاں میں نے ہر فرد میں پورا جہان دیکھا , میں بہت ساری تنظیموں کے سربراہوں سے ملا ہوں جن کی فلاحی سرگرمیوں کی صدائے باز گشت نصف صدی سے کانوں سے ٹکرا رہی ہے اور ان کا دائرہ کار بھی بہت وسیع ہے مگر ان کا ہوم ورک صرف قول کی حد تک پچانوے فیصد ہے اور عمل پانچ فیصد , یہاں صورت حال مختلف دیکھی ہوم ورک پہاڑ جتنا یعنی عمل ننانوے فیصد اور زور بیان ایک فیصد , میرے لیئے تعجب اور حیرت کی بات تھی , روٹریئن مریم زیدی PHF سیکرٹری نے بڑی بیساختگی سے تقریب کی کاروائی کا آغاز کیا اور تلاوت قرآن کریم کے بعد قومی ترانہ کے عمل سے گزر کر نقیب مجلس نے محترمہ مریم اعجاز صدر , روٹری گورنر سیف اللہ چوہدری , سابق روٹری گورنر شہزاد احمد , جناب عبدالحلیم اور میاں محمد زائد کے ساتھ بہت ہی فہیم و متین شخصیت جناب عتیق حارث جلوہ افروز تھے , سلور جوبلی تقریب کو جشن کا بھی نام دے سکتے تھے مگر مشن غالب رہا اگر میں اس کو مشن سلور جوبلی سے موسوم کروں تو بے جا نہ ہو گا ہر فرد ایثار و محبت کا پیکر دکھائی دیا , کشیدگی کی جگہ کشادگی اور رواداری کی باد بہاری چل رہی تھی , سارے روٹرئین 25 سالہ مشن سلور جوبلی پر اپنی ذات سے ہمکلام اور محاسبہ میں ڈوبے ہوئے تھے اور اپنے فلاحی کاموں پر نہ تو وہ اترا رہے تھے اور نہ احساس تفاخر کا شکار تھے اگر فکر مند تھے تو آئندہ کی پیش بندی کیونکر کرنی ہے اور اب آئندہ ہم نے اپنے ہدف کو کیونکر کامیاب و با مراد بنانا ہے , اور دکھی انسانوں کے درد کا کیسے درماں کرنا ہے , اس کلب کی جو گیریزن کے نام سے معروف ہے ایک خوبی جو انہیں ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ نصف کائنات کا احترام اور نصف کائنات کا حسن انتظام میں نے بہت پسند کیا ہے , صدر مریم سیکرٹری مریم دونوں کی الگ پہنچان اعجاز اور زیدی سے ہے عربی زبان میں آفتاب مونث ہے اور مہتاب مذکر ہے اس لیئے تذکیر و تانیث کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے سوائے اس کے اس کا کام بولتا ہے اور نام گمنام رہتا ہے , کیونکہ
آگاہی بولنے نہیں دیتی
لوگ زور بیاں مانگتے ہیں
پی ڈی جی عبدالحلیم اور سیکرٹری محترمہ مریم زیدی دونوں کی نقابت کا حسین امتزاج ماحول میں رنگ و نور اور یکسوئی ہمہ تن گوشی پیدا کر رہا تھا دونوں کے منہ سے پھول جھڑ رہے تھے مریم زیدی بول نہیں رہی تھی موتی رول رہی تھی , اس کے جچے تلے الفاظ میں اثر پذیری کی ایک وجہ یہ تھی وہ جو کچھ کہہ رہی تھی اس پر پہلے خود عمل کر چکے تھی اس کی اس سریع الحرکت عملی ادا نے توحوں کو شکار کر لیا اس کے بعد شبنم نے سبزہ ء پامال سے نہیں پوچھا کہ میں تمہیں نہال کروں پھر تو یہ انداز و اسلوب جس کی سب نے پیروی کی مریم زیدی کے بعد اسی کیفیت میں عفت مآب مریم اعجاز کا حسن بیان استقبالیہ کلمات کی صورت میں گراں بہا خدمات کے باوجود مزید کچھ کر گزرنے کا بلیغ عندیہ دے رہا تھا , مریم اعجاز کا یہ اعجاز ہے اور اعزاز ہے کہ وہ کہتی کم اور کرتی زیادہ ہیں اور پھر انہیں دوگونہ مسرت اس اعزاز پر ہو رہی تھی کہ ان کی صدارت کے دوران ہی سلور جوبلی کی پرشکوہ تقریب منعقد ہوئی ہے , مریم اعجاز نے اجتماعی تشکر کے کلمات ادا کرتے ہوئے آئندہ کے اہداف طے کرنے کی منصوبہ بندی کا بھی اظہار کیا , اور ان شاءاللہ آئندہ کے اہداف میں ڈاکٹر وقار نیاز کی شخصیت سے ملاقات اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے مسیحا جن کی تحقیق و جستجو بڑے خاصے کی چیز ہے ان کے کام جناب شہزاد احمد , عبدالحلیم , آغا نعمت اللہ , مریم زیدی کو صدر مریم اعجاز کی قیادت میں ملوائیں گی , شہزاد احمد کا تجربہ بول رہا تھا اور ان کے لیئے گفتگو کرنا اور سانس لینا یکساں تھا اور یہی کیفیت میں نے دبلے مگر شیر دل سیف اللہ چوھدری میں دیکھی جو ایثار کے ہمالہ اور قربانی کے پیکر متحرک تھے , ان کے ہت جملے کو گراں مایہ بنانے میں فینڈ ریزنگ کا کمال تھا اور یہ ہنر آپ نے شاعر مشرق سے سیکھا ہے جنہوں نے انجمن حمایت اسلام کے فلاحی منصوبوں کے لیئے ایک تقریب زیر صدارت ڈپٹی نذیر احمد منعقد کی اور اپنی معروف نظم نالہ ء یتیم کے ایک ایک شعر پر رقم کے انبار لگوا دئیے اور دوسرا شعر تب پڑھتے تھے جب مطلوبہ رقم سامعین پوری کر لیتے تھے , صدارتی کلمات میں ڈاکٹر نذیر احمد نے اپنے سر سے ٹوپی اتار کر لوگوں کے سامنے دراز کر دی اور صرف ایک ہی جملہ کہا کہ خواتین و حضرات یہ ٹوپی جو انگریز بہادر کے سامنے نہیں اتری وہ آج میں انجمن حمایت اسلام کے فلاحی منصوبوں کے لیئے تمہارے سامنے دراز کر رہا ہوں. یہ جملہ کیا تھا کہ عورتوں نے اپنے زیور اور مردوں نے سیم و زر کی فراوانیاں ڈپٹی نذیر احمد کے قدموں میں ڈھیر کر دیں اور جب شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی رقم جمع کی گئی تو اس پر ڈپٹی نذیر احمد کی رقم غالب آ گئی جس کا اعتراف خود اپنی زبان سے شاعر مشرق نے ان الفاظ میں کیا تھا کہ آپ کی نثر میری شاعری پر غالب آ گئی اعر آج میں اپنی آنکھوں سے اسی منظر کو جدید عہد کے تقاضوں کے مطابق دیکھ رہا تھا کہ سیف اللہ چوھدری کی تقریر پچاس ساٹھ لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے اور اس کی اثر ہذیری کی تحریک آن لائین جاری و ساری ہے , اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں یہا مجھے میرے ہمدم دیرینہ بلکہ محسن جناب میجر مجیب آفتاب بمعہ بیگم عذرا مجیب ملاقات ہو گئی , ڈاکٹر نوشین خالد کی دلنشین شخصیت تھوڑی دیر بیٹھ کر دبے پاؤں چلی گئی , شیخ پرویز اور آبرو کی جستجو میں اپنی آرزو جگانے والے بھی موجود تھے ,ڈاکٹر شاہینہ آصف کی موجودگی بھی نصرت و مدد کا بلیغ اشارہ دے رہی تھی Fahdel Sheikh Consul , a.h. اعزازی قونصلیٹ آف دی ریپبلک آف دی Fhilippines لاہور پاکستان خوبصورت عادتوں کے دلفریب انسان ہیں اور ہماری ایک شاعرہ جس کا مشہور شعر میں اکثر زیر لب گنگناتا رہتا ہوں
ہم تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
محترمہ کوثر تسنیم آج محسوس نہیں ہوئی دکھائی دی ہے ایک اور ہستی جو کبر سنی کے باوجود پانچ چھ کلو وزن کے تمغات و اعزازات سے پوری طرح ملبوس ہر ایک کی نگاہ کا مرکز بنے ہوئے تھے ان سے ملا تو انہوں نے اپنا نام PP . Rtn. M. Aslam Chishti بتایا جو 1992 سے 2019 تک روٹری انٹرنیشنل کنوینشن میں شرکت کرتے رہے ہیں اور صج بھی وہ پیری کے باوجود راولپنڈی سے سلور جوبلی میں ریکارڈ شرکت کی , کالم کی دوسری قسط میں مریم اعجاز کی معاونت سے معلوماتی تحریر آئے گی جس میں ڈاکٹر سجاد , ڈاکٹر نور الزماں , سلمہ ہاشمی , عائشہ اور روبنہ شکیل کی کاوش کو سراہا جائے گا , میں آخر میں محترمہ مریم اعجاز کا ممنون ہوں جنہوں نے میری بے پناہ عزت افزائی کی جو میرے لیئیے مسیحائی سے کم نہیں ہے , پہلی دفعہ کام کی جزا ملی ہے وگرنہ میں نے جہاں بھی سماجی کام ہمالہ صفت کیئے اس کا صلہ سزا میں ملا اوت آج بھی سزا بھگت رہا ہوں کئی گولڈ میڈلز اور شیلڈیں میرے اعزاز قرطاس پر ثبت ہیں لیکن روٹری گریزن کلب کی یہ شیلڈ میرے لیئے بہت بڑا اعزاز ہے , مکرر ممنون ہوں , تقریب دیر سے شروع ہوئی لیکن لذت کام دہان کے اسباب وقت مقررہ پر بالائی ہال میں چن دئیے گئے تھے اور اعلان کر دیا گیا کہ دوسری منزل پر عشائیہ تیار ہے لہذا دست خود دہان خود
جاری ہے , کسی شاعر کا ایک شعر منتظمین تقریب کے نام
انہیں یہ ضد ہے کہ چمن پر مسلط رہے گی خزاں
ہمیں یہ جنوں ہے کہ بہار لا کے چھوڑیں گے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ہر اسکریچ کارڈ پر 5 روپے اضافی وصولی، کمپنی کا مؤقف سامنے آگیا

پاکستان میں آپریٹ کرنے والی ایک غیر ملکی موبائل کمپنی نے اخراجات میں اضافے کو جواز بنا کر صارفین سے ہر...

فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آنے والے 5 پاکستانی عازمین انتقال کرگئے

مکہ مکرمہ : فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جانے والے 5 پاکستانی عازمین انتقال کرگئے۔

ملک میں سونا مزید سستا ہوگیا

ملک میں آج ایک تولہ سونے کی قیمت میں 350 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ سندھ صرافہ...

اسحاق ڈار کو نیا پاسپورٹ مل گیا، پاکستان واپسی کی تیاریاں بھی مکمل: ذرائع

ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نیا پاکستانی پاسپورٹ مل گیا۔ قابل...

انگلینڈ کے ورلڈکپ وننگ کپتان اوئن مورگن انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر

انگلینڈ کے ورلڈکپ وننگ کپتان اوئن مورگن نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ انگلینڈ نے مورگن کی...