Home بلاگ موسیقی

موسیقی

عنوان :موسیقی

تحریر :صادق انور میاں

موسیقی فن کی ایک شکل ہے جس میں آواز اور خاموشی کو وقت میں ایسے ترتیب دیا جاتا ہے کہ اُس سے سُر پیدا ہوتے ہیں۔موسیقی اسلام میں حرام ہیں یہ ہر کسی کو پتہ ہے اور ہر کوئی اس سے باخبر ہیں۔موسیقی مختلف مواقع پر سنی جاتی ہیں۔دو طرح کےلوگ موسیقی سننے کی گرویدہ ہوتے ہیں۔ایک عاشق لوگ جو مجازی عاشق ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو جذباتی ہوتےہیں۔ایموشنل جسے کہتے ہیں۔عاشق لوگ جب موسیقی سنتے ہیں تو ان کو ایک خوشی محسوس ہوتی ہے۔کیونکہ موسیقی میں ایک تو سر ہوتا ہے مطلب ساز کی اواز موسیقی کی اوزار کی اواز اور دوسری جانب شاعر کی شاعری۔عاشق لوگ جب موسیقی سنتے ہیں تو وہ اپنے خیالات میں اپنی سوچ میں اپنی محبوب کو لاتے ہیں۔اور یہ سوچتے ہیں کہ کاش ایسا ہوجائے کاش ویسا ہوجائے۔شاعر جو کہتا ہے اللہ کرے ایسا ہوجائے۔لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو کچھ بھی نہیں یونے والا۔شاعر جب بنتا ہے تو بھی دو وجوہات کی وجہ سے بنتا ہے ۔یا تو وہ مجازی عشق میں ناکام ہوتا ہے اور یا شاعر کی زندگی میں تکالیف اتی ہیں اور وہ ان تکالیف کو جھیلتا ہے اور اسی میں اخر کار شاعر بن جاتا ہے۔مجازی عاشق کی میں بتاتا چلو اس سے بڑا اور کوئی بے وقوف نہیں ہوتا۔ایک تو وہ مجازی شاعری سنتا ہے ۔اور دوسرا وہ اکثر اوقات ۔موسیقی کے دوران کوئی نشہ بھی کرتا ہے۔ایک زہن کی تباہی دوسرا صحت کی تباہی کرتا ہے۔موسیقی کسی بھی صورت سننا اسلام میں جائز نہیں ہے۔بعض جاہل کہتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے۔ان سے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قران میں کہتا ہے کہ خبردار اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔جب دل مطمئن ہو تو روح خوش رہتی ہے ، تو معلوم ہوا کہ روح کی غذا  ذکر ہے ، نہ کہ موسیقی جو حضرات کہتے ہیں کہ روح کی غذا موسیقی ہے وہ غلطی پر ہیں بلکہ روح کی غذا ذکر اور قرآن کریم ہے۔شاعر اپنی شاعری کرتا ہے اور سنگر اسے اپنی اواز میں گاتاہے۔شاعر بھی تباہی پر اور سنگر گانے والا بھی تباہی پر اور سننے والا بھی تباہی پر۔میں سمجھتا ہوں کہ آج کل کے جو شاعر حضرات ہیں اور جو سنگر ہیں ۔ایک تو وہ اپنے آپ کو مشہور کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور دوسرے اپنی زندگی کو تباہ کرنے پر۔شاعر شاعری کرتا ہے۔سنگر اپنی اواز میں گاتاہے اور سننے والوں کو پیش کرتا ہے ۔کس کو اسی مجازی عاشقان کو جو اس شاعر کو اور اس سینگر کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔شاعرحالات یا عاشقی کی وجہ سے شاعر بنا ہے اور سینگر کچھ پیسوں کیلئے سینگر بنا ہے تاکہ کچھ پیسے اکٹھا کرو۔سینگر تو کاروبار کرتاہے۔اپ سب نے دیکھا ہوگا کہ جب کسی امیر گھرانوں میں شادیاں ہوتی ہیں تو وہ سینگرز کا انتظام ضرور کرتےہیں۔اور سینگرز کی بہت بڑی ڈیمانڈز ہوتی ہیں وہ ایسے تو نہیں اتے وہ ایک پروگرام کے تقریباً 30000سے لیکر 50000تک روپیہ مانگتے ہیں پھر اتے ہیں ۔تو میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خدارا یہ فضول کی موسیقی کو کبھی سنجیدگی سے لیا کریں یہ تو کچھ پیسوں کیلئے اپنی اواز کی جادو گری کرتے ہیں۔سینگر کبھی عاشق نہیں ہوگا۔ہوگا بھی شاید لیکن زیادہ تر صرف پیسوں کے لئے سینگر بن جاتے ہیں ۔اور اس نوجوان نسل کی زندگی سے کھیلتے ہیں۔نوجوان تو جزباتی ہوتے ہیں۔جب بندہ جوانی کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کو سب کام اسان لگتے ہیں اور اچھے طریقے سے اس میں انوال ہوتے ہیں۔میں بڑے معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ یہ سینگرز آج کل نوجوانوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔نوجوان اگر کاروبار وغیرہ کرتا ہے تو زیادہ تر پیسہ ایسے محفلوں میں خرچ کرتا ہے ۔پیسوں کی تباہی،زندگی کی تباہی اور والدین کیلئے پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ موسیقی اسلام میں حرام ہے لہذا ہر کوئی یہ کوشش کریں کہ موسیقی سے دور رہا کریں تاکہ گناہوں سے بھی بچ سکے اور اپنی زندگی میں اپنے مقصد کو بھی پورا کرسکے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

بیوروکریسی بمقابلہ ٹیکنالوجی ذہنیت میں خلل ڈال رہی ہے

تحریر اکرام سہگل ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے باوجود ہمارے سرکاری اداروں کا نقطہ نظر، ہمارے...

حکومت عوام دشمنی پر اُتر آئی ہے !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدعوام کی بے لوث خدمت کرنے کی دعویدار حکومت نے اپنے قیام کے صرف تین ماہ کے ابتدائی...

پاک سر زمین کا نظام

زاد راہ ۔۔سیدعلی رضا نقوی پاکستان کے نظام کی خرابیوں کو ہم سب اکثر آشکار کرتے ہیں...

سر سبز و شاداب شہر

منشاقاضیحسب منشا شہروں کی آبادی بڑھ جانے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں , وہ لوگ کتنے خوش...

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...