Home بلاگ آزادی مارچ 

آزادی مارچ 

میمونہ ارم مونشاہ 
مشرقی ممالک ہوں یا مغربی طور طریقے، آج کے دور میں آزادی رائے کا حق سب کو یکساں حاصل ہے۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں، چاہتے کیا ہیں اور کیا کرنے کی ٹھان رکھی ہے یہ خود آپ پر منحصر ہے۔ جہاں بات آئے خواتین کے حقوق کی تو ہمارے اسلام میں تو چودہ سو سال قبل ہی انہیں ان کے حقوق حاصل ہو گئے تھے۔ تعلیم سے لے کر زندگی کی ہر دوڑ میں وہ مرد کے شانہ بشانہ چل سکتی ہیں لیکن انہیں وہ ابھی وہ فضیلت حاصل نہیں ہوئی کہ وہ خود کو مرد سے زیادہ عقل مند سمجھتے ہوئے ان پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آج کل کیا ہو رہا ہے کہ جیسے ہی ٨ مارچ قریب آنے لگے خواتین کے حقوق کے لیے بڑے بڑے سیمینار منعقد کیے جانے لگتے ہیں جن میں خصوصی مہمان کے طور پر کسی مرد شخصیت کو ہی مدعو کیا جاتا ہے اور پھر بار بار وہ تقریر اور دلائل پیش کیے جاتے ہیں کہ جیسے بس عورت ہی مظلوم ہو اور سارے فساد کی جڑ مرد ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان خواتین پر اتنی پابندیاں عائد ہیں تو وہ ایسی تقاریب میں شامل کیسے ہو گئیں؟ ظاہر ہے انہیں اتنی پزیرائی ملی ہے، اجازت حاصل ہے کہ وہ جیسے چاہیں، جب چاہیں کسی بھی دعوت کا حصہ بن سکتی ہیں۔ لیکن نہیں۔۔۔ یہ خواتین اتنی جذباتی تقریر کریں گی جیسے وہ سارے تجربات انہوں نے خود سہے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے بہت حیرت ہوتی ہے اگر میں گھر بیٹھے بھی لکھ رہی ہوں تو ظاہر ہے مجھے یہ اعتماد حاصل ہے اور یہ پزیرائی مجھے گھر کے مردوں سے ہی ملی ہوئی ہے کہ میں پردے میں بھی جو چاہے کر سکتی ہوں لیکن ہاں مجھ پر لازم ہے تو اس آزادی کا مان رکھنا جو مجھے دی گئی ہے۔ ایک گاؤں سے تعلق رکھتے ہوئے بھی اگر مجھے اپنی خواہشات پوری کرنے کی آزادی ملی ہوئی ہے تو میں سمجھتی ہوں اس دور میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں کسی عورت کو گھر کے مرد خواہ وہ اس کا باپ ہو، بھائی، شوہر یا بیٹا، سے پیار اور اعتماد نہ ملا ہو۔ مجھے ساری قصور وار وہ خواتین لگتی ہیں جو اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں۔ جب آپ بن سنور کر راستے سے گزرتی “میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی ہوئے خود کی نمائش کرتے ہوئے اپنے عالمی دن کے مارچ، تقاریب اور سیمینار کا حصہ بنیں گی تو آپ کو چھیڑا تو جائے گا کیونکہ اس کام کی دعوت ہی آپ کی طرف سے دی جا رہی ہے۔ اور پچھلے سال سوشل میڈیا پر وائرل ہونے تصاویر میرے ذہن میں گردش کر رہی ہیں کہ جب کچھ مردوں کے گلے میں لال دوپٹے ڈال کر انہیں کتے کی مانند گھسیٹا گیا میں سوچتی ہوں کیا وہ مرد کہلانے کے حق دار ہیں؟ کہ صرف ان خواتین کو خوش کرنے کے لیے خود کے گلے میں پٹہ ڈلوا لیا۔ ان کی عزت نفس کہاں گئی؟ ایک طرح سے میں گھر کی طرف سے عائد ہونے والی پابندیوں کی مشکور ہوں کہ جنہوں نے مجھ جیسی بہت سی لڑکیوں کو بھٹکنے نہیں دیا۔ آزادی بھی اتنی ہی ملنی چاہیے کہ جس پر دل میں مرد ذات کا یہ خوف باقی رہے کہ ہمارے کسی غلط عمل سے ہماری تربیت پر سوال نہ اٹھے۔ تو عورت کا جو مقام ہے اسے وہ سمجھنا چاہیے زیادہ چھوٹ ملنے پر اکثر رسوائی ہی گلے پڑتی ہے اور یقیناً کوئی بھی میری اس بات سے اختلاف نہیں کرے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

بیوروکریسی بمقابلہ ٹیکنالوجی ذہنیت میں خلل ڈال رہی ہے

تحریر اکرام سہگل ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے باوجود ہمارے سرکاری اداروں کا نقطہ نظر، ہمارے...

حکومت عوام دشمنی پر اُتر آئی ہے !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدعوام کی بے لوث خدمت کرنے کی دعویدار حکومت نے اپنے قیام کے صرف تین ماہ کے ابتدائی...

پاک سر زمین کا نظام

زاد راہ ۔۔سیدعلی رضا نقوی پاکستان کے نظام کی خرابیوں کو ہم سب اکثر آشکار کرتے ہیں...

سر سبز و شاداب شہر

منشاقاضیحسب منشا شہروں کی آبادی بڑھ جانے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں , وہ لوگ کتنے خوش...

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...