Home بلاگ مرنے والے کی جبین روشن اس َظلمات میںسابق صدر مملکت محمد رفیق...

مرنے والے کی جبین روشن اس َظلمات میں
سابق صدر مملکت محمد رفیق تارڑ بھی چل بسے

منشاقاضی
حسب منشا

دنیا عاقل کی موت پر اور جاہل کی حیات پر صبح قیامت تک آنسو بہاتی رہے گی , میں نظریہ پاکستان کی چودھویں 4 روزہ کانفرنس کی روداد لکھنے کے لیئیے ذہن بنا رہا تھا کہ مجھے سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ کی ناگہانی وفات نے چونکا دیا اور میری یکسوئی انتشار و اضطراب میں بدل گئی , ویسے بھی اس دور میں کون ہے جو آرام سے ہے اور وہ اضطرابی کیفیت میں نہیں ہے ,

آرام سے کون ہے اس جہان خراب میں
گل سینہ چاک اور صبا ہے اضطراب میں

میں نے عدنان اشرف , سیف اللہ چوہدری کے پیغامات پڑھے تو میں نے روداد ء نظریہ ء پاکستان کو موقوف کر کے رفیق ملت کی موت کے غم میں ڈوب گیا , ان للہ وانا الیہ راجعون

میں لکھ رہا تھا پھول کی پتی پہ تیرا نام
کانٹے کی نوک سینہ ء گل میں اتر گئی

میری آپ سے عقیدت کی وجہ صرف ایک ہے اور جب وہ اپنی جوانی میں سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی تقریریں سنتے تھے تو وہ ماہی بے آب کی طرح لوٹ جاتے تھے , آپ حریت فکر انسانی کے بیباک نقیب تھے , مجلس احرار کا پیغام آپ نے گاؤں گاؤن پہنچایا اور خلوص دل سے وہ ایک بے لوث کارکن کی حیثیت سے تحریک آزادی کے قافلے کے ساتھ چلتے رہے اور جب سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے مجلس احرار کے کارکنوں کو پوری ایمانداری اور ذمہ داری سے یہ کہا کہ میری رائے ہار گئی اور محمد علی جناح جیت گئے ہیں اور اب جو لوگ دین کا کام کرنا چاہتے ہیں وہ میرے ساتھ آ جائیں اور سیاست کے حقیقی میرے بھی اور آپ کے قائد محمدعلی جناح ہیں , سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے جن الفاظ میں قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کیا اس نے محمد رفیق تارڑ کو بے پناہ متاثر کیا. شاہ جی نے کہا کہ
,, وہ مرد تھا جس بات پر ڈٹا کوہ کی طرح ڈٹ گیا , آہوں کے بادل اٹھے , اشکوں کی گٹھا چھائی , خون کی برکھا ہوئی. لاشوں کا سیلاب آیا مگر کوئی چیز قائد اعظم محمد علی جناح کے عزم بالجزم کو نہ ہلا سکی , اس نے دننیا کے نقشے پر ایک الگ دنیا بسا دی ,, اس کے بعد جواں سال محمد رفیق تارڑ نے مسلم لیگ کے مشن کو حرز جاں بنا لیا اور آپ نے مسلم سٹوڈنٹ کے جوشیلے رکن کی حیثیت سے شاندار , کامیاب اور مؤثر ابلاغ پورے اخلاص سے کیا , اور اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف عدل و انصاف کے میدان میں اپنی صداقت , امانت , دیانت اور شجاعت کا لوہا منوایا بلکہ تا دم زیست وطن عزیز کی معاشی , سیاسی , تہذیبی , تمدنی , ثقافتی اور سماجی زلف پریشاں کو سنوارنے میں جسٹس سے لیکر صدر مملکت کے عہدہ ء جلیلہ تک ایک دقیقہ بھی فروگذاشت نہیں کیا , گوجرانوالہ کے چھوٹے سے گاؤں میں پیدا یونے والے بچے کے بارے میں کون جانتا تھا کہ وہ ایک نہ ایک دن دنیا کی بڑی ایٹمی قوت پاکستان کے سربراہ کی حیثیت سے ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیئیے تادم زیست کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرئے گا , سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے وفاداری نبھا گئیے وہ طویل عرصہ سے صاحب فراش تھے , میں بھی محترمہ صفیہ اسحاق کی معیت اور نیت میں آپ کی عیادت کے لیئے گیا تھا اور میں نے شاہ جی کے حوالے سے بہت ساری باتیں کیں تو وہ بہت محظوظ ہوئے , آپ سے اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن آپ کی شرافت اور نیک طینتی پر کوئی دوسری رائے قائم نہیں کی جا سکتی , آپ پابند صوم و صلواۃ ہی نہیں شب زندہ دار اور تہجد گزار تھے , آبروئے صحافت مجید نظامی کے اعتماد پر تا دم آخریں غیر متزلزل رہے اور نظریہ ء پاکستان کے کارکنوں کا بہت خیال رکھتے تھے , پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ تھے , اس وقت نظریہ پاکستان کے قائم مقام چئرمین میاں فاروق الطاف , سیکرٹری جناب شاہد رشید , ڈپٹی سیکرٹری محمد سیف اللہ چوہدری , ڈپٹی سیکرٹری عثمان احمد , ڈپٹی سیکرٹری ناہید عمران گل اور محترمہ پروفیسر پروین خان , بیگم صفیہ اسحاق , نائلہ عمر , فاطمہ قمر اور محمد جمیل بھٹی کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو کی چاہتا ہے , جن کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بہت بڑی ناانصافی ہو گی , میری دعا ہے مولائے کریم اس قافلہ ء نو بہار کو مزید ہمت اور توفیق دے اور ان کے معاون جناب افتخار علی ملک کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے اور محترمہ مجیدہ وائیں کبر سنی کے باوجود روح کی توانائی کے بل پر جلوہ افروز تھیں اور آج اس وقت چئرمین نظریہ ء پاکستان کی وفات پر غم زدہ ہیں اور پوری ذمہ داری سے قائد کے افکار و نظریات کا پرچار کر رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جس طرح ہمارا عسکری اداہ پاک فوج پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا محافظ ہے اور ان کی سہولت اور ضرورت کے لیئے ہم اپنا سب کچھ نچھاور کر سکتے ہیں اسی طرح پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ جو دل و جان سے فکری اور نظری سرحدوں کے پاسبان کے طور پر کھڑے ہیں قلم و قرطاس کے مورچوں پر , ابلاغ کی چوٹیوں پر , نظریات کے میدانوں میں سرگرم جہد ہیں , نظریہ پاکستان کا بجٹ بھی بہت زیادہ ہونا جائیے , اللہ تعالی نظریہ ء پاکستان کے جرنیل جسٹس ریٹائرڈ محمد رفیق کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین. پسماندگان , مداحین اور نظریاتی کارکنوں کو صبر جمیل عطا فرمائے ,
آسماں ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرئے
سبزہ ء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرئے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

جنگل کی خوشبو

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیمیں آرام دہ جو گر نرم و گداز جیکٹ اور ریشمی مفلر سے لیس ہو کر قریبی...

نہ سدھرے توسب بکھر جائے گا !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدتحریک انصاف صوائی اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان کے بعد سے شش وپنج میں مبتلا ہے ،اس بات...

نہ سدھرے توسب بکھر جائے گا

تحریر؛ راہیل اکبرلاہور والوں نے بھی عجیب قسمت پائی ہے اس شہر سے جتنے وزیر اعظم بنے ہیں شائد ہی پاکستان...

لاہور کا پہلا نمبر

تحریر؛ راہیل اکبرلاہور والوں نے بھی عجیب قسمت پائی ہے اس شہر سے جتنے وزیر اعظم بنے ہیں شائد ہی پاکستان...

سرائے ادب اور مقام اقبال

تحریر؛ ناصر نقویہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے ادب آداب پر بحث و مباحثہ تو ہوتا ہے اور دھواں دار ، چونکہ...