Home بلاگ "دریا رخ بدلتا جارہا ہے "

“دریا رخ بدلتا جارہا ہے “

۔۔روداد خیال ۔۔۔
صفدر علی خاں

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں آج ایک بار پھر سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے ۔ملک کی سیاست کا محور ہمیشہ پنجاب ہی رہا ہے ۔
پنجاب فارسى زبان كے دو لفظوں پنج بمعنی پانچ(5) اور آب بمعنی پانی سے مل کر بنا ہے۔
یعنی پانچ پانی سے مراد 5پانچ دریا ہیں ،پنجاب کے ان پانچ پانچ درياؤں كے نام “دریائے بیاس”,”دریائے جہلم”,”دریائے چناب”,”دریائے راوی”اور ,”دریائے ستلج”ہیں پنجاب کا صوبائی دار الحکومت لاہور، پاکستان کا ایک ثقافتی، تاریخی اور اقتصادی مرکز ہے جہاں ملک کی صنعت اور فیشن کی صنعت ہے۔
جغرافیائی لحاظ سے بھی اسے بڑی اہمیت حاصل ہے ۔
محل وقوع کی اہمیت ملاحظہ کریں تو یہ صوبہ گلگت بلتستان کے سوا ملک کے تمام صوبوں سے ملتا ہے ، پنجاب کے جنوب کی طرف سندھ، مغرب کی طرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان، ‎شمال کی طرف کشمیر اور اسلام آباد اور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان سے ملتا ہے۔ پنجاب میں بولی جانے والی زبان بھی پنجابی کہلاتی ہے۔ پنجابی کے علاوہ یہاں اردو، سرائیکی اور رانگڑی بھی بولی جاتی ہے۔ پنجاب کا دار الحکومت لاہور ہے۔اور شہر لاہور کو پاکستان کا دل کہاجاتا ہے بلکہ اب تک زندہ دلان لاہور کی ایک شہرت پنجابی کے اس جملے سے عیاں ہوتی ہے “جنے لاہور نئی ویکھیاں او جمیاں ای نئی “یعنی جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ۔قیام پاکستان کی تحریک لاہور میں پروان چڑھی
،22سے 24 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک (موجودہ مینار پاکستان )میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔
قیام پاکستان کے بعد بھی ملک کی ہر بڑی سیاسی تحریک لاہور میں ہی پروان چڑھی ،پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد30نومبر 1967کو لاہور میں ڈاکٹر مبشرحسن کے گھر رکھی گئی جس کے پہلے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو منتخب ہوئے ،اسی طرح مسلم لیگ سے مسلم لیگ ن کا قیام بھی لاہور میں ہوا،1988ءکے عام انتخابات کے دوران ، ملک کے سیاسی منظر نامے پر ایک نئی مسلم لیگ (ن) ابھرکر سامنے آئی جو اب تک ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا وجود رکھتی ہے ۔اسکے سربراہ میاں محمد نواز شریف علاج کی غرض سے اگرچہ لندن میں ہیں مگر امام خمینی کی طرح ان کی ملک میں مقبولیت سب سے زیادہ ہے ۔اسی طرح پاکستان کی موجودہ حکمراں سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد سابقہ کرکٹ کھلاڑی عمران خان نیازی نے 25 اپریل 1996 کولاہور میں رکھی۔
20 اکتوبر 2002ء کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں عمران خان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف کو 0.8 فیصد ووٹ ملے اور ان انتخابات میں کل 272 ارکان میں سے صرف ایک ممبر تحریک انصاف کی طرف سے منتخب ہوا۔ اسی طرح صوبائی انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا صرف ایک رکن منتخب ہوسکا۔
2018ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو نیا پاکستان بنانے کے وعدے پر انتہائی پذیرائی ملی اور یوں عمران خان اور ان کی پارٹی کو فتح مل گئی تاہم اب تک کی حکومتی کارکردگی پر عوام میں بے حد مایوسی ہے ۔تحریک انصاف اپنا کوئی انتخابی وعدہ بھی پورا نہیں کرسکی ۔آئی ایم ایف سے قرض کو خودکشی قرار دیکر مسترد کرنے کے دعوے ٹھس ہوگئے ،عوام کو سستا پٹرول اور سستی بجلی دینے کے بلند وبانگ نعروں کے بدلے پٹرول ،بجلی ،گیس سمیت ہر شے مہنگی کرکے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا۔عمران حکومت کے خلاف 3سالہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم کے نام پر اتحاد بناکر حکومت گرانے کا اعلان کیا مگر اس پر چند جلسوں، ریلیوں اور مظاہروں کے بعد اختلافات پیدا ہوئے اور حکومت کو پھر مہلت مل گئی۔ نئے سال کے دوسرے مہینے پھر پٹرول اور بجلی کے نرخ بڑھائے گئے جس پر سال نو کے تیسرے مہینے کے آغاز پر اپوزیشن کی بکھری ہوئی سیاسی جماعتوں نے یکجا ہوکر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرلیا ،اپوزیشن اتحاد کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت نے لاہور میں ڈیرے جمائے اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے گنتی پوری کرنے کا اصل کھیل بھی اسی شہر سے شروع کیا ،یہاں پر ہی سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خاں نے فارورڈ بلاک میں جانے کا فیصلہ کیا اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق وہ لندن میں ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کرکے کوئی نئی سیاسی لائن بھی لیکر آئے ہیں ،وزیراعظم عمران خان کے سب سے قابل بھروسہ ساتھی جہانگیر ترین بوجہ پہلے ہی ساتھ چھوڑ چکے ہیں اپنا فارورڈ بلاک بناکر الگ لائحہ عمل اختیار کر نے کی ٹھان چکے ہیں ،اسی اثناء وہ بیماری کے غلبہ پانے پر بیرون ملک علاج کے لئے سدھار گئے تاہم گروپ مسلسل سرگرم رہا ،پی ٹی آئی کے ایسے وفادار “لائل” لوگ وزیراعلئ پنجاب کی ناقص کارکردگی سے نالاں ہوکر نئے گروپ بنانے کی طرف راغب ہوئے ۔ان حالات میں گروپ کے کئی ارکان کی طرف سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار بننے کی خودساختہ خواہش کا بھی اظہار ہوتا رہا مگر کوئی حتمی بات نہ بن سکی ،اسی دوران اب جاکر پنجاب کے حقیقی متبادل کا نام سامنے آیا ہے جس سے پنجاب ہی نہیں ملک میں بھی تبدیلی کی نئی لہر کا امکان پیدا ہورہا ہے ۔اپوزیشن اتحاد کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس نام پر اتفاق پائے جانے کی خبر اب عام ہے ۔
اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے، متعدد ارکان اپنی اپنی جماعتوں سے ناراضی کا اظہار کررہے ہیں، جب کہ ارکان کو اپنی حمایت میں لانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں نے روابط کی مہم تیز کررکھی ہے، پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومتی اتحادیوں سے رابطوں کا سلسلہ تیز کردیا گیاہے، جب کہ مسلم لیگ ق کی جانب سے مشاورت کا عمل مکمل کر لیا گیا تھا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اسپیکر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی پنجاب بنانے پر متفق ہوگئی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہی کو اپوزیشن کی جانب سے پنجاب میں وزیراعلی کا امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے، اور اس کے بدلے حکومتی اتحادی ق لیگ، ایم کیو ایم اور باپ پارٹی تینوں مشترکہ طور پر وفاق میں عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کی حمایت کریں گی۔ اس حوالے سے تینوں اتحادی جماعتوں کی جانب سے آج اعلان متوقع ہے ۔سیاسی حالات کی گہماگہما نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو پھر سے اہم ترین بنادیا ہے ۔لاہور شہرسے عہد نو کی سیاست میں اب ایک طرح سے نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے ۔
بقول شاعر ۔
بڑا تبدیل ہوگا پیش منظر
کہ دریا رخ بدلتا جارہا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

کارپوریٹ کلچر ایسٹ اینڈ ویسٹ

تحریر؛ اکرام سہگلاس کی وسیع تر تعریف میں ''ثقافت'' ''جس طرح سے ہم کام کرتے ہیں'' ہے، کارپوریٹ کلچر وہ طریقہ...

اختلاف رائے اور اتفاق رائے

تحریر؛شاہد ندیم احمدپاکستان بہت سے مسائل کا سامنا کررہاہے ،ایک طرف بھارت اور اسرائیل جیسے دشمن ممالک پاکستان کے خلاف عالمی...

باہمت اور کامیاب لوگ

منشاقاضیحسب منشا سلیقے اور قرینے کے لوگوں کے سینے میں دھڑکنے والے دل کی سرخ دھڑکنیں انسانیت...

معاشی خود مختاری و استحکام

تحریر: اورنگزیب اعوان قیام پاکستان سے لیکر آج تک معاشی خود مختاری و استحکام کا خواب آنکھوں...

وزیراعظم کا بڑی صنعتوں اور آمدن پر ٹیکس لگانے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور اسٹیل سمیت دیگر بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا...