Home بلاگ مصنوعی خوبصورتی نہیں اللہ کی تخلیق دیکھو

مصنوعی خوبصورتی نہیں اللہ کی تخلیق دیکھو

تحریر:صادق انور میاں

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بہت سی مخلوقات پیدا کی ہے۔ہر ایک مخلوق اپنی ایک مخصوص نام سے پہچانے اور جانے جاتے ہیں۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا لقب دیا ہے۔اشرف المخلوقات کا معنیٰ کے بہترین انسان۔اب اشرف المخلوقات کیا کرتے ہیں کیا جاہتے ہیں۔وہی اشرف المخلوقات اب اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تخلیق پر راضی دکھائی نہیں دے رہے۔غیر مسلم اگر اللہ کی تخلیق پر راضی نہیں ہے اور اگر گلے شکوے کر رہے ہیں تو ہم کچھ حد تک مانتے ہیں کہ چلے وہ تو غیر مسلم ہیں ان سے کیا گلہ۔اب ہمارے ہی مسلمان بہن بھائی اللہ کی بنائی گئی تخلیق پر راضی نہیں ہیں۔کوئی کیا گلہ کرتا ہے کوئی کیا۔اب ہم اگر اپنے معاشرے کے بہن بھائیوں کی بات کریں تو بہت سارے عجیب باتیں ہمیں سننے کو ملے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ اگر میں فلاں بندے جیسا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔انسانوں میں ایک مخلوق ہیں جسے ہم ہجڑے کہتے ہیں ۔وہ اصل میں مرد ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی شکل و صورت عورت جیسا بناتی ہیں۔وہ میک اپ سب کچھ تو کرسکتے ہیں ۔لیکن جو اعضاء ہے وہ تو بدل نہیں کرسکتے ۔بعض نے تو وہ بھی تبدیل کی ہیں لیکن عورت کی طرح بچے تو پیدا نہیں کرسکتے۔ہمارے معاشرے میں عورتیں زیادہ تر اپنی شکل کو بدل دیتی ہیں۔اور اس مقصد کیلئے بدل لیتی ہیں کہ میں لوگوں کی نظر میں اچھی نظر اسکو خوبصورت نظر اسکو لیکن یہ ان کی غلط فہمیاں ہیں۔جو وہ بار بار کر رہی ہوتی ہیں۔میں پہلے ہی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔لیکن اگر پھر بھی کوئی انسان اللہ کی تخلیق پر راضی نہیں ہے۔ تو پھر یہ بہت بڑا نقصان دہ باتیں ہیں۔کم ازکم ہم مسلمانوں کو تو اللہ کی تخلیق پر راضی ہونا چاہیے۔اب اگر ہم راضی نہیں ہونگے تو غیر مسلم ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے۔ہمیں تو ان کو ان باتوں کی ترغیب دینا چاہیئے کہ اللہ کی تخلیق پر صبر کریں۔کوئی قد میں چھوٹا ہے تو کوئی بڑا ہے کوئی گورا ہے تو کوئی کالا ہے ۔کوئی پتلا ہے تو کوئی موٹا ہے۔یہ اللہ کی مرضی ہے۔اللہ نے جس کو جیسے بنایا ہے اس پر اللہ ہی قادر ہے۔اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ہمیں ہر حال میں اللہ کی تخلیق پر راضی ہونا چاہئیے۔اللہ نے انسان کو بڑے احسن طریقے سے بنایا ہے۔ہر اعضاء کو بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں فٹ کی ہے۔ہمارے معاشرے میں عورتوں کی یہ بہت بڑی بے وقوفی ہے کہ وہ اپنے شکل و صورت میں تبدیلی لاتے ہیں۔اور تبدیلی کیسے چہرے پر کریم لگانا،ائی برو نقلی لگانا،نقلی بڑے بڑے ناخن لگانا،نقلی انکھ لگانا وغیرہ وغیرہ اور وہ یہ سوچتی ہے کہ اس سے میں معاشرے میں خوبصورت لگوں گی لیکن یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔کیونکہ انسان شکل بدلنے سے نہیں بلکہ اچھے اخلاق سے اچھا لگتا ہے۔اور معاشرے میں اپنا مقام پیدا کر لیتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

بیوروکریسی بمقابلہ ٹیکنالوجی ذہنیت میں خلل ڈال رہی ہے

تحریر اکرام سہگل ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے باوجود ہمارے سرکاری اداروں کا نقطہ نظر، ہمارے...

حکومت عوام دشمنی پر اُتر آئی ہے !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدعوام کی بے لوث خدمت کرنے کی دعویدار حکومت نے اپنے قیام کے صرف تین ماہ کے ابتدائی...

پاک سر زمین کا نظام

زاد راہ ۔۔سیدعلی رضا نقوی پاکستان کے نظام کی خرابیوں کو ہم سب اکثر آشکار کرتے ہیں...

سر سبز و شاداب شہر

منشاقاضیحسب منشا شہروں کی آبادی بڑھ جانے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں , وہ لوگ کتنے خوش...

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...