Home بلاگ تصادم سے گریز یقینی جیت کا راستہ

تصادم سے گریز یقینی جیت کا راستہ

روداد خیال صفدر علی خاں

پاکستان میں اب تک کے سیاسی حالات بڑی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں ،سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں ہوتی اس کا اب عملی مظاہرہ ہورہا ہے ۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم جمع کرادی اور اسکے بعد ووٹنگ کے لئے ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے پر ہوم ورک مکمل کرلیا دریں اثناء تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے ٹوٹ کر اپوزیشن کی جھولی میں گرنے کی اطلاعات آنے لگیں ،اسلام آباد میں سندھ ہائوس پر دھاوا بول کر تحریک انصاف کی قیادت نے اپنی ممکنہ شکست کا اظہار کردیا ،اس سے قبل تو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سمیت کئی وزراء وزیراعظم عمران خان کو سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کا مشورہ دیتے رہے تاہم وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سمیت کچھ سمجھدار انہیں ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے ،ملک کے معاشی حالات میں ذرا بھی بہتری نہیں آئی ،مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام ہردم اب حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کو تیار ہیں ،قومی مفاد کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ہرحال میں تصادم سے گریز کیا جائے ،اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن دونوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ کوئی بھی فریق کسی بھی حوالے سے ضابطے اور حدود کے اندر رہ کر تمام معاملات قانونی طریقے سے نمٹانے کی کوشش کرے ،شہباز شریف کی جانب سے موجودہ حالات میں بہترین ردعمل سامنے آیا ہے انہوں نے اسلامی وزرائے خارجہ کی مجوزہ کانفرنس کے موقع پر قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی بات کی ہے ،پیپلزپارثی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی اسی طرح کا موقف اختیار کرنا چاہئے ،او آئی سی کے اجلاس کے موقع پر ملکی سیاست کو تندوتیز کرنے کی بجائے فی الحال افہام وتفہیم سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔تاہم تحریک عدم اعتماد کا معاملہ بھی قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔معروف مروجہ طریقہ کار کے تحت وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے لیے قومی اسمبلی کے 20 فیصد یا 68 اراکین کے دستخطوں سے ایوان کا اجلاس بلانے کی درخواست جمع کرائی جاتی ہے جس کے دوران تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری ہوتی ہے۔آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس ریکوزیشن آنے کے بعد ایوان کا اجلاس بلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 14 دن ہوتے ہیں۔اجلاس طلب کرنے کے بعد سیکریٹری قومی اسمبلی اس نوٹس کو اراکین کو بھیجیں گے اور عدم اعتماد کی قرارداد اگلے دن (ورکنگ ڈے پر) پیش کی جائے گی۔جس دن قرارداد پیش کی جاتی ہے، قواعد کے مطابق اس پر ” 3 دن سے پہلے یا 7 دن کے بعد ووٹ نہیں دیا جائے گا” وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری اوپن ووٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔واضح رہے کہ تحریک عدم اعتماد کو ملکی سیاست میں کئی ماہ کی غیریقینی صورتحال کے بعد 8مارچ کو جمع کرایا گیا جس کا اعلان پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 11 فروری کو کیا تھا۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے حزب اختلاف کو سادہ اکثریت کی ضرورت ہوگی یعنی قومی اسمبلی کے 342 میں سے 172 اراکین کی حمایت کی ضرورت پڑے گی ۔حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ اسے مطلوبہ اکثریت حاصل ہے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وہ یہ تعداد 180 تک پہنچانا چاہتے ہیں۔قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 155 ارکان، ایم کیو ایم کے 7، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، مسلم لیگ (ق) کے 5 ارکان، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کا ایک رکن شامل ہے۔جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 56 ، متحدہ مجلس عمل کے 15، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 4، عوامی نیشنل پارٹی کا ایک، جمہوری وطن پارٹی کا ایک اور اس کے علاوہ 4 آزاد اراکین شامل ہیں۔اس وقت پی ٹی آئی کے منحرف ہونے والے ارکان کی تعداد کا کچھ اندازہ نہیں ۔ پی ٹی آئی کے کچھ منحرف ارکان کے منظر عام پر آنے کے بعد اور سندھ ہائوس پر حملے کی بازگشت میں منحرف ارکان کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے تاہم تحریک انصاف نے 14 منحرف اراکین قومی اسمبلی کو نوٹسز جاری کر دیے۔ تحریک انصاف نے منحرف اراکین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین عمران خان کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کردی۔نوٹس نور عالم خان ، افضل ڈاھانڈ لاشیر وسیر ، راجہ ریاض،احمد حسین ڈیہڑ ، قاسم نون، غفارر وٹو ، عامر طلال گوپانگ کو جاری کیے گئے۔ باسط سلطان ،وجیہہ قمر ، رمیش کمار ، نزہٹ پٹھان اور ریاض مزاری کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے۔نوٹس میں منحرف ارکان سے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ دینےکے عمل کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اراکین 26 مارچ دن 2 بجے سے پہلے پارٹی چیئرمین کے سامنے پیش ہونے کے پابند ہیں۔ارکان کو 7 روز کے اندر معافی مانگ کر غیر مشروط طور پر پارٹی میں واپس آنے کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر 7 روز تک جواب نہ ملا تو ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔شوکاز نوٹسز پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے دستخط کیے ہیں۔پی ٹی آئی کی قیادت کے اس اقدام سے انکے منحرف ارکان کی تعداد کے حوالے سے کچھ وضاحت ضرور ہوئی ہے ۔اب کئی چیزیں عوام کے سامنے آگئی ہیں ۔ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کو ہٹانے کے لئے قانونی طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی نے سندھ ہائوس پر حملہ کرکے غیرقانونی اقدام کیا اور تحریک عدم اعتماد کا پہلا رائونڈ ہار گئی ۔اپوزیشن نے بھی اگر اب کوئی غیرقانونی ہتھکنڈہ استعمال کیا تو جیت سے دور ہو جائے گی اس لئے مروج قانونی طریقہ کار کے تحت وزیراعظم کو تبدیل کرنے کے لئے ارکان پارلیمنٹ اپنا آئینی حق استعمال کریں انہیں اس حق سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ حکومت پر بھی آئین کی پاسداری فرض ہے اس لئے تصادم کا راستہ اختیار کرنے والے کھلاڑی کھیل کے میدان سے آئوٹ بھی ہوسکتے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

جنگل کی خوشبو

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیمیں آرام دہ جو گر نرم و گداز جیکٹ اور ریشمی مفلر سے لیس ہو کر قریبی...

نہ سدھرے توسب بکھر جائے گا !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدتحریک انصاف صوائی اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان کے بعد سے شش وپنج میں مبتلا ہے ،اس بات...

نہ سدھرے توسب بکھر جائے گا

تحریر؛ راہیل اکبرلاہور والوں نے بھی عجیب قسمت پائی ہے اس شہر سے جتنے وزیر اعظم بنے ہیں شائد ہی پاکستان...

لاہور کا پہلا نمبر

تحریر؛ راہیل اکبرلاہور والوں نے بھی عجیب قسمت پائی ہے اس شہر سے جتنے وزیر اعظم بنے ہیں شائد ہی پاکستان...

سرائے ادب اور مقام اقبال

تحریر؛ ناصر نقویہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے ادب آداب پر بحث و مباحثہ تو ہوتا ہے اور دھواں دار ، چونکہ...