Home پاکستان تحریکِ عدم اعتماد: گجرات کے چوہدریوں کی لاہور واپسی لیکن فیصلہ کیا...

تحریکِ عدم اعتماد: گجرات کے چوہدریوں کی لاہور واپسی لیکن فیصلہ کیا ہو گا؟

پاکستان میں دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں سیاسی جوڑ توڑ کا محور بنا ہوا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف حزبِ اختلاف کی طرف سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کے معاملے پر حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں اپنی برتری کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے اپنے سو فیصد ممبران کی حمایت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مشکل یہ بنی ہوئی ہے کہ اتحادی جماعتوں کو حزبِ اختلاف کی طرف چلے جانے سے کیسے روکا جائے۔

حکومت کی اتحادی جماعتوں میں گجرات کے چوہدری یعنی پاکستان مسلم لیگ ق کی قیادت مرکزی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین اپنی جماعت کی دیگر قیادت کے ساتھ چند روز قبل لاہور سے اسلام آباد پہنچے تھے۔

اسلام آباد میں ان کی متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر حکومتی اتحادی جماعتوں کی قیادت سے کئی ملاقاتیں ہوئی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اتحادی جماعتیں جلد اپنا مشترکہ فیصلہ کریں گی۔

ان کی جانب سے یہ اعلان متوقع تھا کہ وزیرِاعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں وہ حکومت کا ساتھ دیں گے یا حزبِ اختلاف کی طرف جائیں گے۔ یہ واضح اعلانات تاحال سامنے نہیں آئے۔ لیکن اس سے قبل ق لیگ کی قیادت اسلام آباد سے واپس لاہور پہنچ گئی ہے۔

ان کی واپس لاہور آمد سے قبل سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان کی سیاسی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا تھا کہ حزبِ اختلاف کے پاس عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ اعداد سے زیادہ حکومتی ممبران کی حمایت موجود ہے۔

ان کا یہ انٹرویو کچھ حکومتی وزرا کے بیانات اور ایسی خبروں کے بعد سامنے آیا تھا جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ ‘پانچ نشستیں رکھنے والی جماعت یعنی ق لیگ پنجاب میں وزارتِ اعلٰی کی طلبگار تھی جو کہ حکومت کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے۔’

مقامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق حکومتی حلقوں میں اس بارے تحفظات پائے جاتے تھے کہ حمایت کی یقین دہانی کے بدلے پنجاب کی وزارتِ اعلٰی ق لیگ کو دی جائے۔

اس موقع پر جب سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے تو ق لیگ کی قیادت کے اسلام آباد سے چلے جانے کو مبصرین توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ اعلان کیے بغیر ق لیگ کی قیادت یہ اشارہ دے چکی ہے کہ اس کا جھکاؤ کس کی طرف ہے؟

یا پھر پنجاب کے حوالے سے کوئی اہم اعلان حکومت کی طرف سے آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتا ہے؟ اور اگر پنجاب کی وزارتِ اعلٰی میں کوئی ایسی تبدیلی آتی ہے جس کی بات ق لیگ کی قیادت کرتی رہی ہے تو اس سے وزیرِاعظم عمران خان کو عدم اعتماد کی تحریک میں کتنا فائدہ ہو سکتا ہے؟

سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے ترجمان ڈاکٹر زین علی بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد سے اس موقع پر لاہور آنے کی وجہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

تحریر۔۔۔عظمت عظیم تم جو دیتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔وہ تم نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔وہ اللہ تمھیں خاص توفیق دیتا ہےاس...

بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان

از حکیم راحت نسیم سوھدروی بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان اسلامیان برصغیر کے ان جلیل القدر...

چرس،قانون اور رکشہ ڈرائیور

رخسانہ اسدل اہور ای میل:thegreatrukhsana@gmail.com 03154641924کوئی بھی معاشرہ اُس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک...

رحمٰن کے بندوں کے درد کا درماں لوگ

منشاقاضیحسب منشا کسی انسان کی خواہش اس کی کاوش کے بغیر پوری نہیں ہوئی اور نہ ہی...

نیوزی لینڈ سے شکست، مائیکل وان نے بھارتی ٹیم کو پرانے وقتوں کی ٹیم قرار دیدیا

نیوزی لینڈ کے ہاتھوں پہلے ون ڈے میں شکست کے بعد انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے بھارتی ٹیم کو...