Home بلاگ اپوزیشن کی احتیاط ۔۔کامیابی کی دلیل

اپوزیشن کی احتیاط ۔۔کامیابی کی دلیل

روداد خیال

صفدر علی خاں

ملک میں سیاسی ہنگام پر یار لوگ بہت کچھ لکھ رہے ہیں ،تجزیہ کاروں کی اپنی اپنی اختراع ہے ،پہلی بار پاکستان میں آئینی طریقہ کار سے وزیراعظم کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش ہوئی ہے اس سے پہلے وزرائے اعظم کو تبدیل کرنے کےلئے اکثر دیگر طریقے اور اسلوب اختیار کئے گئے ۔سیاسی وفاداریاں بدلنا ہمارے ہاں ایک رواج بن چکا ہے ۔زیادہ تر ملکوں میں سیاستدان انتہائی غور و خوض کے بعد اپنی زندگی میں صرف ایک آدھ بار ہی پارٹی تبدیل کرتے ہیں۔لیکن پاکستان کا معاملہ کچھ ہٹ کر ہے، یہاں ذاتی فوائد کے لیے کسی بھی وقت سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا معمولی بات ہے۔اب وزیراعظم عمران خان نے جب مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کے اراکین کوتوڑ کر انکی وفاداریاں تبدیل کرواتے ہوئے اپنی سیاسی جماعت میں جمع کیا تب انکی بے وفائی پرانہیں ناز تھا اب انہی کی بے وفائی پر طوفان سر پر اٹھالیا گیا ہے۔پاکستانی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی رہا ہے کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کوئی بھی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہ کر سکا، کون سا وزیراعظم کب سے کب تک رہا اور اس کی مدت کتنی تھی؟۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان 50 ماہ تک اس عہدے پر موجود رہے۔ وہ 15 اگست 1947 سے 16 اکتوبر 1951 تک وزارت عظمیٰ کےمنصب پر فائز رہے ، انہیں 16 اکتوبر 1951 کو راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا۔دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین 17 اکتوبر 1951 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے اور وہ 17 اپریل 1953 تک یعنی 18 ماہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے تاہم انہیں معزول کر کے کرسی سے ہٹا دیا گیا تھا اور یوں وہ اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔
17 اپریل 1953 کو محمد علی بوگرا کو وزیر اعظم بنا دیا گیا جو 28 ماہ یعنی دو سال 4 ماہ تک اس عہدے پرفائز رہے جس کے بعد انہیں 11 اگست 1955 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑا۔محمد علی بوگرا کے مستعفیٰ ہونے کے بعد 11 اگست 1955 کو چوہدری محمد علی پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ وہ بھی اپنے عہدے کی مدت پوری نہ کر سکے اور 13 ماہ بعد ہی 12 ستمبر 1956 کو مستعفیٰ ہو گئے۔حسین شہید سہروردی نے صرف 13 ماہ وزیر اعظم کے عہدے پر رہے وہ 12 ستمبر 1956 سے 18 اکتوبر 1957 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ جس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ان کے بعد آئی آئی چند ریگر پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے جو صرف دو ماہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پرفائز رہے جس کے بعد وہ بھی مستعفیٰ ہو گئے تھے۔ آئی آئی چند ریگر 18 اکتوبر 1957 سے 16 دسمبر 1957 تک وزیر اعظم رہے۔
ملک فیروز خان نون بھی زیادہ عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر نہ رہ سکے۔ وہ 16 دسمبر 1957 کو وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے لیکن 10 ماہ بعد 7 اکتوبر 1958 کو ہی عہدے سے معزول ہو گئے تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو کو 14 اگست 1973 کو وزیر اعظم منتخب کیا گیا وہ 3 سال 11 ماہ یعنی 47 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے، انہیں بھی 5 جولائی 1977 کومعزول کر دیا گیا تھا۔
23 مارچ 1985 کو محمد علی جونیجو پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 3 سال 2 ماہ یعنی 38 ماہ بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے سے معزول کر دیئے گئے اور یوں وہ 29 مئی 1988 کو گھر بھیج دیئے گئے۔
2 دسمبر 1988 کو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کرسی پر بیٹھیں تاہم وہ بھی اپنے عہدے کی مدت پوری نہ کر سکیں اور 20 ماہ بعد ہی 6 اگست 1990 کو معزول کر دی گئیں۔بے نظیر بھٹو کے معزول ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف 6 نومبر 1990 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے،انہیں بھی 29 ماہ بعد 18 اپریل 1993 کو معزول کر دیا گیا،نواز شریف ایک بار پھر وزیر اعظم بن گئے اور ڈیڑھ ماہ بعد ہی مستعفیٰ ہو گئے، اس بار وہ 26 مئی 1993 سے 8 جولائی 1993 تک وزیر اعظم رہے۔نواز شریف کے بعد ایک مرتبہ پھر بے نظیر بھٹو 19 اکتوبر 1993 کو وزیر اعظم منتخب ہو کر آئیں اور اس بار وہ 37 ماہ یعنی 3 سال ایک ماہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر فائز رہیں تاہم انہیں بھی 5 نومبر 1996 کو معزول کر دیا گیا۔17 فروری 1997 کو نواز شریف دوسری بار عوامی ووٹوں سے وزیر اعظم منتخب ہو کر آئے لیکن انہیں 32 ماہ بعد یعنی 2 سال 8 ماہ بعد ہی معزول کر دیا گیا اور یوں 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف کے دوسرے دور کا اختتام ہوا۔نواز شریف کے بعد ظفر اللہ خان جمالی کو وزیر اعظم منتخب کیا گیا اور وہ 23 نومبر 2002 سے 26 جون 2004 تک 19 ماہ وزیر اعظم رہے اور بالآخر وہ بھی وزارت اعظمیٰ کی مدت پوری کیے بغیر مستعفیٰ ہو گئے۔میر ظفر اللہ خان جمالی کے مستعفیٰ ہونے کے بعد ان کی پارٹی مسلم لیگ ق نے شوکت عزیز کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کیا، وہ 39 ماہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پرفائز رہے۔ وہ 28 اگست 2004 سے 15 نومبر 2007 تک وزیر اعظم رہے اور انہوں نے پارلیمنٹ کی بقیہ مدت پوری کی۔25 مارچ 2008 کو پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ جو 4 سال ایک ماہ یعنی 49 ماہ وزیر اعظم رہے تاہم انہیں 24 اپریل 2012 کو نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ کی کرسی سے ہٹا دیا گیا۔یوسف رضا گیلانی کے بعد راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم منتخب کیا گیا، وہ 22 جون 2012 سے 24 مارچ 2013 تک یعنی 9 ماہ تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے اور یوں پارلیمنٹ کی مدت پوری ہونے پر نئے انتخابات کرائے گئے۔مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ انہیں 5 جون 2013 کو وزیر اعظم منتخب کیا گیا اور وہ بھی 4 سال ایک ماہ بعد یعنی 49 ماہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر فائز رہے اور انہیں 28 جولائی 2017 نااہل قرار دے دیا گیا ۔نواز شریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو اگست 2017 کو وزیراعظم منتخب کیا گیا وہ31 مئی 2018 تک یعنی 10 ماہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے اور انہوں نے پارلیمنٹ کی مدت پوری کی۔18 اگست 2018 کو عمران خان وزیر اعظم منتخب ہو کر ایک نئے چہرے کے ساتھ میدان میں اترے جو تاحال وزارت عظمیٰ کے عہدے پر برقرار ہیں تاہم اب حزب اختلاف کی جانب سے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے۔ جس کی کارروائی جاری ہے۔اس آئینی کار سے حکومت پہلو تہی کررہی ہے اپوزیشن بھی شائد ” کسی تگڑے “کی یقین دہانی پر شور شرابا کرکے اپنی ہی گیم خراب کرنے سے گریز کررہی ہے ،اپوزیشن کی احتیاط ہی اب تحریک عدم اعتماد کی سو فیصد کامیابی کی دلیل ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

دعا زہرا کی عمر 15سے 16سال کے درمیان ہے: میڈیکل بورڈ کی رپورٹ

کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ نے دعا زہرا کی عمرکے تعین سے متعلق رپورٹ جمع کرادی۔

کپتان سمیت قومی ہاکی کھلاڑیوں کا نوکریاں دینے کا مطالبہ

کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان ہاکی ٹیم کا ٹریننگ کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے لیکن...

ملک بھر میں سندھ کورونا کیسز میں سب سے آگے

ملک بھر میں یومیہ رپورٹ ہونے والےکورونا کیسز میں سندھ سب سے آگے ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ...

رمیز راجا اور سابق کرکٹرز کی ملاقات کی اندرونی کہانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین رمیز راجاکی کراچی میں سابق کرکٹرز کے ساتھ ملاقات کی دلچسپ اندرونی کہانی منظر عام...

عمران خان نے اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ترمیم کو چیلنج کردیا

سابق وزیراعظم عمران خان نے اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔