Home بلاگ اپوزیشن کی چڑھائی اور حکومت کی پسپائی کا منظرنامہ

اپوزیشن کی چڑھائی اور حکومت کی پسپائی کا منظرنامہ

رودادخیال

صفدر علی خاں

پاکستان میں اس وقت سیاسی صورتحال تیزرفتاری سے تبدیل ہورہی ہے ،ملک میں ہوشربا مہنگائی سے تنگ عوام کا موڈ دیکھتے ہوئے اپوزیشن نے نہایت عمدگی سے اپنے کارڈ کھیلتے ہوئے ناراض اتحادیوں کی حکومت کے اندر خلیج کو بڑھاتے ہوئے ناراض دھڑے یکجا کرنے کی حکمت عملی اس قدر سلیقے سے اختیار کی کہ حکومت سنبھل ہی نہ پائی تھی کہ اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ،ان حالات میں وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے سیاسی حریفوں کا مدلل جواب دینے کی بجائے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جلسہ رکھ لیا اور اس کے ساتھ گزشتہ 27اپریل والے جلسے میں قوم کو بڑا “سرپرائز”دینے کا اعلان کیا گیا ،قبل ازیں اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کو توڑنے کے حوالے سے تیز رفتار رابطوں پر کہا یہ گیا تھا کہ ابھی “ترپ “کا پتہ وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے ،اس پر لوگوں میں ترپ کا پتہ اور کوئی بڑا سرپرائز دیکھنے کا اشتیاق بڑھتا گیا،وزیراعظم کی طرف سے اس حوالے سے خاصا سسپنس Creat
کیا گیا اس وجہ سے اپوزیشن کے ایک طرح سے بہت ہی موثر اور زور دار حملے پر حکومت کی طرف سے کسی “تگڑے “جواب کی توقع باندھ لینا بھی ایک طرح کا فطری عمل تھا،صرف شیخ رشید واحد وفاقی وزیر تھے جو درمیان میں عجیب وغریب بیانیہ سے حالات کے سنگین ہوجانے کا تاثر پیدا کرتے رہےکبھی وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہوکر نئے الیکشن کا مشورہ داغ رہے تھے تو کبھی اسمبلیاں توڑنے کی بات کررہے تھے ،شیخ رشید اب تک قبل ازوقت الیکشن کے حامی نظر آئے ،درمیان میں انکے بیانات سے ایسے لگ رہا تھا کہ ہجیسے حکومت “میچ ” ہار گئی ہے ،ٹیموں کے مدمقابل آنے پر کافی باتیں کلئیر ہوچکی ہیں ،اپوزیشن کے ساتھ ق لیگ کے پہلے پہل رابطوں اور یقین دہانیوں کے انہی دنوں میں وزیراعظم کے سرپرائز اور ترپ کے پتے کے بہت چرچے رہے ،عوام متجسس تھے کہ 27مارچ آن پہنچا اور پھر جلسہ ہوا جس میں کوئی ترپ کا پتہ نہ سرپرائز دیکھنے کو ملا بلکہ بقول استاد اسداللہ خان غالب!

تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

اپوزیشن کو ان حالات میں غالب کے ہم وزن قرار دیتے ہوئے انکے پرزے اڑانے کی کوئی کارروائی طشت ازبام نہ ہوسکی ،اس جلسے میں لہرائے جانے والے اس مبینہ خط کے چرچے بہت عام ہیں جسے مکمل طور پر ابھی تک کسی کو بھی نہیں دکھایا جاسکا اس خط کے کچھ مندرجات صحافیوں سے ضرور شیئر کیئے گئے لیکن صحافیوں کی اکثریت نے اس پوری “کارروائی ” کو مشکوک قرار دیا۔جس طاقتور ملک کے نام درپردہ اس خط کو اشارے سے منسوب کئے جانے کی سر توڑ کاوشیں کی جارہی تھیں اس پر سپرپاور امریکہ نے براہ راست برسر عام تردید کردی ،اب انٹرنیٹ کے اس ڈیجیٹل دور میں بھلا خط کے ذریعے دھمکی دینے کا الزام ویسے بھی جچ نہیں رہا تھا جس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات نے وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کا انکشاف کردیا ،اس چونکا دینے والی اطلاع کو ایجنسیوں سے منسوب کیا گیا ہے ،ساتھ ہی وزیراعظم کی سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ۔وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی حالیہ رپورٹ بھی سردست ترپ کے پتے اور سرپرائز دینے والے حکومتی اعلان کے زمرے میں نہیں آتی ۔لوگ تاہم پارلیمنٹ میں کسی منہ توڑ جواب کی توقع لگائے بیٹھے تھے ،البتہ اپوزیشن کو ایک محاذ پر حکومت نے ضرور شکست دی ہے اور وہ چودھری برادران کی حمایت برقرار رکھنے کی بازی ہے جو حکومت نے اپنے پیارے بزدار کو قربان کرتے ہوئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی جھولی میں ڈال کر جیتی ہے ۔ان حالات میں اب سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ چودھریوں سے “سیاسی بلنڈر “کروایا گیا ،وفاقی وزارت کے مزے لینے والے اور نیب کے خوف سے ڈرائے گئے جوان چودھری شائد حکومت کے ترپ کا پتہ رکھنے اور سرپرائز دینے والے دعوے کے جھانسے میں آگئے ،پرویزالہی’ کی آنکھوں پر پدری شفقت کی پٹی بندھ گئی جبکہ بڑے چودھری کی علالت سے نڈھال سوچ پر باپ بیٹے کی خواہش غلبہ پاگئی ،آصف علی زرداری نے چودھریوں کو سوچنے کا بہت مناسب وقت دیا تھا انہیں آزادی سے فیصلہ کرنے کی مہلت بھی دی گئی اور بالآخر متحدہ اپوزیشن کے حق میں چودھریوں نے فیصلہ سنایا تھا ،دعائے خیر کے بعد ملاقاتیں رہیں اور مٹھائیاں بھی تقسیم کی جاتی رہیں ،لیکن اچانک یوٹرن لینے کی اس نئی روایت کی چودھریوں سے کوئی بھی توقع نہیں کررہاتھا ،یہ حکومت کا ایک بڑی قربانی کے بعد ایک چھوٹا سا سرپرائز تو قرار دیا جاسکتا تھا مگر مفاہمت کے شہنشاہ آصف علی زرداری نے گیم چینجر کا کردار نبھاتے ہوئے ایم کیوایم سے تاریخی معاہدہ کرکے حکومت کی ساری خوشیوں پر پانی پھیر دیا ،حکومت کے پاس اب پارلیمنٹ میں وزیراعظم کو بچانے کے لئے حیلے بہانوں سے اجلاس ملتوی کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہا جبکہ آصف علی زرداری پارلیمان میں بھی تحریک عدم اعتماد کے لئے گنتی پوری کرکے نئی تاریخ رقم کرگئے جبکہ حکومت نے اس پر پسپائی اختیار کرلی ،حکومت بہرحال بہت بڑی طاقت ہے ،طاقت نے جب اپنے لئے مہلت پیدا کی ہے تو کوئی بات تو ضرور ہوگی ،اقتدار کی اس رسہ کشی میں کل اتوار کو پھر پارلیمنٹ میں میدان لگے گا ،بظاہر اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا سامان پیدا کردیا ہے ،تاہم اس میں باوقار طریقے سے جیت کس کی ہوگی اس کا فیصلہ بھی ہونا باقی ہے ۔اپنے بھائیوں جیسے دوست اور شاعر شعور زاہدعباس سید کے اس شعر پہ اجازت چاہوں گا ۔ع

کس کا مسلک محترم ہے بندگی میں ناصحا
تیرے میرے درمیاں یہ فیصلہ ہوجائے گا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

دعا زہرا کی عمر 15سے 16سال کے درمیان ہے: میڈیکل بورڈ کی رپورٹ

کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ نے دعا زہرا کی عمرکے تعین سے متعلق رپورٹ جمع کرادی۔

کپتان سمیت قومی ہاکی کھلاڑیوں کا نوکریاں دینے کا مطالبہ

کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان ہاکی ٹیم کا ٹریننگ کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے لیکن...

ملک بھر میں سندھ کورونا کیسز میں سب سے آگے

ملک بھر میں یومیہ رپورٹ ہونے والےکورونا کیسز میں سندھ سب سے آگے ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ...

رمیز راجا اور سابق کرکٹرز کی ملاقات کی اندرونی کہانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین رمیز راجاکی کراچی میں سابق کرکٹرز کے ساتھ ملاقات کی دلچسپ اندرونی کہانی منظر عام...

عمران خان نے اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ترمیم کو چیلنج کردیا

سابق وزیراعظم عمران خان نے اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔