Home بلاگ تحریک انصاف کالاہور جلسہ ،مسلم لیگ (ق)سے دو وزراء کابینہ کا حصہ،...

تحریک انصاف کالاہور جلسہ ،مسلم لیگ (ق)سے دو وزراء کابینہ کا حصہ، لاہور ہائی کورٹ کا حمزہ شہباز کی حلف برداری کے حوالہ سے فیصلہ

تحریر؛محمد مظہر رشید چوہدری
پشاور اور کراچی کے جلسوں کے بعد لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی اچھی خاصی تعداد نے تجزیہ کاروں کو یہ سوچنے پر ضرور مجبور کر دیا ہے کہ عمران خان کا بیانیہ نوجوانوں خاص طور پر اُن لوگوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے جنہوں نے عمران خان کی ساڑھے تین سال کی حکومتی کارکردگی سے مایوسی کا اظہار کیا تھا ، لاھور جلسہ میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں خارجہ پالیسی، مخالفین پر تنقید، کرپشن، بیرونی سازش اور ‘امپورٹڈ’ حکومت نامنظور کی بات کے ساتھ سلیکٹڈ کا لفظ بھی استعمال کیا جوکہ موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو عمران خان کے لیے بارہا استعمال کرتی تھی ، لاہور جلسہ میں انھوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ آنے والے دنوں میں وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال بھی دے سکتے ہیں،پی ٹی آئی نے دعوی کیا ہے کہ 21اپریل 2022کا جلسہ 2011 کے جلسہ جتنا تھا ، اگر تعداد کے حوالہ سے دیکھا جائے تو اس کو تاریخی جلسہ قرار نہیں دیا جاسکتا ، البتہ پرجوش نوجوانوں کے ساتھ خواتین ، بچوںکی ایک بڑی تعداد کے ساتھ جلسے میں لوگوں کی کثیر تعدادموجود تھی ،پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایک ہی طریقہ ہے جن سے بھی غلطی ہوگئی، غلطی ٹھیک کرنے کا ایک ہی طریقہ فوری الیکشن کراؤ، تحریک انصاف نہیں پاکستانیوں کو کال دے رہا ہوں، آپ سب نے گلی، محلوں میں جا کر تیاری کرنی ہے، میری کال کا انتظار کرنا ہے اسلام آباد بلاؤں گا، واضح کر دوں میرا ملک ہے کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتا، دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی نے 22پریل کی صبح وفاقی کابینہ کے 4 نئے ارکان سے حلف لیا جس سے بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ دنوں صدر مملکت سے ملاقات کے بعد حکومت اور صدر کے درمیان تعلقات میں کسی حد تک برف پگھلی ہے ،ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف بھی موجود تھے ،خاص بات حلف اٹھانے والوں میں( ق) لیگ کے چوہدری سالک حسین کا کابینہ میں شامل ہونا تھا ،اس کے علاوہ حلف اُٹھانے والوں میں( ن) لیگ کے جاویدلطیف ، بی این پی مینگل کے آغا حسن بلوچ اور محمدہاشم نوتیزئی شامل تھے، چودھری شجاعت حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چوہدری سالک حسین نے میرے کہنے پر ہی وزیراعظم شہباز شریف کو ووٹ دیا تھا، انہیں میری مکمل سپورٹ اور حمایت حاصل ہے،چوہدری شجاعت حسین مزید نے کہا ہے کہ( ق) لیگ کے دونوں وزراء (چوہدری طارق بشیر چیمہ اور چوہدری سالک حسین) ملکی سلامتی پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے لئے سب سے پہلے پاکستان ہے، اُن کا کہنا تھا کہ چیلنجز پر قابو پانا ترجیح ہے جبکہ رواداری اور وضع داری ہمارا شیوہ ہے ،(ق) لیگ سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی اورچوہدری مونس الہی پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں اورباقاعدہ تحریک انصاف اور عمران خان کے بیانیہ کو سپورٹ کرتے بھی نظر آرہے ہیں ،سانچ کے قارئین کرام! 22اپریل کو لاہور ہائی کورٹ نے بھی ایک اہم فیصلہ دیا ہے ،پنجاب کے گورنرعمر سرفراز چیمہ کے حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکار پر لاہورہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے صدرمملکت کو وزیراعلیٰ پنجاب کے حلف کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت کردی ہے ،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آج 21 دن ہو گئے صوبے میں کوئی حکومت نہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے الیکشن 16 اپریل کو ہوا،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ الیکشن بھی عدالت کے حکم پر ہوا ہے، الیکشن کیسے ہوا یہ عدالت جانتی ہے، گورنر بتائیں کہ وہ غیر حاضر ہیں یا حلف نہیں لے سکتے؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر نے حلف لینے سے انکار کر دیا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ چیف جسٹس امیر بھٹی نے حکم دیا کہ لکھ کر دے دیں کہ گورنر نے حلف سے انکار کر دیا ہے، تاکہ ہم حلف کے لیے کسی اور کو کہہ دیں، 11 بجے تک گورنر سے لکھوا کر عدالت میں پیش کریں، گورنر نے اگر انکار لکھنا ہے تو عدالت کے بجائے متعلقہ اتھارٹی کے نام لکھیں، 11 بجے دوبارہ سماعت ہو گی،وقفے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز کی بطور وزیرِ اعلیٰ حلف برداری کی درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے چیف جسٹس امیر بھٹی کو بتایا کہ گورنر پنجاب حلف نہ لینے کی وجہ صدرِ مملکت کو بھیج رہے ہیں، گورنر پنجاب کسی عدالت کو جوابدہ نہیں،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ 21 روز سے پنجاب میں حکومت نہیں، سوال ایک ہے کہ کیا وہ انکار بھیج رہے ہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ گورنر حلف نہ لینے کی وجہ صدرِ مملکت کو بھیج رہے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ عدلیہ کا ادارہ ایگزیکٹیو کی وجہ سے فیصلہ کرنے سے رکا ہوا ہے، پورا پنجاب اس وقت رکا ہوا ہے، گورنر پنجاب کو یہ بتا دیں کہ انکار کا تحریر کرنا کتنا ضروری ہے ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ یہ میں نے نہیں لکھنا، وہ گورنر نے خود لکھنا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ وہ آج ہی لکھ دیں گے۔ 22اپریل کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے منعقد ہوا ،شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد یہ قومی سلامتی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہے اس سے قبل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا تھا،زرائع کا کہنا ہے کہ امریکا میں سابق سفیر اسد مجید نے مراسلہ کے حوالہ سے شرکا ء اجلاس کو بریفنگ دی ہے، اجلاس میں سروسز چیف اور وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی ، قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ تادم تحریر جاری نہیں ہوا جس سے اجلاس کی تفصیلات سے آگاہی ملے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...