Home بلاگ شہباز حکومت عوام کے معاشی حقوق کی پاسدار

شہباز حکومت عوام کے معاشی حقوق کی پاسدار

تحریر؛مدثر قدیر
وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ایک تجربہ کار سیاستدان اور بہترین منتظم ہیں۔ انہوں نے درست کہا ہے کہ ہمارے سامنے بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں۔ معیشت تباہ حال، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے کارخانے بند پڑے ہیں، بے شک حکومت میں شامل ہر جماعت کی اپنی سوچ ہے لیکن یہ اتحاد پسند، ناپسند سے بالا تر ہو کر ملک کے 22 کروڑ عوام کی خدمت کے لیے کام کرے گی۔ ہم نے غربت، مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف جنگ کرنی ہے اور اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر قوم کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے جائیں گے۔دوسری جانب گزشتہ دنوں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پٹرول پر سبسڈی جاری نہیں رکھ سکتے۔ آئی ایم ایف سے ملاقات کر کے پروگرام بحال کرنے کے لیے درمیانی راستہ نکالیں گے کیونکہ عمران خان بارودی سرنگ لگا کر گئے۔ ڈیزل اور پٹرول پر ٹیکس نہیں لیا اور اس طرح نئی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا۔ مئی اور جون میں 96 ارب روپے تک کا خرچہ ہے جو پاکستان کی سویلین حکومت کو چلانے کے خرچے سے دوگنا ہے، جسے ہم جاری نہیں رکھ سکتے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ملکی معیشت، اقتصادی صورتِ حال اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے بیانات اپنی جگہ، لیکن اس تمام تر صورتِ حال کے باوجود اب اقتدار کی باگ ڈور سابق اپوزیشن جماعتوں نے سنبھال لی ہے اور تمام اداروں کا کنٹرول اب انکی حکومت کے پاس آ چکا ہے تو اس حکومت کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل حکمت و تدبر کے ساتھ استعمال کرے اور ایسے فول پروف انتظامات کرے کہ ان کے نتیجے میں حکومتی اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی آئے اور عوام تک اس کے ثمرات پہنچیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت کو بھی اسی طرح معاشی مسائل قرضوں کا بوجھ، مہنگائی، بیروزگاری اور خالی خزانہ جیسے مسائل سابقہ حکومت سے ورثے میں ملے ہیں جیسے عمران خان کی حکومت کو بقول انکے’مسلم لیگ نون کی حکومت سے ورثے میں ملے تھے۔ تاہم اس میں فرق یہ ہے کہ عمران خان کے پاس نہ تو تجربہ کار ٹیم تھی اور نہ ہی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح پالیسی، منصوبہ بندی یا وڑن تھا۔ چنانچہ ان کی حکومت ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ میں بھی نہ تو درپیش مسائل کو حل کر سکی اور نہ ہی عوام کو ریلیف مہیا کر سکی۔ بلکہ اپنی ناقص پالیسیوں کی بنا پر پہلے سے موجود مسائل میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ عام آدمی کے لیے ان تک رسائی قریب قریب ناممکن بنا دی گئی۔ پٹرول، گیس، ڈیزل، بجلی،گھی اور چینی وغیرہ کے ریٹس بھی انتہا کو پہنچ گئے۔ جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی لیکن اس کے برعکس میاں شہباز شریف کی قیادت میں جو کابینہ تشکیل دی گئی ہے اس میں زیادہ تر پرانے اور تجربہ کار وزیر شامل ہیں، ان میں زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ حکومتوں میں بھی بطور وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ عمران خان کے مقابلے میں اس ٹیم میں ”امپورٹڈ” وزیر مشیر بہرحال شامل نہیں ہیں جنہیں ملک کے معروضی حالات اور عوامی مزاج سے ہی واقفیت نہیں تھی۔ اس لیے عمران خان کے مقابلے میں میاں شہباز شریف کی حکومت سے عوام بجاطور پر یہ توقعات رکھتے ہیں کہ وہ سابقہ ”نااہل” حکمرانوں کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور ایسے اقدامات سے گریز کرے گی جو سابقہ حکومت کرتی رہی سو اب جو بھی حالات ہیں ان کا سامنا کرنا نئی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے جس سے وہ راہِ فرار اختیار نہیں کر سکتی۔ اسے درپیش چیلنجز کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے مالی بحران پر قابو پایا جا سکے، معاشی بدحالی کم ہو سکے اور عوام کو ریلیف میسر آ سکے۔ میاں شہباز شریف اور ان کے رفقائ عمران خان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اس کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ حالی کا شکار ہوئی اور ملک قرضوں میں جکڑا گیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت ان مسائل پر قابو پا کر عوام کو مشکلات سے نجات دلائے گی۔سو اب جبکہ ان کی حکومت قائم ہو چکی ہے تمام ادارے ان کے تابع فرمان ہیں،یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اب حالات صحیح سمت پر آگے بڑھ سکیں گے۔ میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ ایسی شارٹ ٹرم پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی کہ جن پر عمل درآمد کے نتیجے میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جا سکیں، اس لیے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتوں کو اپنی بقائ اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوام کے مفاد میں فوری اور دیرپا اثرات کی حامل پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی، اگر ایسا نہ ہو سکا تو سابقہ حکومت کی ناکامی کا ملبہ بھی موجودہ حکومت پر آ گرے گاجس سے بچ نکلنا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے حکومت کو ”وقت کم مقابلہ سخت” کی صورتِ حال کا سامنا ہے ملک ایک طرف آئینی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف بدترین مالی بدحالی اور اقتصادی کساد بازاری سے دوچار ہے۔ سابقہ حکومت کی معاشی پالیسی نہ ہونے اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث نئی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے واضح روڈ میپ کے ساتھ انتھک محنت، سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...