Home بلاگ غیر سنجیدگی

غیر سنجیدگی

تحریر؛ اورنگزیب اعوان
پاکستانی قوم دنیا کی وہ واحد قوم ہے. جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے وجود بھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شمار ہوتی ہے. اس کے برعکس کم وسائل والے ممالک ترقی کے سفر میں ہم سے بہت آگے ہیں. اس تضاد کی حقیقت جاننے کے لیے کی جانے والی تحقیق سے جو بات منظر عام پر آتی ہے. وہ بحیثیت قوم ہم میں سنجیدگی کا فقدان ہے. عام فرد سے لیکر ہمارے سیاسی رہنماؤں تک سبھی غیر سنجیدگی کے رویہ پر عمل پیرا نظر آتے ہیں. اس قوم کی یہ بھی بدقسمتی ہے. کہ ہمارے ہاں سیاسی رہنماؤں کی بہتات ہے. مگر کوئی سیاسی لیڈر نہیں. سیاسی رہنما وقتی سوچ رکھنے والا ہوتا ہے. وہ اپنے اور اپنی سیاسی جماعت کے ذاتی مفاد کو ملکی مفادات پر فوقیت دیتا ہے. جبکہ سیاسی لیڈر قومی مفادات اور مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کرتا ہے. وہ سوچتا ہے. کہ کس طرح سے وہ اپنی قوم کو یکجا کرکے ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے. ہمارے ہاں ہر سیاسی رہنما اپنی اپنی بولی بولتا نظر آتا ہے. وہ دوسرے کی بات کو سننا پسند نہیں کرتا. ان کے اسی منفی رویہ کی بدولت ہم آج تک ایک قوم نہیں بن سکے. ہم لوگ مختلف نظریات کے گرداب میں گھیرے ہوئے ہجوم کی مانند ہے. جس کو پتہ نہیں ہوتا. کہ اس نے کرنا کیا ہے. اس ہجوم کی کیفیت اس مسافر کی سی ہے. جو اپنی منزل کا تعین کیے بغیر محو سفر ہوتا ہے. اس کی قسمت میں سوائے سفری ذلت کے کچھ نہیں ہوتا. پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے سیاسی رہنما بھی گزرے ہیں. جن کی محبت میں عوام نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے ہیں. مگر یہ سیاسی رہنما بھی اس ہجوم کو قوم نہ بنا سکے. کیونکہ انہوں نے قوم کو مختلف ڈھروں میں تقسیم کیا رکھا. ان کا مفاد ہی قوم کو تقسیم کرنے میں پوشیدہ تھا. موجودہ حالات میں بھی یہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے. مگر ہمارے سیاسی رہنما اس پر شرمندگی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے. اپنی اپنی ڈگڈگی بجا رہے ہیں. ان سیاسی رہنما کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے ہی لگا لیں. کہ کوئی بھی دوسرے کو اقتدار کے ایوان میں برداشت کرنے کو ہرگز تیار نہیں. جو الیکشن جیت جاتا ہے. ہارنے والا اس پر دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر دیتا ہے. اس کے نزدیک اس کی جیت کی صورت میں ہی صحیح اور شفاف الیکشن منعقد ہوئے ہیں. بصورت دیگر دھاندلی زدہ اور سلیکٹیڈ زدہ الیکشن ہوئے ہیں. عمران خان جہنوں نے کرکٹ کے میدان سے دنیا بھر میں شہرت کی بلندیوں کو چھوا .کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نیاس ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کا عہد کرتے ہوئے سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا. انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنا کر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا. شروع شروع میں انہیں پاکستانی عوام میں خاص پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی. لیکن پھر یکایک عوام کے اندر ان کے سیاسی نظریہ کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا. ان کے سیاسی سفر کی بڑی کامیابی اس طبقہ فکرکو میدان عمل میں لانا تھا. جو کبھی بھی ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نہیں نکلا تھا. یہ طبقہ ملک کا پڑھا لکھا طبقہ تھا. جس نے عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کا مالی اور اخلاقی طور پر عملی ساتھ دیا. عمران خان نے اس طبقہ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی سیاست میں بوجھال پیدا کر دیا. مقبولیت کے غرور میں عمران خان نے سیاسی جماعت کے مقصد کو پس پشت ڈالتے ہوئے. ایک مافیا کی صورت اختیار کر لی. جس نے ملکی اداروں کو اپنے زیر نگیں لانے کی سعی پر عمل درآمد شروع کر دیا. جو کوئی بھی ان کے سیاسی نقطہ نظر سے اختلاف کی جسارت کرتا. اس کے خلاف منظم تحریک شروع کر دی جاتی. اس کو غدار اور ملک دشمن قرار دیا جاتا. یہ روش کسی بھی طرح سے جمہوری سوچ کی عکاسی نہیں کرتی. جمہوریت میں تو اپنے سیاسی مخالفین اور ان کے نظریات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. کیونکہ یہ ممکن نہیں. کہ تمام لوگ ایک ہی نقطہ نظر پر یکجا ہو جائے. مختلف نظریات سیاسی کلچر کے فروغ کے لیے انتہائی لازمی ہیں. اگر آپ کی سوچ کی مخالفت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا تو آپ کو پتہ کیسے چلے گا. کہ آپ صحیح ہے یا غلط. گزشتہ دنوں ملک کی سیاسی جماعتوں نے جمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے. عمران خان کو وزیراعظم پاکستان کے منصب سے سبکدوش کر دیا. جس پر انہوں نے ایک بار پھر سے ملکی اداروں کو دباؤ میں لانے کے لیے مہم کا آغاز کر دیا ہے. جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک بھر میں جلسوں کا اعاز کر دیا گیا ہے. ان کی سوشل میڈیا ٹیم ملکی اداروں کی کردار کشی کر رہی ہے. کاش عمران خان سیاسی رہنما بننے کی بجائے ایک لیڈر بن سکتے. انہوں نے قوم میں ایک ذہنی اضطراب پیدا کر دیا ہے. سادہ لفظوں میں انہوں نے ایک ایسا طبقہ فکر پیدا کر دیا ہے. جو اپنے سوا کسی دوسرے کی بات سننے کو ہرگز تیار نہیں. عمران خان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ روش سیاست میں زیادہ دیر نہیں چلتی. آج جو لوگ آپ کے جھوٹ سچ پر لبیک کہتے ہیں. کل کو یہی لوگ آپ کو سڑکوں پر گھسیٹے گے. کیونکہ آپ نے ان سیاسی تربیت ہی ایسی کی ہے. جن کے ہاتھوں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں. فوج، عدلیہ، سیاسی جماعتیں اور سرکاری افسران سبھی ان کے نشانے پر ہیں. عمران خان نے ایک بار پھر سے ملک میں انتشار پیدا کرنے کا پروگرام تشکیل دے دیا ہے. پچھلی دفعہ چین کے صدر کا دورہ ملتوی کروایا گیا تھا. اب پھر سے اسلام آباد میں دھرنے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے. عمران خان فوج کو دباؤ میں لانے کے لیے یہ حربہ استعمال کرنے جا رہے ہے . مگر اب کی بار فوج اس کے دباؤ میں نہیں آنے والی. کیونکہ عمران خان کو اب فوج کے ساتھ ساتھ عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا. آپ انتہائی خوش قسمت ہے. کہ آپ کے ووٹر اور سپورٹر آپ کی ہر غلطی کو نظر انداز کر دیتے ہیں. مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر چلنے والا نہیں ہے. آپ کو اپنے سپورٹر جو یقینی طور پر بہت بڑی تعداد میں ہیں. ان کی مثبت سیاسی تربیت کرنا ہوگی . کیونکہ الیکشن ووٹ کی طاقت سے جیتے جاتے ہیں. لڑائی جھگڑے سے نہیں. آپ نے اپنی حکومت کے چار سال کے دوران جن سیاسی شخصیات کی کردار کشی کی. آج وہی حکومت میں ہیں. عوام سب سے بڑی عدالت ہے. عوام بخوبی جان چکی ہے. کہ آپ اکیلے اقتدار میں رہنے کی غرض سے دوسروں کی کردار کشی کر رہے ہے. اللہ تعالیٰ کو غرور اور بڑے بول پسند نہیں. آپ نے جس نواز شریف کے بارے میں کہا تھا کہ اس کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگء ہے. اس کی تصویر کو ٹی وی چینلز پر دیکھانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی. گزشتہ رات ہر ٹی وی چینل پر وہی شخصیت براجمان تھی. لندن میں بیٹھ کر بھی نواز شریف پاکستان کی سیاست کا محور بنا ہوا ہے. اسی طرح آپ نے کہا تھا کہ میں شہباز شریف کو وزیراعظم کی شیروانی نہیں پہننے دو گا. دیکھ لیں انہوں نے شیروانی پہن لی . کچھ کام اللہ تعالیٰ نے کرنے ہوتے ہیں انسان نے نہیں. آصف علی زرداری اور فضل الرحمان کے بارے میں آپ نے کیا کیا القابات پکارے مگر آج ان سب کو اللہ تعالیٰ نے عزت سے نوازا ہے. آپ کی افراتفری کی سیاست سے ملک کا فائدہ نہیں نقصان ہو گا. جو پراپرٹی متنازعہ ہوتی ہے. اسے کوئی خریدنے کو تیار نہیں ہوتا. تو ملک میں افراتفری کے ماحول میں بیرونی سرمایہ کار کس طرح سے ملک میں سرمایہ کاری کرے گا . پاکستان کی غربت و پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی غیر سنجیدگی ہے. جس نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے. ابھی بھی وقت ہے. سب کو مل بیٹھ کر آپس میں سر جوڑ کر ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی. غیر سنجیدگی کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں. بلکہ خود ایک مسئلہ ہے. مستقل مزاجی اور لگن سے قوم کو پستگی کی گہرائیوں سے نکالا جا سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ہر اسکریچ کارڈ پر 5 روپے اضافی وصولی، کمپنی کا مؤقف سامنے آگیا

پاکستان میں آپریٹ کرنے والی ایک غیر ملکی موبائل کمپنی نے اخراجات میں اضافے کو جواز بنا کر صارفین سے ہر...

فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آنے والے 5 پاکستانی عازمین انتقال کرگئے

مکہ مکرمہ : فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جانے والے 5 پاکستانی عازمین انتقال کرگئے۔

ملک میں سونا مزید سستا ہوگیا

ملک میں آج ایک تولہ سونے کی قیمت میں 350 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ سندھ صرافہ...

اسحاق ڈار کو نیا پاسپورٹ مل گیا، پاکستان واپسی کی تیاریاں بھی مکمل: ذرائع

ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نیا پاکستانی پاسپورٹ مل گیا۔ قابل...

انگلینڈ کے ورلڈکپ وننگ کپتان اوئن مورگن انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر

انگلینڈ کے ورلڈکپ وننگ کپتان اوئن مورگن نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ انگلینڈ نے مورگن کی...