Home بلاگ کیا عمران خان بند گلی کی جانب جا رہے ہیں؟

کیا عمران خان بند گلی کی جانب جا رہے ہیں؟

تحریر؛عمران امین
پاکستان میںمعرض وجود میں آنے کے بعد سے مخلص اور دیانت دار سیاسی قیادت کا فقدان رہاہے۔آزادی کے بعد ابتدائی عشروں میںہمارے حکمرانوں کی اکثریت چند خاندانوں تک محدود رہی مگر اللہ بھلا کرے مرحوم ضیاء الحق کا ،جنہوں نے غیر جماعتی الیکشن کروا کر ملکی سیاست میں کئی نئے سیاسی چہریمتعارف کروائے اور یوں حکمران خاندانوں کی تعداد میں تو اچھا خاصااضافہ ہوگیا مگر قوم کی بری تقدیر نہ بدلی۔ ظلم،ناانصافی،کرپشن،جبر اور بدمعاشی کی عملی شکل والے معاشرے میں بدبودار حکمرانوں کی جوتیاں چاٹنا ،اس قوم کا نصیب رہا۔ حکمران طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے قوم کا ہر فردایک پیدائشی غلام کی طر ح مالکوں کی طرف سے دئیے گئے دلفریب نعروں کو بلند بھی کرتا رہا اور مسلسل بدحالی کا شکار بھی رہا۔ہاں!البتہ نئے اور پرانے خاندانوں کے وسائل اور آمدن میں وقت کے ساتھ ساتھ بے تحاشا اضافہ ہوتا رہا۔ پاکستان میں ہمیشہ سے حکومت اور اپوزیشن کا مخصوص کردار رہا ہے البتہ ہر بار حکومتی جماعت اور اپوزیشن کی جماعت بدلتی رہی۔جب حکومت مٰیں ہوتے ہیں تو آمر بن کرادارے کنٹرول کرنا اور من پسند انداز میں حکومتی اُمور چلانے کے خواہش مند ہوتے ہیں مگر جونہی اپوزیشن میں جاتے ہیں تو میرٹ پسندی،خودداری ، ملکی سلامتی،مہنگائی اور سازش کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔ماضی ہویا حال، ہماری سیاسی پارٹیوں کا یہیسیاسی چلن رہا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں کبھی بھی اُصولوں کی سیاست نہیں رہی بلکہ ہمیشہ سے پاور پالیٹکس رہی ہے۔ملکی سیاسی منظر نامے میںمقبول قیادت اور اداروں کے درمیان اختلافات کی صورت میں ہمیشہ سے یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ پاپولر عوامی قیادت کو دیوار سے لگا دیا جائے۔اگرچہ اس عمل سے وقتی طور پر مطلوبہ نتائج توملتے ہیںمگر یاد رکھیں!جبر سے اس قیادت کا تشخص آنے والے وقت میں مزید اُبھرا۔اس جبر کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا،ایک مقبول سیاسی رہنما کا عدالتی قتل ہوا اور ایک کو عوامی مقبولیت کے صلے میں ملک بدر ہونا پڑا۔پی پی پی اور نون لیگ کی اپنے اپنے صوبوں میں مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاپولر سپورٹ کو ڈی سپورٹ نہیں کیا جا سکتا ۔اب ہم موجودہ ملکی سیاست کی بات کرتے ہیںپاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال میں کل کی اپوزیشن جو پچھلے دنوںملکی اداروں پر الزامات لگا رہی تھی اب حکومت میں آنے کے بعداداروں سے مطمئن ہے جبکہ کل کی حکمران جماعت جو کل تک اداروں کی خود مختاری کی حمایت کرتی تھی آج انہی اداروں کے فیصلوں پر سوال اُٹھا رہی ہے۔اب کی باراپوزیشن پی ٹی آئی کو امریکہ مخالف کارڈ اور ملکی خودداری کارڈ نے مضبوط کر دیا ۔کیونکہ ملک کی 60%آبادی تیس سال سے کم عمر ہے اور نوجوان نسل میں عمران خان کی بہت زیادہ فین فائولنگ ہے لہذاملکی خودمختاری پر وہ سب پی ٹی آئی کا ساتھ دیں گے۔عمران خان کی اس سوچ کو مزید تقویت ،قومی قیادت کے بغیر پورے ملک میں ہونے والے عوامی احتجاج نے دی۔پھرپی ٹی آئی کی جانب سے جلسوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں آخری جلسہ لاہور میں ہوا۔عمران خان نے اب تک کسی بھی تقریر میں اپنی حکومتی کارکردگی کا ذکر نہیں کیا بلکہ اُن کی تقریروں میںاینٹی امریکہ اور ملکی خودداری کا ذکر ہی سننے کو ملا ہے ۔ابتدا میںعمران خان نے فوج اور عدلیہ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور یورپ کو بھی خوب کھری کھری سنائی مگر بعد میں انہیں سمجھ آگئی کہ فوری الیکشن کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ ضروری ہے جبکہ اینٹی امریکہ بیانیہ پرعمران خان کو جماعت کے اندر سے بھی مخالفت کا رجحان ملا ۔لہذا پہلے جلسے کے بعد سے فوج پر سے ہاتھ اُٹھا لیا گیااورمریکہ اور یورپ سے دوستی کی بات شروع ہو گئی مگر عدالتوں سے گلہ کیاجاتا رہا۔تاحال عمران خان اچھا کھیل رہے ہیں کیونکہ انہوں نے خلائی مخلوق کی گردان نہیں چھیڑی ،سلیکٹر کا لفظ نہیں بولا،میمو گیٹ اور ڈان لیکس جیسے وقوعہ سے دور ہیں،اینٹ سے اینٹ بجانے والا تاریخی جملہ ادا نہیں کیا اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند نہیں کیا اگرچہ اُن کے ساتھیوں کی جانب سے چندنا مناسب بیانات ضرور آئے ہیں مگر کپتان امریکہ دشمنی اورملکی سلامتی کا بیانیہ اتنا اُوپر لے گئے ہیں کہ جہاں عوام کے سامنے ایسے غیر ضروری بیانات اہمیت نہیں رکھتے ۔یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کا محتاط انداز ہی اُن کے لیے اقتدار کے راستے دوبارہ کھول سکتا ہے ورنہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائو کے بعد ہم نے مصر میںاخوان المسلمین،بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اور پاکستان میں ایم کیو ایم کا حشر دیکھا ہواہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف اپنی برطرفی کے بعد جی ٹی روڈ بیانیہ لے کر جب باہر نکلے تو انہیں اندازہ ہوا کہ سب قوتیںچڑھتے سورج کو سلام کرتی ہیں جبکہ عمران خان کے پیچھے بلا شک و شبہ اس وقت عوام کی ایک بڑی تعداد ہے۔موجودہ حکومت، اپوزیشن اور اداروں کے بقول عوام اب باشعور ہیں لہذا اب سب کا فرض ہے کہ باشعور عوام کی آواز سُنیںاور خصوصاً عمران خان کا فرض ہے کہ نہ صرف سُنیں بلکہ اس کی طاقت کا ٹھیک طرح استعمال کریں تاکہ وہ برسر اقتدار آکر اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے ملک و قوم کی تقدیر بدل سکیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...