Home بلاگ یہ رشتہ ہمیشہ رہے گا

یہ رشتہ ہمیشہ رہے گا

تحریر؛عمران محمود

(قسط نمبر 2)

محبت کا رشتہ:یہ بھی بہت طاقتوراور مضبوط رشتہ ہے۔ اسی کی بنیاد پر دنیا کا نظام رواں دواں ہے۔ سب سے عظیم اور مقدس محبت اللہ اور اس کے حبیب ? کی ہے۔ جس سے محبت ہو، وہ خوبیوں خامیوں کے ساتھ قبول اور منظور ہوتا ہے۔ جس محبت کا حکم ہے وہ اللہ اور اس کے حبیب ?کی ہے۔اللہ کے حبیب? کی محبت تو تمام رشتوں سے بالا ہے، فرض ہے۔ کیونکہ آپ? کے ساتھ محبت کا رشتہ اگر اپنے تمام رشتوں سے بالا نہ ہو تو انسان مومن نہیں ہو سکتا۔ وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ وہ فلاح نہیں پا سکتا۔ یہ محبت تقاضا کرتی ہے کہ حضور? سے سچی محبت کی جائے، آپ? کی تعریف کی جائے، آپ? کو یاد کیا جائے، آپ? کی یاد اور نعت کی محا فل کروائی جائیں۔ باقاعدگی سے آپ پر کثر ت سے درووسلام پیش کیا جائے۔ یہ محبت جس کو مل گئی اس کا بیڑا پار ہو گیا۔ اس کا دنیا و آخرت میں کام بن گیا۔ اسی طرح باقی جس انسان سے بھی سچی محبت ہو،انسان کی یادوں اور باتوں کو اکثر یاد کرتا رہتا ہے، ملاقات کے لمحات۔ غرضیکہ اس محبوب انسان کے ساتھ گزرے خوشگوار لمحات انسان کو خواش گواری کا احساس دلاتے ہیں۔ان سے انسان میں جان آجاتی ہیں۔ لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے اور بعض اوقات خوشی اور اداسی کے ملے جلے آنسو بھی ٹپک آتے ہیں۔ انسان کمزور ہے۔ وہ بہت کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن کافی ساری ادھوری خواہشات اور باتوں کے ساتھ چل بستا ہے۔کہیں انسان کمزور ہے کہیں تقدیر آڑے آ جاتی ہے۔ کہیں سب کچھ مل رہا ہے کہیں مانگ مانگ کر بھی کچھ نہیں مل رہا۔ آزمائش ہے یا کیا ہے؟ بات سمجھ سے باہر ہے۔ راز ہی راز ہیں۔ کچھ سوالات کے جوابات بس خاموشی ہیں، یا یہ بھی ممکن ہے کوئی مخصوص آنے والا وقت ان کے جواب دے دے۔ دلائل خالی پیٹ کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ دکھی اور مسائل میں گھرے ہوئے شخص کو بات مشکل سے سمجھ آتی ہے۔ وہ دلائل اور سہاروں پر یقین نہیں کر سکتا۔ کوئی رو رو کر مانگتا ہے تو کوئی مانگ مانگ کر روتا ہے۔ ایک کھیل ہے۔ ختم ہو ہی جانا ہے ایک دن۔ لیکن محبت کا رشتہ دنیا میں بھی ساتھ رہتا ہے اور آخرت میں بھی۔ محب اور محبوب کی خالص محبت ضرور ان کو ملا دے گی۔عقیدت کا رشتہ: کچھ لوگوں کے ساتھ محبت کے ساتھ ساتھ عقیدت کا رشتہ بھی بن جاتا ہے۔ عقیدت بڑی ہستیوں کے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ وہ لوگ بزرگ ہو سکتے ہیں۔ صوفی ہو سکتے ہیں۔ والدین یا اساتذہ بھی۔ امام مسجد بھی۔ یہ لوگ اعمال، کردار اوراپنی زندگی میں باقیوں سے بہت بہتر ہوتے ہیں۔ ان کے نقش قدم پر چلنے کودل کرتا ہے۔ ان کے ساتھ رہنے کو دل کرتا ہے۔ ان سے ملنے کو دل کرتا ہے۔ ان سے محبت سی ہو جاتی ہے۔دل میں ان کا مقام بن جاتی ہے۔ ان کو دیکھ کر اچھا لگتا ہے۔ ان کی بات ماننے کو دل کرتا ہے۔یہی عقیدت ہے۔ انکی بات ٹھیک لگتی ہے۔ ان کا ساتھ رہ کر سکون نصیب ہوتا ہے۔ دل چاہتا ہے دنیا و آخرت میں ان کا ساتھ ملے۔ یعنی ہمیشہ کا رشتہ اور روحانیت۔ یہ رشتہ ہمیشہ ہی رہتا ہے۔ جیسے کسی شخص کے والدین دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اس کے اساتذہ اور مرشد چلے جاتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ ان کی یادوں میں رہتا ہے وہ ان کو کبھی نہیں بھولتا۔ ان کو یاد کرتا ہی رہتا ہے۔ یعنی یہ رشتہ ہمیشہ کے لیئے قائم ہے۔ اور جو چیز قائم ہو وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ ویسے بھی انسان جس چیز سے محبت کرے گا اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اس لیے ان چیزوں سے محبت کی جائے جو دنیا و آخرت کے لیے باعث فلاح اور کامیابی ہو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...