Home بلاگ جمعتہ الوداع

جمعتہ الوداع

تحریر؛ علی رضا رانا
رمضان المباک اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ ایک تحفہ ہے اس ماہ مبارک میں عبادت کے تین حصے مختص ہیں جن کو عشرہ کہا جاتا ہے (1) عشرہ رحمت، (2)عشرہ مغفرت اور (3) عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اس کی فطرت میں نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی، تابعداری وسرکشی اور خوبی وخامی دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں یکساں طور پر رکھی ہیں اسی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے کہ کسی بھی انسان سے اچھائی اور برائی دونوں ہی وجود میں آسکتی ہیں، ایک انسان سے حسنات بھی ممکن ہیں اور سیئات بھی، اس کے باوجود کوئی سیئات ومعصیات سے مجتنب ہوکر اپنی زندگی اور اس کے قیمتی لمحات کو حسنات وطاعات سے مزین اور آراستہ کرلے تو یہ اس کے کامیاب اور خالق و مخلوق کے نزدیک اشرف واکرم ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے اور یہی تقویٰ وپرہیزگاری ہے جو روزہ کا مقصدِ حقیقی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔”اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ، چند روز ہیں گنتی کے۔حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورۖ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہیں ملی۔ (1)اللہ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔ (2) یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔(3) فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔(4)اللہ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ”میرے (نیک) بندوں کے لئے مزین ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔(5) جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورۖ نے فرمایا ہے کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، ایک ندا دینے والا پکارتا ہے اے طالب خیر آگے آ، اے شر کے متلاشی رک جا، اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے، ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے۔رمضان کا روزہ فرض اور تراویح کو نفل (سنت مؤکدہ) بنایا ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ ہمدردی اور خیرخواہی کا مہینہ ہے، اس میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، اس میں روزہ افطار کرنے والے کی مغفرت، گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی کے پروانے کے علاوہ روزہ دار کے برابر ثواب دیا جاتا ہے، چاہے وہ افطار ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے ہی کیوں نہ کرائی جائے، اگر روزہ دار کو پیٹ بھرکر کھلایا یا پلایا تو اللہ تعالیٰ اسے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا، اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ جس نے اس ماہ میں اپنے ماتحتوں کے کام میں تخفیف کی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ اس کی مغفرت اور اسے جہنم سے آزادی کا پروانہ دیں گے، پورا سال جنت کو رمضان المبارک کے لیے آراستہ کیا جاتا ہے، عام قانون یہ ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک دیا جاتا ہے، مگر روزہ اس قانون سے مستثنیٰ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”روزہ صرف میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں خود دوں گا۔” روزہ دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں: ایک افطار کے وقت کہ اس کا روزہ مکمل ہوا اور دعا قبول ہوئی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ماہِ رمضان کی برکتوں اور رحمتوں کو سمیٹنے والے عاشقانِ رسولۖ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا بالخصوص انتظار کرتے ہیں،اعتکاف کا اہتمام کرتے ہیں اور شبِ قدر کو پا لینے کی حسین خواہش کو اپنے دل میں سمائے رکھتے ہیں اورانتہائی خشوع خضوع کیساتھ جمعة الوداع ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔پروردگارِعالم کی ذاتِ پاک نے ”اپنے”بندوں کو نوازنے کیلئے بعض دنوں کو دنوں پر اور بعض راتوں کو راتوں پربہت زیادہ فضیلت عطا فرمائی ہے تاکہ امت مسلمہ اپنے دلوں کی سیاہی کو دھو ڈالے اور اللہ کی بارگاہِ مقدس میں سرخرو ہوسکے، جمعة المبارک وہ خاص دن کہ جس کو باقی دنوں پر خصوصی طور پر فضیلت وبزرگی بخشی گئی، جمعة المبارک کو ”سید الایام”یعنی تمام دنوں کا سردار کہا اور مانا جاتا ہے۔اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرمادیتا ہے اور یہ ساعت مختصر سی ہے۔”(صحیح بخاری)۔یہ جمعہ جب رمضان المبارک میں آجائے اورخصوصاًرمضان کے آخری عشرے میں تواس کی اہمیت مزیدبڑھ جاتی ہے، چناںچہ حضرت جابر سے منقول ہے کہ رمضان کے جمعہ کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے کہ مہینوں پررمضان کوفضیلت۔(کنزالعمال)۔ جمعة الوداع اس بات کااحساس دلاتاہے کہ اب صرف چنددن باقی ہیں،اوروہ ماہ مبارک اختتام کے قریب ہے جس میں روزانہ بارگاہ الٰہی سے بے شماربندوں کی مغفرت کی جاتی ہے، لہٰذااس کے احترام میں جوکمی کوتاہی ہوگئی ہو،اس پرصدق دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جائے، اس کی تلافی کی جائے،اورجودن باقی رہ گئے ہیں، ان کی قدرکی جائے اوراپنے گناہوں کوبخشواکررحمت کی بہاریں حاصل کی جائیں،دوزخ کی آگ سے آزادی کاپروانہ حاصل کیاجائے،ایسانہ ہوکہ پھریہ رمضان دیکھنانصیب نہ ہواورشایدیہ زندگی کاآخری رمضان ہو،لہٰذایہ جوچنددن اللہ نے عنایت فرمائے ہیں، انہیں بجائے لہو و لعب اورفضول کاموں میں لگانے کے اللہ پاک کو راضی کرنے میں گزار دیں،ان آخری دنوں میں اللہ پاک کی رحمت موسلادھاربارش سے زیادہ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔جمعة الوداع ہمیں متنبہ کرتاہے کہ رمضان المبارک کابابرکت مہینہ رخصت ہونے کوہے، لہٰذا بندے کواللہ تعالیٰ کاشکراداکرناچاہئے کہ رمضان المبارک کی دولت نصیب فرمائی، اورروزہ، نماز، تلاوت، تراویح کی عبادت کی توفیق عطاکی۔جس قدراللہ کاشکراداکیاجائے گا،اسی قدرنعمتوں میں اضافہ ہوگا۔ٍٍاللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ماہ رمضان المبارک تمام مسلمانوں کی بخشش و مغفرت فرما اور جہنم کے عذاب سے نجات عطا فرما آمین یارب العالمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...