Home بلاگ پرتشدد سوچ کی آبیاری

پرتشدد سوچ کی آبیاری

تحریر؛ اورنگزیب اعوان
دنیا بھر میں جہاں جہاں پرتشدد واقعات رونما ہوتے ہیں. ان کے پس پردہ ذاتی مفادات اور منفی سوچ رونما ہوتی ہے. مخصوص طبقہ فکر اپنے ذاتی مفادات اور منفی سرگرمیوں کے دفاع میں بنیادی حقوق کی حق تلفی کو جواز بنا کر پیش کرتا ہے ان کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کچھ بیرونی عناصر ان کے جذبات سے کھیلنے کا پروگرام تشکیل دیتے ہیں. یہ دستور دنیا ہے. کہ دکھ میں کسی سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے. تو شخص ہمدردی کرنے والے کو اپنا محسن سمجھنا شروع کر دیتا ہے. اس دستور پر چلتے ہوئے. بیرون عناصر کسی بھی ملک کے شہریوں میں پائی جانے والی احساس محرومی کو ہوا دیتے ہوئے. وہ ان کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں. جس کی بدولت علیحدگی پسند تحریکیں جنم لیتی ہیں. جو کسی بھی ملک کی سلامتی اور امن کے لیے نقصان دہ ہوتیں ہیں. بسا اوقات تو ملک اپنا وجود تک کھو دیتے ہیں. پاکستان بھی ایسے ممالک کی فہرست میں شامل ہے.جہنیں اپنے قائم کے ساتھ ہی ایسے واقعات ورثے میں ملے ہیں. پاکستان کے دشمن ممالک نہیں چاہتے. کہ ملک ترقی کی منازل طے کرے. اس لیے وہ مختلف چالیں چلتے رہتے ہیں. تاکہ ملک پاکستان اندرونی طور پر خلفشار کا شکار رہے. پاکستان ایک بار ان بیرونی سازشوں کی بدولت سانحہ مشرقی پاکستان سے دوچار ہو چکا ہے. جس کے زخم آج تک بھر نہیں پائے. اب دشمن ایک بار پھر سے پاکستان کے وجود کو پارہ پارہ کرنے کے لیے مصروف عمل ہے. اب کی بار اس کی نظر بلوچستان پر ہے. بلوچستان پاکستان کا رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا اور آبادی کے تناسب سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے. اس کی خصوصیت قدرتی وسائل سے مالا مال ہونا ہے. گوادر پورٹ کی تعمیر نے دنیا بھر میں اسے ایک منفرد مقام عطا کیا ہے. گوادر پورٹ اپنی خصوصیات کی بدولت دنیا میں ایک عجوبہ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے. چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک معاہدہ کے تحت بھی صوبہ بلوچستان میں بیشمار ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے. چین دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت ہے. جس نے دنیا پر راج کرنے والے ممالک کی حق حکمرانی کو ججھوڑ کر رکھ دیا ہے. ان ممالک کو لالے پڑے ہوئے ہیں کہ کس طرح سے اپنی عالمی حکمرانی کو برقرار رکھا جائے. یہ ممالک اپنا عالمی تسلط برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان خلا پیدا کرنا چاہتے ہیں. مگر ان کے تمام منصوبے ناکام ہوتے جا رہے ہیں. کیونکہ ہماری مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ان کی ہر چال کو بروقت ناکام بنا دیتے ہیں. اس کے ساتھ ہی ساتھ پاکستانی اور چینی سیاسی قیادت نے ہمیشہ مستقل مزاجی اور تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے. دشمن کو پیغام دیا ہے. کہ ہم لوگ بظاہر دو جسم مگر ایک قلب و جان ہے. دشمن نے پاکستان کو اندرونی طور پر سیاسی انتشار میں مبتلا بھی کیے رکھا. اس نے اپنے اس مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہمارے سیاسی رہنماؤں کو استعمال کیا. جہنوں نے ماضی میں چینی صدر کے دورہ کو ملتوی کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا. اس فعل کے انعام کے طور پر انہیں حکومت سازی کا موقع فراہم کیا گیا. ان حکمرانوں کے دور اقتدار میں سی پیک سمیت دیگر چینی ترقیاتی منصوبوں پر عملاً کام نہ ہونے کے برابر تھا. سی پیک اگر بروقت مکمل ہو جاتا. تو آج پاکستان کی معاشی تقدیر بدل چکی ہوتی. مگر یہ معاشی ترقی ہمارے دشمن سے ہضم نہ ہو پاتی. عمران خان نے اپنے سیاسی ورکرز کی ذہنی و سیاسی تربیت ہی اس طرح سے کی ہے. کہ وہ ملک و آئین سے زیادہ عمران خان کی ذات پر یقین رکھتے ہیں. ہماری مسلح افواج نے جب اس فتنہ کی کارستانی کو پکڑ لیا۔اور اس کو تلف کرنے کا پںختہ ارادہ کیا. تو اس نے اپنی سیاسی جماعت کو مسلح افواج اور ملکی آئینی اداروں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا. پاکستان تحریک انصاف کے کارکن سوشل میڈیا پر جو زبان مسلح افواج اور ملکی آئینی اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں. اس سے پتہ چلتا ہے. کہ ان کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں. ان بیرونی عناصر نے جب دیکھا کہ کتنی آسانی سے پاکستان کے پڑھے لکھے طبقہ کو بیوقوف بنایا جاسکتا ہے. تو ان کے حوصلوں کو مزید تقویت ملی. عمران خان آج بھی بیرونی عناصر کی ایمائ پر ملک کے آئینی اداروں پر لشکر کشی کی تیاری کر رہا ہے. اس سوچ کو پنپتا دیکھ کر بیرونی عناصر نے اب پڑھے لکھے طبقہ کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ کیا ہے. گزشتہ روز کراچی کی جامعہ میں ہونے والا خود کش حملہ اس پر مہر ثبت کرتا ہے. اس خود کش حملہ میں کوئی مذہبی تنظیم شامل نہیں. بلکہ بلوچستان کی ایک علیحدگی پسند تنظیم شامل ہے. مگر جو بات باعث تشویش ہے. وہ ایک پڑھی لکھی خاتون کا بطور خود کش بمبار ہونا ہے. اس خاتون نے ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے. اور دو بچوں کی ماں ہے. پھر اس نے ایسا اقدام کیوں اٹھایا. ملکی سیکورٹی ادارے اس نقطہ پر پوری دلجمعی سے تفتیش کر رہے ہیں. ان اداروں کو عمران خان جیسے جنونی شخص سے بھی باز پرس کرنی ہو گی. کہ وہ کس بیرونی ایجنڈا کے تحت معصوم عوام کو ملکی اداروں کے خلاف اکسا رہا ہے. کبھی یہ سپریم کورٹ آف پاکستان، پاکستان ٹیلی ویڑن، پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوتا ہے. تو کبھی الیکشن کمیشن آف پاکستان پر. اب کی بار اس نے مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ آور ہونے کا پروگرام تشکیل دیا ہے. یہ عوام کو بتاتا ہے کہ میرے خلاف بیرونی سازش ہوئی ہے. تو موصوف سے کوئی پوچھے کہ یہ اقتدار میں کس بیرونی سازش کے تحت نمودار ہوا تھا . اور اپنے چار سالہ دور اقتدار میں کس بیرونی ایجنڈا پر عمل پیرا رہا. ملکی سیکورٹی اداروں سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے. نیازی نامی فتنہ سے بر وقت نمٹ لے ورنہ یہ ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دے گا. اس کی منفی سوچ کی بدولت ہی اب ملک میں پڑھا لکھا طبقہ دہشت گردی کی طرف مائل ہو رہا ہے. بیرونی سازش کا شور مچانے والا خود بیرونی سازش کی پیداوار ہے. اس کے بیانیہ کی نفی کے لیے یہی ثبوت کافی ہے. کہ اگر اس کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے کوئی بیرونی سازش ہوئی ہے . تو پھر شہاز شریف کے اقتدار سنبھالنے ہی ملک میں خود کش حملے کیوں شروع ہوئے . سازش تو شہباز حکومت کے خلاف ہو رہی ہے. کیونکہ دشمن عناصر جانتے ہیں. کہ شہباز شریف وہ شخص ہے. جو دن رات محنت کرتا ہے. اگر یہ ملک پاکستان کا زیادہ عرصہ وزیراعظم رہا تو ملک کی تقدیر بدل دے گا. نیازی تو نام کا وزیراعظم تھا جسے ہر وقت ٹی وی چینلز پر بیٹھے رہنا پسند تھا. اس نے اپنے سیاسی کارکنوں کی ذہنی تربیت پرتشدد سوچ پر کی ہے. جو کسی کی بات نہیں سنتے. اور ہر وقت ملکی اداروں کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں. عمران خان پرتشدد سوچ کی مکمل طور پر آبیاری کر رہا ہے . اگر اس کو بروقت نہ روکا گیا. تو ملک کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا. مسلح افواج اور آئینی اداروں کو نیازی نامی فتنہ کا مکمل سدباب کرنے کی ضرورت ہے. کیونکہ یہ منفی اور پرتشدد سوچ کو پروان چڑھانے کا موجد بن رہا ہے. ملک پاکستان اس وقت کسی بھی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا. سیاسی رہنماؤں کو سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے. آپس میں مل جل کر ملک کو درپیش مسائل سے نکلنا ہو گا. یہی وقت کا تقاضہ ہے. اگر ملک ہوگا. تو ہی سب کی سیاست ہو گی. افسوس عمران خان اینی ذات اور ذاتی مفادات سے باہر نہیں نکل پا رہا. اس وقت قومی سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھ کر اس ملک کی بقائ کی خاطر اپنے اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا ہی ان کا اولین مقصد ہونا چاہیے. سیاست کے لیے بہت وقت ہے. اس وقت ملک کو آپ کی ضرورت ہے. خدارا باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس ملک کی بہتری کے لیے کام کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...