Home بلاگ دوسروں کیلئے سوچنا ،شرف قبولیت

دوسروں کیلئے سوچنا ،شرف قبولیت

تحریر عبدالعلی سید

زندگی بہت خوبصورت ہے اس کو بدصورت ہم لوگ خود بنالیتے ہیں ،شاعر اور مفکر دوست اور کزن زاہدعباس سید تو مجھے اکثر کہتے ہیں کہ” زندگی دوبارہ نہیں ملتی یہ بہت مختصر ہے اور یہ محبت کرنے کے لئے بھی ناکافی ہے پتہ نہیں لوگ نفرت کے لئے کہاں سے وقت نکال لیتے ہیں”.بھائی زاہدعباس سید کہتے تو سچ ہیں مگر زندگی کی اس دوڑ میں عجیب دوڑ لگی ہوئی ہے کوئی رقم بڑھانے کی جستجو میں لگا ہے تو کسی کو شہرت کی بھوک اور اقتدار کانشہ چین سے بیٹھنے نہیں دیتا ،ہر طرف نفاسا نفسی کا عالم ہے،ہرسو افراتفری ہے اور اس بھاگ دوڑ میں طاقتور کمزوروں کو کچلتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ،اس “بھگدڑ” میں کچھ تو اپنے ہی پیاروں کو روند رہے ہیں ،اپنوں کا حق غصب کرنے کا رواج عام ہے اکثر میرے پاس ایسے بے شمار کیس آتے ہیں جن کی حقیقت جان کربعض اوقات تو مظلوم سے فیس لینے کا بھی حوصلہ نہیں پڑتا جب کسی کولیگ کو بتاتا ہوں کہ فلاں غریب کے کیس میں فیس نہیں تو ساتھی وکلاء کہتے ہیں کہ “شاہ جی آپ تو درویش ہیں “اپنے بال بچوں کا بھی سوچیں اس جملے کو سن سن کر اب قصہ چہار کی بجائے پانچویں درویش کی کہانی لکھنے بیٹھ گیا ہوں ،بھائی زاہد عباس سید چونکہ اس قومی اخبار سرزمین کے گروپ ایڈیٹر ہیں تو اپنا کالم شروع کرنے کی جسارت کررہاہوں ۔مختصر زندگی دراصل ایک امتحان ہے اور لوگ پیپر دینے کی بجائے ہنگامہ آرائی کرتے نظر آتے ہیں ،آج کے اس عہد اذیت میں دوسروں کا خیال رکھنے والے ہی ہر امتحان میں سرخرو ہوتے ہیں ،لوگ جو دکھاوے کی عبادتیں کرتے نہیں تھکتے ان کے سامنے آج لال شہباز قلندر کے حوالے سے واقعہ پیش کررہا ہوں “
“لال شہباز قلندر ایک بار حج پر گئے تو انہوں نے خدائے بزرگ وبرتر سے دریافت کیا اس بار حج کس کس کا قبول ہو تو خدا کا جواب آیا ان لاکھوں میں سے صرف ایک سچے مسلمان کا
قلندر نے دریافت کیا وہ کون ؟
جواب ملا ۔۔فلاں ملک کے فلاں شہر کا علی نام کا لوہار ہے ،
یہ سن کر قلندر پرواز کرکے اس خوش نصیب ہستی کو دیکھنے پہنچ گئے ۔
دیکھا تو ایک سادہ سا بندہ اپنے کام میں لگا ہوا ہے
قلندر نے برجستہ کہا کہ “آپ نے ایسا کون سا نیکی کا کام کیا کہ آپ کا ہی حج قبول ہوا ؟
لوہار نے کافی سوچنے کے بعد کہا کچھ بھی تو نہیں ،
قلندر نے پھر اصرار کیا تو لوہار نے بتایا ۔۔ہاں البتہ گزشتہ سال کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے
“میں حج کا عزم باندھ چکا پوری تیاریوں کے بعد اہل خانہ کو کھانا بنانا یاد نہ رہا گھر کے ایک بزرگ نے مشورہ دیا کہ ہمسائے میں ایک عیسائی خاندان ہے جو اکثر ہم سے بوقت ضرورت کھانا لے جاتے ہیں اہل کتاب کے گھر سے کچھ منگوالیں ۔پیغام بھجوایا تو جواب آیا ہم نہیں دیں گے ،جواب میں تلخی کو دیکھ کر اس ہمسائے سے ناراض یا خفا ہونے کی وجہ پوچھنے میں ل (لوہار)خود انکے پاس گیا اور کہا ہم سے کیا غلطی ہوئی جو یوں تلخ لہجہ اختیار کیا ،مسیحی ہمسائے نے بڑے دھیمے لہجے میں جواب دیا آپ کا کچھ قصور نہیں ہمارے حالات بہت خراب ہیں ،روزگار نہیں ،اکثر فاقہ کشی رہتی ہے اور آپ کے گھر سے مانگ کر گزارا کرتے ہیں ،آج گھر میں کچھ نہیں ،کوئی مددگار نہیں ،جس پر میں نے حج کا ارادہ ملتوی کیا اور ساری رقم اس ہمسائے عیسائی کو دیدی تاکہ کوئی کاروبار کرسکے ۔اس کے اگلے سال کا ارادہ حج کیا””.لوہار کی یہ ادا رب کو اتنی پسند آئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں سے صرف اسکے حج کو شرف قبولیت بخشا گیا۔زندگی کی دوڑ میں لگے دوستوں کے لئے بھائی زاہدعباس سید سے سنا ہوا شعر پیش کرکے اجازت چاہوں گا ۔ع

ایسے لگتا ہے مجھے اس زندگی کی دوڑ میں
ہاتھ کچھ آئے نہ آئے دوڑتے رہ جائیں گے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...