Home بلاگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی حکم عدولی

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی حکم عدولی

روداد خیال صفد خاں

حضرت علامہ اقبال نے اپنے شکوے کی جواب میں کہا تھاکہ ، ع
کی محمدۖسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
حضرت علامہ اقبال نے تو کائنات کا وہ راز طشت ازبام کرکے رکھ دیا جسے پانے کے لئے ولیوں اور قلندروں نے بڑے کشٹ جھیلے ،یہ بڑے نصیب کی بات ہے کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے ہیں ورنہ کئی پیغمبر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہونے کی خواہش کا برملا اظہار کرتے رہے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آفاقی پیغام امن نے دنیا میں انسانیت کو فروغ دیا اور پوری انسانیت کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ مشعل راہ ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عن عبد اللہ بن عمرو وجابر بن عبد اللہ -رضی اللہ عنہم- مرفوعا: المسلم من سلِم المسلمون من لسانہِ ویدِہِ، والمہاجر من ہجر ما نہ اللہ عنہ. وعن بی موس -رضی اللہ عنہ- قال: قلت: یا رسول اللہِ ی المسلمین فضل قال: من سلِم المسلمون من لِسانِہِ ویدِہِ،عبد اللہ بن عمرو اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور حقیقی مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ۖ! کون سا مسلمان سب سے افضل ہے؟ آپ ۖ نے فرمایا: جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں۔یعنی کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں یعنی نہ وہ انہیں گالیاں دے، نہ ان پر لعنت بھیجے، نہ ان کی غیبت کرے اور نہ ہی ان کے مابین کسی قسم کا شر و فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اسی طرح وہ اس کے ہاتھ سے بھی محفوظ رہیں بایں طور کہ وہ ان پر کوئی ظلم نہ کرے، ناحق ان سے ان کے مال نہ لے اور اس طرح کی کوئی بھی زیادتی ان کے ساتھ نہ کرے۔ اور حقیقی مہاجر وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی حرام کردہ (امور) کو چھوڑ دے،اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے پاکستان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آفاقی پیغام کو پھیلانے کے لئے ہی تو قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کو اس مقام پر یکجا کیا تھا مگر بد قسمتی سے آج ہم ناصرف قائد اعظم محمد علی جناح کے وڑن کو بھلا چکے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو بھی فراموش کرکے تاریخ کی بدترین قوم بن کر اپنے گناہوں پر شرمندہ بھی نہیں ،اپنے مسلمان بھائی کے خلاف زبان بند رکھنے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکم عدولی کرتے ہوئے مسجد نبوی میں سیاسی نعرے اور ہنگامہ کرکے حرم پاک کی توہین کرچکے ہیں۔کسی بھی سیاسی جماعت کے حامیوں کے اس مکروہ عمل کو دنیا کا کوئی مہذب انسان ناپسند ہی کررہا ہے ،دنیا بھر سے ان عناصر کے خلاف اظہار مذمت پر مبنی بیانیہ میڈیا نے پیش کرکے ان کے مکروہ چہرے بے نقاب کرکے رکھ دیئے ہیں ،بدقسمتی سے ان لوگوں نے پاکستان کی ساکھ بھی تباہ کرکے رکھ دی ہے ،کیونکہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام پر اس بدتمیزی کے مرتکب عناصر کو پاکستانی قرار دیا جارہا ہے۔بلکہ سعودی حکومت کی جانب سے تو ان عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔پاکستان میں سعودی سفارت خانہ کے میڈیا ڈائریکٹر نے تصدیق کی ہے کہ مسجد نبویۖ میں پیش آئے واقعے میں چند پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔پاکستان میں سعودی سفارت خانہ کا مدینہ منورہ کی مسجد نبویۖ میں نعرے بازی اور حکومتی کارروائی پر ردعمل سامنے آیا ہے۔پاکستان میں سعودی سفارت خانے کے میڈیا ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے چند لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔چار سال تک کبھی نیا پاکستان اور کبھی ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والوں کی سوچ کا محور جیسے صرف اقتدار تک رسائی تک محدود تھا ،اقتدار ہاتھ سے نکل جانے پر حواس باختہ ہوکر ہر اوچھا ہتھکنڈا استعمال کرنے پر بھی کچھ حاصل نہ ہوا تو مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام کی توہین کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح حکم کی خلاف ورزی بھی کرڈالی ،اپنے ہی کلمہ گو مسلمان بھائی کو اس مقام پر گالیاں دیں جس ذات پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان کے دشمنوں کو کبھی بددعا تک نہ دی۔بقول شاعر۔ع
معاف کردیا اپنے لہو کے پیاسوں کو
شفیق ایسے ہیں خود دشمنان جاں کے لئے
مسجد نبوی میں چند عناصر کی بدتمیزی کا عمل حالانکہ پورے پاکستان کی عکاسی تو نہیں کرتا مگر دنیا میں یہ تاثر ضرور گیا ہے کہ ع
“یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود “
ہم آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور کس منہ سے جائیں گے ،مسجد نبوی کے اس حالیہ واقعہ پر ہم شرمندہ ہیں اور اس مکروہ عمل کی دل کی گہرائیوں سے مذمت کرتے ہیں ،ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے ،اس لئے یہ لوگ جو بھی نظریہ رکھتے ہیں ہمارا بلکہ پوری پاکستانی قوم کا ان سے کوئی تعلق نہیں ،ہمارے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہی مشعل راہ ہے ،اپنے پیارے بھائیوں جیسے دوست زاہد عباس سید کی نعت کے اس شعر سے ہی میرے اور پوری پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی ہوتی ہے۔ع
انہیں (ص)کا اسوہ ء حسنہ ہے راہنمامیرا
ہر ایک لمحہ ء آرام و امتحاں کے لئے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...