Home بلاگ پاکستان میں فن خطاطی کا مستقبل تابناک ہے

پاکستان میں فن خطاطی کا مستقبل تابناک ہے

تحریر؛ منشاقاضی
حسب منشا

پاکستان میں فن خطاطی کا مستقبل استاد خطاط جناب عرفان قریشی اور عالم مصور پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیق فاروقی کی موجودگی میں تابناک بھی ہے اور خوفناک بھی , تابناک اس لیئے ہے کہ اگر خلوص نیت سے دل و جاں سے مل کر کام کرتے رہے تو تابناک ہے اور خوفناک اس لیئے ہے کہ اگر اسلامی فنون لطیفہ کے فروغ اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کے لیئے ہمت چھوڑ دی تو فن خطاطی کا مستقبل خوفناک ہو سکتا ہے لیکن غالب قیاس یہی ہے کی جس سریع الحرکتی سے کام پاکستان کیلی گرافکس آرٹس گلڈ کے زیر اہتمام ہو رہا ہے جس کا تذکرہ آج کے سیمنار میں بارہا ہوا ہے , , پاکستان میں فن خطاطی ماضی حال اور مستقبل پر یہ سیمینار دروس نتائج کا حامل ثابت ہوا ہے , جس کی صدارت عالمی مصور پروفیسر ڈاکٹر جناب شفیق فاروقی نے کی اور مہمان خاص کی نشست ہر ملک کی نامور فنون لطیفہ کی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر راحت نوید مسعود براجمان تھیں , میزبان خاص ڈاکٹر صغری صدف ڈی جی پلاک , ڈاکٹر رضوان عظیم , ممتاز استاد شاعر , صحافی دانشور جناب انوار قمر اور گلڈ کے جنرل سیکرٹری جناب عرفان قریشی کا خطبہ ء استقبالیہ کیا تھا , ایک نوحہ تھا اور زور دار ماتم تھا ,

پھر نہ اٹھا کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل ایران وہی تبریز ہے ساقی
ماضی میں فن خطاطی کی تابناکی اور اس کی عظمت کے گن مغرب بھی گاتا رہا ہے اور مسلمانوں کو ماضی کی یادوں میں لے جا کر خود اپنے حال کو درخشاں کر کرنے میں مصروف رہا ہے , اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارا ماضی روشن تر ہے اور جس زمانہ میں یورپ غسل کرنے کی رسم کو بے دینی کی رسم قرار دیتا تھا اس زمانے میں ہمارے علمائے اکرام , مسلمان سائنسدان اور خطاط حضرات قرطبہ کے بہترین حماموں میں لطف اندوز ہو رہے تھے اور ہمارے خطاط حضرات کے خامہ ء عنبر شمامہ سے نکلے ہوئے مخطوطے اور فن پارے وہاں سے اٹھا کر یورپ کے عجائب گھروں میں آپ کو ملیں گے اور ہم اس پر اظہار تاسف کرتے رہیں گے ,

وہ جو میں نے تراشے تھے تیرے تصور میں کبھی
وہ بھی لے گئے میرے گھر سے بچاری پتھر

ترک قوم کو میرا سلام شوق دل کی گہرئیوں سے پہنچے جنہوں نے اپنے ملک کی یونین کونسل تک فن خطاطی پر مستقل اور پائیدار کام کیا ہے , فن خطاطی کی جس طرح ترکوں نے پذیرائی کی رسم ایجاد کی ہے وہ قابل ستائش بھی ہے اور قابل گراں قدر بھی پاکستان میں جن عظیم المرتبت جلیل القدر خطاطی اور مصوری کے جانبازوں نے اپنی ہستی کو مٹا کر اپنا مرتبہ اور عزت و توقیر حاصل کی ہے اس پر وہ پوری ملت اسلامیہ کی جانب سے ہدیہ ء تبریک کے حقیقی مستحق ہیں جنہوں نے فن خطاطی کی گرتی ہوئی دیوار کو اپنی ذاتی کوشش اور ہمت سے سہارا دیا اور وہ اب قائم ہو گئی ہے اور خطاطی کا یہ تاج محل پوری دنیا میں گمنام ہیروز کے دست ہنر سے نکلے ہوئے شہہ پارے خاموش سفیر کا کردار ادا کریں گے , جنرل ہمایوں بنگش کی کاوش بھی اللہ کی نوازش ہے اور ان کی سرپرستی میں کوئی سازش نہیں ہو سکتی اور ان شاءاللہ یہ قافلہ ء نو بہار اپنی منزل مراد پر پہنچ کر دم لے گا اور دنیا جان لے گی کہ فن خطاطی کے آسمان پر فنون لطیفہ کا سورج کیونکر طلوع ہوتا ہے؟ کیلی گرافکس آرٹس گلڈ کے بانی جنرل سیکرٹری جناب عرفان احمد قریشی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں صدر ذی وقار جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیق فاروقی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اس خلا پر اظہار تاسف کیا جو ابتدا میں شفیق فاروقی صاحب نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا تھا اور آج ہم اس منزل کی جانب رواں دواں ہیں جہاں سے ہم نے تھوڑی دیر آرام کیا تھا ویسے تو کہا جا سکتا ہے ,
کہ
آرام سے کون ہے اس جہان خراب میں
گل سینہ چاک اور صبا ہے اضطراب میں
اس ماحول میں چند یہ دیوانے لوگ جمع ہو کر اسلامی فنون و علوم اور مشرقی تہذیب و تمدن اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کو ہی نسل نو کی کامیابی سمجھتے ہیں , ڈاکٹر صغری صدف کا ہدف بھی فروغ خطاطی کی منزل ہے اور ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں ہیں پاکستان کے تعلیمی نصاب میں خطاطی کا مضمون لازمی قرار پا جائے گا ,اس میں اگر تاخیر ہو گئی تو پھر دور دور تک کوئی بھی ماہر فن خطاطی کروڑوں روپے میں بھی نہ مل سکے گا , پھر آپ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے گنگناتے رہو گے

آئے عشاق گئے وعدہ ء فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈیئے چراغ رخ زیبا لیکر

ڈاکٹر صغری صدف ڈی جی پلاک کی پیش کش اتنی دلکش تھی کہ اس پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور اس پیشکش کو سراہتے ہوئے خطاطی کی کلاسوں کا اجرا عید کے بعد جلد اعلان ہو گا ڈاکٹر صغری صدف علالت کے باوجود اپنے جذبہ ء شوق ء دارفتگی کی روحانی قوت سے گویا ہوئی اور راحت افزا نوید سے سب کو سرشار کر دیا , جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیق فاروقی کے روشن صدارتی کلمات میں خطاطی کے فن کا تابناک مستقبل دکھائی دیتا تھا , آپ نے خطاطی اور مصوری کے حسین امتزاج سے مولانا رومی , اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو کام کیا ہے جی چاہتا کہ ان کے ہاتھ چوم لوں اور اس مرد درویش کی کارکردگی کا حسن خطاطی کی جمالیاتی کیفیت میں فزوں تر محسوس ہوتا ہے
بقول حیرت کے ,

لوح جہاں پہ میں نے کیا ہے رقم اسے
سنتے نہیں وہ میرا افسانہ تو کیا ہوا
مہمان خاص پروفیسر ڈاکٹر راحت نوید مسعود کی گفتگو کی جستجو میں سب کی آرزو جاگ اٹھی , موصوفہ اوصاف فنون لطیفہ کا مجموعہ اور مشرق و مغرب کی تہذیبوں کا قریب سے مشاہدہ اور کائنات کا مطالعہ آپ کی بصیرت و بصارت کی آنکھوں کا معجزہ ہے اور یہ حقیقت ہے کہ نہ ہی دنیا میں ہم نے کسی قوم کو بے معجزہ ابھرتے ہوئے دیکھا ہے اور نہ ہی ضرب کلیمی کے بغیر کوئی ہنر کام آتا ہے , محترمہ پروفیسر ڈاکٹر راحت نوید مسعود کے آئینہ ء ادراک پر مغربی فن پاروں اور نابغہ ء روزگار فن کاروں کے نظریات و افکار رقصاں تھے اور آپ کو مغربی تاریخ کے دائرے میں ہی رکھا گیا تھا اس کے باوجود محترمہ نے اپنے اسلاف کی اعلی روایات و اقدار کو مرنے نہیں دیا ,اور محترمہ مبارک باد کی مستحق ہیں انہوں نے اپنی مثبت اور پاکیزہ سوچ کے بطن سے مشرقی علوم و فنون کی جنون کی حد تک انسانی ذہنوں کی کشت ویراں کو سیراب کیا , محترمہ راحت نوید کے مسعود کارنامے ہماری فنون لطیفہ کی تاریخ میں آب زر سے لکھے جائیں گے , انوار قمر نے کہا کہ میں نے بالکل نہیں آنا تھا لیکن جب میں نے ایک کتاب کو دیکھا جس کے ٹائٹل پر کسی خطاط نے طشتری پر موتی جڑ دیئے ہوں اور اس فن پارے نے میر جگر پاش پاش کر دیا اور میں نے ارافہ باندھ لیا کہ مجھے پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیق فاروقی صاحب کے تقاضوں کے سامنے کوئی بھی تو عذر معقول نہیں رہا تھا اور میںطاس مقبول عام سیمینار میں سر کے بل چلا آیا , ڈاکٹر رضوان بہت عظیم انسان ہیں وہ بھی اس فن کے قدر دان ہیں ان کا اپنا شعبہ بھی بہت نفیس ہے اور وہ بھی دل کی گہرائوں سے منٹظمین کی کارکردگی کے حسن پر فریفتہ تھے ,نظامت و نقابت محمد عاصم چوہدری نے سلیقے اور قرینے سے کی , کیونکہ
سلیقہ انتہا کا چاہیئے موتی پرونے میں
انتظامت کا حسن عامر فاروقی , شکیل فاروقی , آفاق فاروقی اور کیلیگرفکس آرٹس گلڈ کے فن کاروں کے منصوبہ ساز ذہن کا رہیں منت تھا , ہال کی دیواروں پر ایک ایک فن پارہ کروڑوں روپوؤں کو بھی شرمسار کر رہا تھا اور خاکسار خطاط حضرات خاموش بیٹھے ہوئے اپنے فن پاروں کی داد پر مطمئن تھے اتنے مطمئن نی تو میں نے اتنا مطمئن برلا کو دیکھا ہے اور نہ ٹاٹا کو , کاش میں ان کے نام نوٹ کر لیتا اور کالم میں ان کے اسمائے گرامی لکھتا تو نسل نو کو معلوم ہوتا کہ محنت , ریاضت اور ہمت کس کو کہتے ہیں ,

شفق لہو میں نہائی سحر اداس ہوئی
کلی نے جان گنوا دی شگفتگی کے لیئے

خاک گلشن سے نکل کر گل نے ثابت کر دیا
خاک میں ملنے سے پہلے زندگی ملتی نہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...