Home بلاگ اقبال کا تصور خودی

اقبال کا تصور خودی

تحریر منشاقاضی (حسب منشا )

احسانات سے دبی ہوئی زندگی انسان کے شایان شان نہیں ہے اور جس دل میں خودداری کی تمنا نہیں وہ انسان نہیں ہے , آج ہم روزانہ گوشت پوست کے جاندار لوگوں کو دیکھتے ہیں ان میں آپ کو معلوم ہے کہ انسان کتنے ہیں کوئی نہیں جانتا جب تک تم ایک دوسرے سے ملو گے نہیں اس سے گفتگو کرو گے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تم کسی انسان سے بات کر رہے ہو , حضرت علی کا قول ہے کہ بولو تاکہ تم پہچانے جاؤ , کارنیگی نے کہا تھا کہ زمانہ ایسے افراد کے آگے جھکتا چلا آیا ہے جن میں انفرادیت اور احساس خودی ہو رمضان المبارک کے موسم بہار میں علامہ اقبال کا تصور خودی کا تصور زیادہ بہتر سمجھ میں آتا ہے اور اسی وجہ سے ڈاکٹر نوشین خالد نے ماہ رمضان کے 28 ویں روزہ کی مناسبت سے دوگونہ ثواب حاصل کیا ہے اور 30 اپریل کو کاسمو کلب میں ایک نشست اقبال کا تصور خودی کا اہتمام محترمہ ڈاکٹر نوشین خالد کی جانب سے کیا گیا یہ نشست علامہ اقبال کے 84 ویں یوم وفات کے حوالے سے تھی تقریب کی صدارت جناب ولید اقبال سبط اقبال نے کی , تقریب کی نظامت اور نقابت کی باگ ڈور علامہ اقبال کی فکر کے پرچارک جناب ڈاکٹر افتخار بخاری کے ہاتھ میں تھی , تلاوت قرآن پاک سے تقریب کا آغاز ہوا اور محترمہ میمونہ ساجد نے کلام اقبال پیش کرنے کی سعادت حاصل کی اور ترنم سے خودی کا سر نہاں لا الہ اللہ , خودی ہے تیغ فساں لا الہ اللہ نے دلوں میں تحیر انگیز گرمی ء گفتار سے بہار آفریں ماحول پیدا کر دیا , ڈاکٹر نوشین کا دلنشین خطبہ استقبالیہ کیا تھا پورا سمندر قطرے میں نظر آ رہا تھا , وقت کی تنگ دامانی کے باوجود نوشین نے اقبال شناسوں کا اور حاضرین محفل کا تعارف کرایا محفل میں اقبالیات کے ماہرین کے علاوہ علامہ سے عقیدت رکھنے والے صحافی , شعرا ریڈیو آر جے , چیمبر آف کامرس کے اراکین , اساتذہ بطور مبصر شریک ہوئے. صبا ممتاز بانو , صبا مبارک وائس پریذیڈنٹ وویمن چیمبر آف کامرس , محترمہ ناہید نیازی ریڈیو پاکستان سے تشریف لائی تھی نادرہ وٹو کا پس منظر سیاسی خاندان کی وحاہت اور ماضی تابناک و روشن اعزازات سے متصف ہے , رقیہ اکبر , مقصود چغتائی , غلام زہرہ , شاذب بخاری , ہما عمران کی شرکت بھی ماحول میں چاندنی بکھیر رہی تھی , ڈاکٹرنوشین نے افتتاحیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ فکر اقبال کا عملی اطلاق انقلاب ایران کی صورت میں ہمارے سامنے ہے , ڈاکٹر علی شریعتی علامہ اقبال سے بہت متاثر تھے انہوں نے علامہ اقبال پر دو تصانیف بھی رقم کیں ہیں. اور ان کے ادارے حسینیہ ارشاد نے علامہ اقبال پر کانفرنس بھی کروائی ہے , وہ خودی کو خودشناسی اور خود آگاہی سے تعبیر کرتے ہیں علامہ کے تصور خودی کے عملی اطلاق کی صورت میں انقلاب ایران آیا . تصور خودی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر یونس جاوید اوپل نے علامہ اقبال کے فلسفہ ء خودی اور ریاستی خود مختاری کے موضوع پر آج کاسمو کلب میں جو سیمینار منعقد ہوا ہے اس میں ڈاکٹر جاوید یونس اوپل پریذیڈنٹ انسٹی ٹیوشن آف انجیئنرز پاکستان آج سب شامل ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ بغیر کسی ذاتی مفاد کے رمضان کے اس مبارک مہینے کے اختتام پر صرف ملک و ملت کی بہتری کی سوچ لے کر شامل ہوئے ہیں , ڈاکٹر یونس جاوید اوپل ماہر اقبالیات کے علاوہ انسٹیٹیوٹ آف انجینئرز کے صدر اور مجلس رومی و اقبال سے وابستہ ہیں. اپنی زندگی اور کامیابیوں کو وہ فیض اقبال کا ثمر قرار دیتے ہیں بطور مہمان خصوصی برگیڈئر ڈاکٹر وحید الزماں طارق شریک تھے آپ اقبال ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سرپرست اعلی ہیں بطور اقبال شناس ان کی کتب فارسی , انگریزی , اردو زبانوں میں ایران پاکستان سے شائع ہو چکی ہیں ان کی کتاب اقبالیات فوح کے نصاب کا حصہ ہے زیر نظر جملے ان کے خطاب سے لیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ خودی عربی اصطلاح نفس سے ماخوذ اور اس سلسلہ
میں علامہ اقبال کے پیش نظر سورہ ء حشر اور سورہ ء فصلت کی آیات تھیں جن کا حوالہ علامہ اقبال نے توحید سے مربوط کیا تھا. خودی کا سر نہاں لاالہ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الااللہ خود سے مراد وہ جملہ خصوصیات ہیں جو خود سے مشتق ہیں مثلا
ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
اس کے علاوہ خود شناسی , خود انحصاری , خود اعتمادی , خودداری اور خود ارادیت بھی اسی ضمن میں آتے ہیں اقبال قوم کے جوانوں کو فولادی عزائم اور قوت سے سرشار دیکھنا چاہتے تھے ,
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
خودی کے استحکام کے لیئے بہت عرصہ درکار ہوتا ہے , خودی اگر افراد کی زندہ ہو تو وہ قوم زندہ و جاوید ہو جاتی ہے اور وہ خود انحصاری کے راستے پر گامزن ہو جاتی ہے وہ غربت میں بھی اپنے وسائل پرانحصار کرتی ہے ,
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
فضیلت مآب جناب مسعود علی خان جو ہال آف فیم کے خالق اور پی سی ہوٹل کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا حصہ رہے ہیں اور پاکستان ٹؤرزم ڈویلمنٹ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے شاندار , کامیاب اور مؤثر کارکردگی کا حسن ماحول میں پیدا کر چکے ہیں اور بہت بڑے موٹیوشنل سپیکر کے طور پر معروف ہیں ہم نے تو ان کے انکسار میں ہمیشہ افتخار تلاش کیا ہے اور وہ جہاں بھی بیِٹھ جائیں اپنی شخصیت کا رنگ جما دیتے ہیں , خود اعتمادی کا پہاڑ ہیں ,
اس لیئے ان کو سٹیج پر جلوہ افروز ہونے کا تقاضا بخاری صاحب کرتے رہے مگر بات یہ ہے

کہ
رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے
جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی میخانہ بنے
انہوں نے اپنے بصیرت افروز خیالات کا اَظہار کچھ یوں کیا کہ زندہ قومیں کبھی کسی دوسرے ملک سے امداد نہیں لیتی , خود کفالت اور خودانحصاری زندہ قوموں کی غیرت کے زیور ہوتے ہیں اور آزادی کی ہر طرح سے حفاظت کی جاتی ہے اور اس کی کوئی بھی قیمت ہو ادا کرنی پڑتی ہے وہ قیمت ہم نے قیام پاکستان کے وقت ادا کی تھی اور یہ قیمت کیا تھی عفت مآب بہنون اور بیٹیوں کی عصمتں جن کا بدل دنیا کی کوئی متاع نہیں ہو سکتی , سجیلے جوانواں کی جوانیاں یہ ہم نے قربانیاں دی ہوئی ہیں اس لیئے

ججتے نہیں ہیں وہ بخشے ہوئے فردوس نظر میں

جنت تیری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں

نور والوں کے ڈیرے کے سجادہ نشین ڈاکٹر علی محمد نور والے , جاوید اقبال کارٹونسٹ خصوصی طور پر شریک ہوئے اعجاز شئخ جو مجلس رومی و اقبال سے منسلک ہیں نے بہت اچھا خطاب کیا آخر میں جناب ولید اقبال نے اپنے صدارتی کلمات میں زبور عجم سے ایک نظم پر اظہار خیال کیا
از ہمہ کس کنارہ گیر صحبت آشنا طلب
ہم ز خدا خودی طلب ہم ش خودی خدا طلب
سب غیراللہ سے اپنا تعلق توڑ کر ایک اللہ کے ساتھ ایسے مستحکم ہو جا جو ابدی ہو پھر خودی سے خدا کو پا لو اور خدا سے خودی ۔ ولید اقبال نے اپنے خطاب میں خودی کو اخلاق کا
بنیادی نکتہ قرار دیا ، علامہ نے
چار اخلاقی عناصر پر زور دیا جو عشق ، جرات ، فقر و استغناء اور حریت ہیں ۔ یہ چاروں انسان کامل بننے کے لئے ضروری ہیں ۔ برصغیر میں سیاست کا اپنا ایک مزاج پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال فرماتے ہیں

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
نیند سے بیدار ہوتا ہے محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے حکمراں کی ساحری
یہ انداز تو چلتا ہے ریاستی اداروں کو اس سے بلند ہو کر انہیں اس ملک و قوم نے جو منصب سونپا ہے اسے نبھانا ہے جو قوت و طاقت دی گزیی ہے اسے منصفانہ طور پر استعمال کرنا ہے
کرمک نادان طواف شمع سے آزاد ہو
اپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہو
اس کے لیئے ایک جرات اور آزاد ایستادہ ضروری ہے , رلامہ اقبال کا فلسفہ ء خودی نہ صرف برصغیر بلکہ یورپ خاص طور پر جرمنی کے لیئے شعلہ بن کر بھڑکا , برصغیر میں مسلمانوں کے لیئے تقویت کا باعث بنا خودی ایک نقطہ نوری ہے ایک ایسی قوت ہے جو ہمارے اندر جب پیدا ہوتی ہے تو ہم نڈر اور اپ سٹینڈ ہو جاتے ہیں شرط یہ ہے کہ ہم حق کی راہ پر ہوں حق کی خاطر بڑے بڑے کام کر جاتے ہیں
عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں میں اپنے آپ میں نہ رہوں
ہم عام لوگ اپنے آپ کو بے اثر اعر مجبور نہ سمجھیں , علامہ اقبال نے کہا ہے
غواص محبت کا اللہ نگہبان
ہر قطرہ دریا میں دریا کی ہے گہرائی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...