Home Uncategorized میرادل بدل دے۔

میرادل بدل دے۔

(تحریر:عمران محمود

(قسط نمبر1)

ہم بہت کچھ مانگتے ہیں اور روز ہی مانگتے رہتے ہیں یعنی ہماری مانگ ان گنت ہے۔ رب کی عطا بھی ان گنت ہے۔ کبھی ہم پیسہ مانگتے ہیں، کبھی گھر، کبھی گاڑی،کبھی اولاد، کبھی صحت، کبھی عہدہ، کبھی طاقت، کبھی کچھ کبھی کچھ۔ ہاں مگر نہ مانگا تو نہ اللہ کی محبت مانگی نہ اس کے حبیبﷺ کی۔ یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی غلطی اور کوتاہی ہے۔ باقی ساری چیزیں مانگنے سے، کچھ کو کچھ مل جاتا، کچھ کو کچھ،کچھ کو بہت مل جاتا ہے کچھ کو کم، پر ہر انسان لازمی دل میں کوئی نہ کوئی کسک اور خلش لے کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، کچھ کمیاں، کچھ ادھوری باتیں، کچھ ادھوریں خواہشیں، کچھ تجسس، کچھ سوالات، کچھ دکھ اور کچھ ادھوری یادیں۔ یادیں جیسی بھی ہوں خوشی کی یا غمی کی، دکھ ہی دیتی ہیں کیونکہ اگرماضی کی کچھ خوشی کی یادیں ساتھ ہوں تو انسان یاد کر کے دکھی ہو جاتا ہے کہ اب وہ لمحات لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ اور جب اپنے ماضی کے غم کے لمحات سوچتا ہے تو غمگین ہو جاتا ہے۔ دکھ تو بہر حال دکھ ہی ہیں۔ اور یہ سب دل کرواتا ہے۔ دل پر بھی لیکن انسان کو کہاں اختیارحاصل۔انسان کو اختیار ہے ہی کتنا؟مجبوریاں اور بے بسیاں انسان کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑتیں۔ ہر انسان کمزور ہے۔ جب بھی دنیا اور دنیا کی لذتوں وآسائشوں کے پیچھے بھاگیں گے ان کی طلب رکھیں گے، سکونِ دل ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ جب بھی رب اور اس کے حبیبﷺ کی محبت مانگیں گے، تب جلوے دکھیں گے، تب حقیقی سکون میسر آسکے گا۔ دنیا و آخرت سنور جائیں گے۔
دل کو انسانی جسم میں خاص مقام حاصل ہے۔ اس لیئے دل کی پاکیزگی اور صفائی کے لیئے اللہ سے خصوصی دعا کرنے چاہیئے۔ کیونکہ جب دل پاکیزہ ہو جائے اور اس پر کنٹرول حاصل ہوجائے توپھر مسئلے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر سفرِ محبت و انسانیت شروع ہو جاتاہے۔ عزتِ انسانیت شروع۔ احساس شروع۔ عقیدت شروع۔ خدمت شروع۔ اخلاص شروع۔خشوع و خصوع شروع۔ پرکیف عبادات و اذکار شروع۔ یوں انسان پر خلوص اور بے لوث ہو جاتا ہے۔
ہمارے دل میں دنیا کی حرص اور لالچ ہے۔ خدا یہ حرصِ دنیا ختم کر دے۔ ہم غفلت میں مبتلا ہیں۔ نہیں پتہ اگلے لمحے کیا ہو جائے، کب سانس نکل جائے اور روح پرواز کر جائے۔ لیکن ہماری غفلت نے ہمیں گھیرا ہوا ہے۔ دعا ہونی چاہیئے کہ غفلت والا دل بدل جائے اور توجہ میں بدل جائے۔ اللہ اور اس کے محبوبؐ کی جانب دل کی توجہ مرکوز ہو جائے۔ اللہ فضل فرمادے تو ایسا ہو جائے ورنہ تو تاریکی کے ڈیرے ہیں تنگدستی ہے۔ اللہ کے فضل سے روشنی و کشادگی ہوتی ہے۔
ایسا دل ہو کہ دھڑکنوں میں اللہ اللہ کی آواز سنائی دے۔ دل سے درودوں کی صدائیں نکلیں۔ دل میں رونق لگ جائے۔ مزہ آجائے۔ہمارا دل دنیا کے پیچھے لگ کر مغموم ہو چکا ہے۔ رب فضل کرے اور اس کی محبت سے یہ پرنور ہو جائے۔ دل اتنا پاکیزہ اور معطر ہو جائے کہ روزِ محشر رب کو خوش دیکھیں۔ ہم ایسے بن جائیں۔ ہمارے گنا ہوں کے رستے بدل جائیں اور ہم انعام یافتہ لوگوں کے رستے چلیں۔ اور یہ دعا ہمیں خود رب نے سکھائی ہے۔ بس اللہ کے آگے سر جھکائیں۔ دل میں سرور کا ڈیرہ آباد ہو جائے۔ بس ہم رب کے ہو جائیں۔ اس کے قریب تر ہو جائیں۔ دل کی بس یہی چاہت ہو۔
اپنی ساری دنیاوی خواہشوں کو قربان کریں۔ اللہ کی یاد مانگیں۔ دل میں یہی غم ہو کہ کہیں اللہ ناراض نہ ہو جائے۔ بس یہ غم دل میں گھر کر جائے۔ دل شکستہ لیئے دربدر پھرنے کی بجائے صرف رب سے دل لگائیں۔ یہ والا دل مانگیں۔ بس سرجھکا کر بیٹھے رہیں۔ دل میں رب کی ذات ہو۔ بس یہ سرور میسر ہو جائے۔ اس سے دل آباد ہوگا اور یہ دل ہی اصل دل ہے۔
جب غلط رستے پر چلیں تو دل غلط فیصلے کرواتا ہے۔ دل روتا بھی ہے۔ دکھی بھی ہوتا ہے۔ دکھی دل پر کیف عبادات سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ہاں مگر رب کی یاد میں رونے والا دل، حضور پاکؐ کی یادوں میں رونے والا دل، ضرور پاک شفاف ہوتا ہے۔ یہ آنسو دل کے میل اور گناہوں کو دھو کر دل کو صاف ستھرا کر دیتے ہیں۔ جب دل میں صرف اللہ بسے پھر دل غلط فیصلے نہیں کراتا۔ پھر انسان صحیح رستے کا انتخاب کرتا ہے۔ گھروں میں لوگ بستے ہیں تو گھر آباد ہوتا ہے۔ اچھے لوگ ہوں تو گھر بھی اچھا کہلاتا ہے کہ فلاں گھر بڑا اچھا ہے اس کے مکین بہت اچھے ہیں اور جس دل میں اللہ اور اس کا حبیبؐ بس جائیں، اس دل کی کیا ہی بات ہوگی؟کیا ہی رونق ہو گی؟ کیا ہی کیفیت ہو گی؟اس دل کا مقابلہ کون کر سکے؟ وہ دل پھر عام دل نہیں رہتا، وہ ایک مومن کا دل بن جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...