Home بلاگ نئی حکومت سے تعاون وقت اور حالات کا تقاضہ

نئی حکومت سے تعاون وقت اور حالات کا تقاضہ

روداد خیال

صفدر علی خاں

اپریل کا مہینہ اپنے اختتام پر کئی اہم سیاسی تبدیلیوں کے دور رس نتائج کی راہ ہموار کرگیا ہے ۔وزیراعظم عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی متفقہ تحریک عدم اعتماد لائے جانے پر جو واویلا پی ٹی آئی کی جانب سے کیا گیا اس پر اداروں نے بہت عمدہ روایات قائم کیں ،قومی سلامتی کے اداروں کا سیاست میں مداخلت نہ کرنا بھی طشت ازبام ہے ،ابھی تک عمران خان کو اپنی شکست کا یقین ہی نہیں آرہا ،وزارت عظمیٰ کے آخری ایام میں تو ان سے آئین سے انحراف پر مبنی اقدامات بھی سرزد ہوگئے اب غیرملکی سازش کے قصے بھی دم توڑچکے مگر اپنے قلیل سے ہم خیال میڈیا کی جانب سے نئی حکومت پر الزام تراشیوں کے سلسلے جاری وساری ہیں ایک نجی ٹی وی کو پیمرا کی جانب سے معمول کے نوٹس پر یار بیلیوں نے تو آسمان ہی سر پر اٹھالیا ہے حالانکہ نئی حکومت کی وزیراطلاعات نے تو سابق حکومت کی طرف سے میڈیا کو دبائو میں رکھنے کے لئے رسوائے زمانہ پیکاجیسے ایکٹ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کسی بھی چینل یا اخبار کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ،نئی حکومت تو سردست سابق حکومت کی جانب سے کئے جانے والے میڈیا کے خلاف اقدامات کا جائزہ ہی لے رہی ہے اور وزیراطلاعات کی جانب سے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بڑے اقدامات سامنے آرہے ہیں ،ان حالات میں اب نئی حکومت پر الزام تراشی کی یہ روایت ٹھیک نہیں ادھر کرپشن کے معاملے کو ہی دیکھ لیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے نیب کے ذریعے یکطرفہ احتساب کے عمل کو انتقامی کارروائی قرار دیدیا ۔ن لیگ کی قیادت کا اب حکومت کی تبدیلی پر بھی یہی بیانیہ ہے کہ نیب کو یکطرفہ احتساب کے عمل سے روکا جائے حالانکہ اب تونیب کا وجود خود عمران خان کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے اور نیب کے خاتمے کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کی قیادت کو ہوگا ،اور یہ واقعی حقیقت بھی ہے اب قومی احتساب بیورو (نیب) نے فرح شہزادی المعروف فرح خان اور دیگر کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زائد غیر قانونی اثاثے جمع کرنے، منی لانڈرنگ اور مختلف کاروبار کے نام پر مختلف اکاؤنٹس رکھنے کے الزامات پر انکوائری کا حکم دے دیا۔نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فرح خان کے خلاف انکوائری کے لیے ڈی جی نیب لاہور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی قانون کے مطابق انکوائری کریں۔نیب کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران فرح خان کے اکاؤنٹ میں 84 کروڑ 70 لاکھ روپے پائے گئے جو ان کے بیان کردہ اکاؤنٹ پروفائل سے مطابقت نہیں رکھتے۔نیب کا کہنا ہے کہ یہ تمام رقم ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں موصول ہوئی تھی جنہیں اکاؤنٹ میں جمع کرائے جانے کے کچھ ہی مدت بعد فوری طور پر اکاؤنٹ سے واپس نکلوالی گئی۔جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کے حوالے سے چلنے والی متعدد میڈیا رپورٹس میں فرحت شہزادی المعروف فرح خان پر قانونی ذرائع سے زائد اثاثے بنانے میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے تھے۔نیب کا کہنا تھا کہ فرحت شہزادی المعروف فرح خان کے انکم ٹیکس گوشواروں کا جائزہ لیتے ہوئے مبینہ طور پر یہ دیکھا گیا کہ ان کے اثاثوں میں سال 2018 کے بعد سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر بہت نمایاں اور غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
نیب کا مزید کہنا ہے کہ فرح خان اکثر غیرملکی دورے بھی کرتی رہی ہیں، انہوں نے 9 مرتبہ متحدہ عرب امارات اور 6 مرتبہ امریکا کا دورہ کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح خان ملک چھوڑ کر دبئی منتقل ہوگئی تھیں، اپوزیشن کی جانب سے ان پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ فرح خان سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک چھوڑ کر دبئی چلی گئی تھیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے شوہر اس سے قبل ہی ملک چھوڑ چکے تھے۔قبل ازیں مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے فرح خان کی کرپشن پر سوال اٹھایا تھا انکے علاؤہ سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وزیر اعظم کے پرانے دوست علیم خان نے بھی الزام لگایا تھا کہ فرح خان نے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی مدد سے پنجاب میں کروڑوں روپے لے کر تقرر و تبادلے کروائے۔
ان حالات میں پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف اس بیانیہ سے بھی نیب کے موقف کو تقویت ملتی ہے ،حالات نیا موڑ لے چکے ہیں ،نئی حکومت پاکستان کے عوام کو ریلیف دینے کی خاطر مثبت اور تعمیری سوچ کو آگے بڑھانا چاہتی ہے ،وزیراعظم شہبازشریف نے تو سب سے پہلے کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا ،انکے بیانیہ کی صداقت کا ثبوت انکا حالیہ طرزِ عمل ہے ،وہ کھلے دل سے عوام کی خدمت کیلئے سب سے تعاون کے طلبگار ہیں تو پھر سب اختلافات بھلا کر پہلے عوام کو مہنگائی ،بے روزگاری ،اوربجلی کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل سے نجات کی خاطرنئی حکومت سے تعاون کی نئی روایت ڈالی جائے ، یہی اب نئے حالات اور وقت کا سب سے بڑا تقاضہ ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

بیوروکریسی بمقابلہ ٹیکنالوجی ذہنیت میں خلل ڈال رہی ہے

تحریر اکرام سہگل ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے باوجود ہمارے سرکاری اداروں کا نقطہ نظر، ہمارے...

حکومت عوام دشمنی پر اُتر آئی ہے !

تحریر؛ شاہد ندیم احمدعوام کی بے لوث خدمت کرنے کی دعویدار حکومت نے اپنے قیام کے صرف تین ماہ کے ابتدائی...

پاک سر زمین کا نظام

زاد راہ ۔۔سیدعلی رضا نقوی پاکستان کے نظام کی خرابیوں کو ہم سب اکثر آشکار کرتے ہیں...

سر سبز و شاداب شہر

منشاقاضیحسب منشا شہروں کی آبادی بڑھ جانے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں , وہ لوگ کتنے خوش...

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...