Home بلاگ ہر وقت تفریح کا نہیں ہوتا

ہر وقت تفریح کا نہیں ہوتا

تحریر:صادق انور میاں

sadiqanwar69@gmail.com

انسان کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ یہ ہر وقت تفریح کو پسند کرتا ہے۔حقیقی زندگی کسی بھی انسان کو پسند نہیں۔معاشرے میں جب بھی کوئی سمجھدار انسان حقیقی بات کرتا ہے تو معاشرے کے زیادہ تر لوگ ان کی باتوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔اورکوئی بھی انسان اس حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔حقیقت ہر کسی کو جاننا ضروری ہے۔انسان تو بس یہی سمجھتا ہے کہ بس ہر وقت ان کو تفریح کا موقع ملے۔زندگی بسر کرنے کے کچھ اصول ہیں۔اور وہ اصول ہمیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 1400سال پہلے سکھائے ہیں۔قران و حدیث کی روشنی میں ہمیں زندگی کے اصول سکھائے گئے ہیں۔ہم جتنا بھی زندگی کی حقیقت سے اپنے آپ کو نا خبر رکھے گے لیکن یہ حقیقت ہمیں ماننا پڑے گا۔کہ صرف یہی دنیاوی زندگی نہیں۔حقیقی زندگی انے والی ہے۔ہم اگر اپنے گریبان میں جھانکیں تو ہمیں حقیقی زندگی کی حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔میں آج بات کرنے والا ہوں آج کے نوجوان کی حرکتوں کی،اج کے بے خبر نوجوانوں کی کرتوتوں کی۔ہر جوان تفریح کیلئے مواقع ڈھونڈتا ہے۔میرے پاس سوشل میڈیا کے جتنے بھی فرینڈز ہیں۔نوجوانوں سمیت بڑوں کی بڑی تعداد میں لوگ تفریح کو زیادہ توجہ دینے کی کوشش کی ہیں۔اگر آپ نے دیکھا ہوگا،اج کل جو مختلف آپلیکیشنز ہے مثلا ٹک ٹاک، سنیک ویڈیوز،وغیرہ وغیرہ تو اس میں انٹرٹینمنٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملے گا۔مرد ہوں،عورت ہوں،جوان ہوں،بڑے ہوں سب اس ایپس میں گم ہیں۔اور اپنے آپ کو انٹرٹین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اپ نے کبھی بھی ان ایپس میں یہ نہیں دیکھا ہوگا کہ اس میں کسی بندے نے دین کی بات پھیلائی ہوں،اپ نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ کسی نے اس میں حدیث و قرآن کی ایات سکھائے ہوں۔اس ایپس میں اگر ہے تو صرف گانے،ڈانس،بے ہودہ قسم کے نعرے،بے ہودہ لباس میں عورتیں۔اور ہمارے جوان اس ایپس کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر وقت انٹرٹینمنٹ کی نہیں ہوتی۔انٹرٹیمنٹ کی بھی ایک وقت ہوتی ہے۔اگر آج کے دن کی میں آپ کو بتادو تو عید الفطر کا موقع ہے۔ہاں اگر کوئی عید کے دنوں میں اپنے آپ کو انٹرٹین کرنا چاہتا ہے تو وہ کچھ حد تک ٹھیک ہے۔لیکن وہ انٹرٹینمنٹ بھی حدود کے اندر چاہیئے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت ہوتا ہے۔ہر کام کے کرنے کا اپنا ایک وقت ہوتا ہے۔میرے پاس سوشل میڈیا یعنی فیس بک میں بہت سارے دوست ہیں۔اور اس میں زیادہ تر تعداد بڑوں کی ہے۔زیادہ تر تعداد تعلیم یافتہ لوگوں کی ہیں۔اور میرے زیادہ تر پوسٹ بلکہ میرے تمام کے تمام پوسٹ سبق اموز ہوتے ہیں۔جب میں پوسٹ کرتا ہوں۔تو میرے پوسٹ کو زیادہ پذیرائی نہیں ملتی اور اس کی وجہ کیا ہے۔بس وہی کہ میرا پوسٹ انٹرٹینمنٹ کیلئے نہیں ہوتا۔میں آپ کو ثبوت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اگر میں نے کوئی ڈانس،کوئی گانا،کوئی بے ہودہ چیز شیر کی تو میرے پوسٹ پر ہزاروں کی تعداد میں لائیکس اور کمنٹس ائے گے۔اگر آپ نے دیکھا ہوگا جب کسی بندے کے چینل پر گالیاں وغیرہ چلتی ہے تو لوگ انہیں چینلز کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔کیونکہ وہاں پر ان کو بے حیائی ملتی ہے۔وہاں پر عزتیں پامال ہوتی ہیں۔تو میرے بہنوں،میرے بھائیوں،میرے بڑوں ،میرے بزرگوں میں آپ سب سے ایک گذارش کرتا ہوں کہ خدارا ہر وقت اپنے آپ کو انٹرٹین کرنے کی کوشش مت کریں۔حقیقی زندگی میں ائے ور اپنے اصل زندگی کو جاننے کی کوشش کریں۔یہ ہم جا کہاں رہے ہیں۔خدارا اپنے زندگی سے محبت کریں اپنے آپ پر رحم کریں۔ہم جتنا بھی حقیقت سے جان چھڑانے کی کوشش کریں گے تو اتنا ہی ہم نقصان اٹھائے گے۔کل میں نے ایک ویڈیو دیکھا تو اس میں ایک بوڑھا آدمی تھا تقریباً 65سال عمر کا تھا،تو وہ اس ویڈیوں میں ڈانس کر رہا تھا۔اور اس ویڈیوں پر کافی تعداد میں لائیکس اور کمنٹس موجود تھے۔اور وہ کمنٹس اور لائیکس مثبت تھے۔یعنی ان کی داد دینے کے تھے کہ آپ بہت اچھا ڈانس کر رہے ہیں،اپ بہت اچھا ایکٹنگ کر رہے ہیں۔مجھے بہت زیادہ افسوس ہوا کہ یا اللہ ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ہمارے بڑوں کا یہ حال ہیں۔ہمارے بڑے بھی اس دور میں ایسا کام کرنے لگے تو ہمارے نوجوان نسل کا کیا بنے گا۔میرا آپ سب سے یہ گلہ ہے یہ شکوہ ہے کہ پلیز خدارا حقیقت کو جاننے کی کوشش کریں۔اور حقیقی دنیا میں آئے۔تاکہ آپ سب کو پتہ چلے کہ ہماری زندگی کا مقصد کیاہے۔تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ یہ زندگی ہمیں عطاء کی گئ ہے اس کی وجہ کیا ہے۔یہ زندگی ہمیں انٹرٹینمنٹ کیلئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کو بیان کرنے کیلئے عطاء کی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...