Home بلاگ گستاخی میں تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں

گستاخی میں تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں

منشاقاضی
حسب منشا

احترام , احتیاط , اعتماد اور آداب ہماری روزہ مرہ کی مجلسی زندگی سے کہاں چلے گئے ہیں , اس وقت سیاست کا میدان جنگ و جدل کا منظر پیش کر رہا ہے اور زبانیں اتنی دراز ہو گئیں ہیں کہ خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لیتی , ہمیں زمانہ برا نہیں ملا افسوس کا مقام ہے کہ اس زمانے کو ہم جیسے گستاخ لوگ ملے ہیں اس وقت گھروں میں بھی زبان درازی در آ گئی ہے اور وہ لوگ کہاں سو گئے ہیں جو گلی میں کیھلتے بچوں کو ڈانٹ دیتے تھے اور والدین اس بزرگ کا شکریہ ادا کرتے تھے کہ اس بزرگ نے ہمارے بچوں کی تربیت کی ہے اور ان کی ڈانٹ میں نیکی ہوا کرتی تھی , آج ہم لوگوں کی مسکراہٹوں میں بدی کی ندیاں بہتی ہوئی دیکھ رہے ہیں , برقی ذرائع ابلاغ پر تو تو تو تو میں میں میں کی گردان چل رہی ہے اور احترام و احتیاط کا جنازہ نکل گیا ہے , ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی باتیں ہو رہی ہیں کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ہے , وقت ضائع کیا جا رہا ہے , دلنواز لوگ اور شرافت کے پیکر جاوید نواز , الطاف حسن قریشی , غلام مصطفی میرانی , ڈاکٹر انوار احمد بگوی , عالمی مصور شفیق فاروقی , عرفان قریشی , مولانا عبدالرؤف ملک , فاروق تسنیم , فراست بخاری , میجر نجیب , مسعود علی خان , بین الاقوامی موٹیویشنل سپیکر پروفیسر ایم اے رفرف , نوازش لودھی , ڈاکٹر وقار احمد نیاز , جسٹس ر حامد علی شاہ , قاضی محمد صدیق ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اسلام آباد , ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی بلبل ہزار داستان اور اقبال راہی کو راہ میں تعصب و عناد کے روڑوں کو اخوت و رواداری کے کدال سے پاش پاش کر دینا چاہئے اس وقت یہ لوگ تکلیف میں ہیں کیوں کہ یہ آگاہ ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ

یہ لوگ اچھے وقتوں کی حسین و جمیل نشانیاں ہیں , یہ سکوت و شگفتگی کا حسین امتزاج ہیں , ان کی صحبت میں آداب سیکھے جاتے ہیں اور یہ کسی مکتب سے نہیں سیکھے جاتے بلکہ کسی بزرگ کی فیض کی نظر ہی کافی ہوتی ہے , ہماری اولادیں فیض کی نظر سے محروم ہیں اور جس زمین پر ابر رحمت نہ پڑے وہ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور جس گھر میں احترام آدمیت نہ رہے وہ نسلیں تباہ ہو جاتیں ہیں , ہمیں گستاخی اور بیباکی میں تمیز کرنی چاہیئے , گستاخ لہجے تعلقات کاٹ کر رکھ دیتے ہیں اور بیباک گفتگو کی جستجو میں بڑے بڑوں کی آرزو جاگ اٹھتی ہے , گذشتہ روز ملک کے نامور قانون دان اذکار رفتہ جسٹس حامد علی شاہ سے ڈاکٹر وقار علی نیاز کی معیت میں اور نوازش لودھی کی نیک نیتی میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا جس کا اعزاز بلبل ہزار داستان جناب ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی کو جاتا ہے , خوبصورت دفتر کی عمارت کے اندر بہت ہی نفیس , شائستہ , مہذب شخص شرافت و نجابت کا پیکر متحرک دیکھنے کو ملا تو زبان پر مصرعہ گونج گیا کہ

آگاہی بولنے نہیں دیتی
لوگ زور بیاں مانگتے ہیں

صد شکر کہ شہر میں ایک انسان نظر آیا

ایسے لوگ اس دھرتی کا حسن ہوتے ہیں , زمین اپنے اوپر چلنے والے ایسے انسانوں کو ترس گئی ہے جن سے وہ سکون پاتی ہے اور ہجوم , بھیڑ اور گناہوں کے بوجھ تلے وہ دبی ہوئی کپکپا رہی ہے کہ میرے اوپر چلنے والے انسان کہاں چلے گئے ہیں , جن کے پیروں کے لمس سے میں اطمینان محسوس کرتی تھی , اور بھیڑ اور ہجوم کو زمین اپنے اوپر بوجھ محسوس کرتی ہے اس کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے علامہ اقبال نے زور دار ماتم کیا تھا

پھر نہ اٹھا کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب گل ایراں وہی تبریز ہے ساقی

پیر عبدالقیوم مرحوم جیسے بیباک , حق گو اور سچے انسان اب آپ مجھے چراخ رخ زیبا لے کر ڈھونڈ کر لا دو نہ ڈھونڈ سکو گے جو گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان کو غلط بات پر ٹوک دیا کرتے تھے , گستاخی میں تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور بیباکی میں قائم رہتے ہیں اور ایسے مضبوط کردار کے جری انسان حق گو ہوتے ہیں بے غرض انسان بے پناہ ہوتا ہے اسے کسی کی پناہ کی ضرورت نہیں ہوتی اور اسے کسی کی پرواہ نہیں ہوتی اس لیئے آج کل ہم نے گستاخی کو حق گوئی میں بدل دیا ہے اور بیباکی کو گستاخی کا جامہ پہنا دیا ہے , پیر عبدالقیوم مرحوم جو مر کر بھی زندہ ہیں کیونکہ وہ لاکھوں سال زندہ رہنے والے کام کر گئے ہیں بقول اکبر آلہ آبادی

حق گوئی کا ھے ازل سے قرینہ اپنا
صاف آئینہ کے مانند ھے سینہ اپنا
لاکھوں طوفانوں میں آ جائے سفینہ اپنا
رہنا حق پہ ھے مرنا ہو یا کہ جینا اپنا

آج ہمیں دلنواز لوگوں میں نظر شناس لوگوں کو تلاش کرنا ہو گا کہ وہ کہاں گوشہ نشین ہو کر بیٹھ گئے ہیں اس وقت اخلاق , تہذیب , شائستگی اور برداشت ہی ہمیں احترام تمنا کی دولت واپس لوٹا سکتی ہے , وگرنہ جو اس وقت فلسفہ ء زندگی بیان ہو رہا اس کے نتائج بڑے دگرگوں یوں گے کیونکہ

تم اس سے کہہ رہے ہو بہاروں کی داستاں
جس کی نظر میں گلشن ہستی فریب ہے
ٹھیک ہے کہ

وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج میرے چارہ ساز کے پاس نہیں
مستنصر حسین تارڑ نے کہا تھا کہ خیالات کی آمدنی کم ہو تو لفظوں کی فضول خرچی سے پرہیز کریں , لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکو تو نقصان بھی نہ دو , خوش نہ کر سکو تو رنجیدہ بھی نہ کرو , تعریف نہ کر سکو تو غیبت بھی نہ کرو
زندگی کا نصب العین محض دولت ہی نہیں بلکہ روح کی سربلندی اور رفعت ہونا چاہیئے اور حقیقی دولت ایثار و قربانی ہے نہ کہ روپے پیسے کے انبار اور تخیل سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے اور میں دیکھ رہا ہوں رحمن فاؤنڈیشن کے چئیرمین جناب ڈاکٹر وقار احمد نیاز کا ایثار اور قربانی جس کی مثال نہیں ملتی , وہ اگر چاہتے کہ دولت ہی جمع کرنی ہے تو سیم و زر کی فراوانیاں آپ کا خیر نقدم کرتیں اور وہ آرام سے سکون سے گھر بئٹھ کر عیش کرتے کیونکہ کیش ان کے پاس ہے ,مگر وہ تو ٹوٹتی نبضوں , اکھڑتی سانسوں اور جان کنی میں پہنچے ہوئے گردوں کے مسیحا ہیں , پاکستان میں ایک سو مستند گردوں کی صفائی کے سنٹر کھولنے کا تہیہ کیئے ہوئے ہیں , برسبیل تذکرہ یہ بات ہو گئی اصل بات تو ہو رہی ہے ملک میں گرمئی گفتار نے لوگوں کی دستار کے ایک ایک تار کے تار تار کر دیا ہے جو نیک شگون واقعہ نہیں ہے , عبقری لوگ جن کا ذکر اس کالم میں کیا وہ بہت پریشان ہیں اور ملک کی اخلاقی زلف پریشاں پر حیران ہیں , زبانیں بگڑ رہی ہیں , تہذیب کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے ان حالات میں کوئی ایسا مکتب کھولنا چاہیئے جس میں انسان بنائے جائیں , کیونکہ انسان پیدا نہیں ہوتا آدمی پیدا ہوتا ہے اور آدمی کو انسان تربیت اور بزرگوں کی صحبت بناتی ہے ,

وہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

یہ احترام تمنا یہ احتیاط جنوں
کہ تیری بات کروں تیرا نام نہ لوں

آج ہمارے سیاستدانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پہلے اپنی اخلاقی اقدار کی پاسداری کرئے اور پھر اپنے سیاسی کارکنوں کی تربیت کرئے

اک کرن بھی تو نہیں غم کی اندھیری رات میں
کوئی جگنو , کوئی آنسو کوئی تارا کچھ تو ہو

جناب جسٹس حامد علی شاہ صاحب سے استدعا ہے کہ وہ اس وقت آگے بڑھیں اور اخلاق و تہذیب کی اس گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالا دیں , پرگندہ طبع لوگوں کی یلغار صحبت میر کے اثرات بھی زائل کر دے گی.

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
شاید کہ تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ہر اسکریچ کارڈ پر 5 روپے اضافی وصولی، کمپنی کا مؤقف سامنے آگیا

پاکستان میں آپریٹ کرنے والی ایک غیر ملکی موبائل کمپنی نے اخراجات میں اضافے کو جواز بنا کر صارفین سے ہر...

فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آنے والے 5 پاکستانی عازمین انتقال کرگئے

مکہ مکرمہ : فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جانے والے 5 پاکستانی عازمین انتقال کرگئے۔

ملک میں سونا مزید سستا ہوگیا

ملک میں آج ایک تولہ سونے کی قیمت میں 350 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ سندھ صرافہ...

اسحاق ڈار کو نیا پاسپورٹ مل گیا، پاکستان واپسی کی تیاریاں بھی مکمل: ذرائع

ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نیا پاکستانی پاسپورٹ مل گیا۔ قابل...

انگلینڈ کے ورلڈکپ وننگ کپتان اوئن مورگن انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر

انگلینڈ کے ورلڈکپ وننگ کپتان اوئن مورگن نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ انگلینڈ نے مورگن کی...