Home بلاگ سازش نہیں ،عمران حکومت اپنی موت آپ مر گئی

سازش نہیں ،عمران حکومت اپنی موت آپ مر گئی

روداد خیال

صفدر علی خاں

پاکستان میں آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت حکومت تبدیل کی گئی جس پر کئی طرح کی تاویلیں نکالی گئی ہیں ،اقتدار بہت خراب شے ہے اس کا اندازہ ہمیں عہد حاضر میں عمران خان کے طرز حکمرانی سے ہواہے ۔پاکستان میں جمہوریت کو کئی بار پٹٹری سے اتارا گیا ،جمہوریت کا سادہ سا فارمولا ہے کہ ووٹ کی برتری رکھنے والا حکومت بناسکے گا ۔2018ء کے الیکشن میں جب کسی بھی سیاسی جماعت نے واضح برتری حاصل نہیں کی تھی تو عمران خان نے مختلف سیاسی جماعتوں سے پاور شیئرنگ کے اصول پر اتحاد قائم کرکے اپنی حکومت بنائی ۔اس میں حکومت نے ایم کیو ایم ،جی ڈی اے ،باپ اور ق لیگ سمیت مختلف الخیال جماعتوں کے ساتھ باہمی سمجھوتے بھی کئے جن کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو اقتدار نصیب ہوا وہ اسکے اتحادی تھے جن کا اعتماد بحال رکھنا وزیراعظم عمران خان کی اولین ذمے داری تھی ،جمہوریت کا یہ بنیادی اصول ہے کہ عددی برتری حاصل کرنے والا فریق ہی حکومت بنائے گا چاہے اسے ایک ووٹ کی ہی برتری حاصل ہو ،اور تمام سیاسی جماعتوں سمیت عمران خان کی مانگے تانگے کے ووٹوں سے عددی برتری حاصل کرنے کے عمل کا قومی اداروں نے بھی احترام کیا اپوزیشن نے ان پر اگرچہ سلیکٹڈ کا لیبل لگایا مگر کسی غیر ملکی سازش کا کوئی شور نہیں کیا ،عمران خان کو اندازہ ہونا چاہئے تھاکہ جن اتحادیوں کے تعاون سے وہ اقتدار کی بلندی پر پہنچے وہ اگر کسی مرحلے پر ناراض ہوکر سیڑھی کھینچ لیتے ہیں تو پھر انکی حکومت کا کیا بنے گا اگرچہ کئی مبصرین نے انہیں یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی کہ وہ اپنے اتحادیوں کو ناراض کرنے والے عمل سے گریز کریں ،خود عمران خان نے اقتدار سے پہلے یہ اعلان بار ہا دہرایا کہ وہ بھاری اکثریت حاصل کر کے ہی حکومت بنائیں گے اور اتحاد بناکر حکومت بنانے کی بجائے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دیں گے ۔عمران خان بہت قلیل عرصے میں ہی اپنے اعلانات کو فراموش کر بیٹھے اور وہی کیا جو اقتدار سے چمٹے رہنے کا شوق رکھنے والے کرتے ہیں ،اقتدار حاصل کرنے کی خاطر اپنے ہی اصولوں کو توڑ دیا ،پھر آگے چل کرانتہائی مشکل طریقے سے حاصل کیا جانے والا اقتدار بھی نہ سنبھالا جاسکا ،اس حوالے سے جو کچھ ہوتا رہا وہ پوری قوم کے سامنے ہے ۔عمران حکومت عوام کے ساتھ کئے جانے والے وعدے کیا وفا کرتی وہ تو اپنے اتحادیوں کے ساتھ پاورشیئرنگ کے معاہدے کو ہی بھول گئی ،الٹا اسکے اپنے خاص وزراء اتحادیوں کے خلاف برسر عام ہرزہ سرائی کرتے رہے ان حالات میں جب عوام کو ہوشرباء مہنگائی کی ظالم لہروں کے حوالے کرنے کے ساتھ معیشت کا بیڑہ بھی غرق کردیا گیا ،قومی مفاد کی جگہ اقتدار بچانا مقدم ہوا اور وہ بھی محض وقتی فائدے تک اتحادیوں کی اہمیت باقی رہی ،پنجاب میں “وسیم اکرم پلس”قرار پانے والے عثمان بزدار کے خلاف شکایات کے انبار لگے مگر اپنے اہم اتحادی چودھری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش نہیں کی گئی ،ایم کیو ایم کو سندھ میں آئندہ الیکشن کے حوالے سے یقین دہانیاں کرانے کی بجائے ان سے لاپروائی برتی گئی ،اپنے اتحادیوں کو ساتھ کیارکھتے خود پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی انکے غلط رویے سے دل برداشتہ ہوتے چلے گئے ،حکومت جن بیساکھیوں پر کھڑی تھی وہ نہ رہیں تو بھی انہیں اپنی شکست کا اندازہ نہیں ہوسکا ،سیاسی بصیرت نام کی اگر کوئی شے ہوتی تو جیسے ہی نمبر گیم تبدیل ہوئی تھی وزیراعظم موقع بھانپ کر یا اتحادیوں کو منالیتے یا خود ہی مستعفی ہوجاتے مگر ایسا ہر گز نہیں کیا گیا بلکہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے پر برسر عام یہ کہتے رہے کہ ہم تو یہی چاہتے تھے اور حکومت انکو پارلیمنٹ میں شکست فاش دے گی ،تحریک عدم اعتماد آگئی تو گبھرا کر ٹامک ٹوئیاں مارنے لگ گئے ۔اچانک ایک جعلی خط کو بنیاد بناکر غیرملکی سازش کے ذریعے اپنی حکومت گرانے کی سازشی تھیوری پیش کرنے لگے حالانکہ انکے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی بلکہ خود عمران خان نے اقتدار سے چمٹے رہنے کے جنون میں اپنی ساری ساکھ برباد کرلی ،عمران خان کو علم تھا جمہوریت میں عددی برتری ہی ساری گیم تبدیل کرتی ہے تو پھر اپنی عددی برتری برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ،چاہے ایک ووٹ کی ہی برتری سے اپنی حکومت کو آئینی اور جمہوری طریقے سے بچاتے مگر یہاں پر ان سے بلنڈر ہوگیا ،سازشی تھیوری پیش کرکے خود اپنے ہی پائوں پر کلہاڑی مارلی ،عمران پھر اسکے بعد تو غلطیوں پر مسلسل غلطیاں کرتے چلے گئے ,اپنے ارکان اسمبلی پورے کرنے کی بجائے جلسوں پر زور دیتے رہے ،سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مخالفین کے خلاف مسلسل دشنام طرازی کی گئی ،ایسے حالات پیدا کئے کہ کوئی پاکستانی بھی ان کی بات پر دھیان دینے پر تیار نہ ہوا تو پھر ارکان اسمبلی اپنے قیمتی ووٹ کو کیسے ضائع کردیتے ،اب سیدھا سادہ معاملہ ہے پی ڈی ایم نے تو ایک سال سے زیادہ عرصے سے ملکی مسائل کا ذمے دار قرار دیکر اسکی حکومت گرانے کا ایجنڈہ برسر عام عوام کے سامنے رکھا ہوا تھاجس پر حکومت کے خلاف کسی بیرونی سازش کی کوئی گنجائش ہی نہیں دوسرا جو سب پر عیاں ہے کہ ارکان اسمبلی کی گنتی پوری کرنے کے موقع پر وزیراعظم جعلی خط کی بنیاد پرغیرملکی سازش کا روناروتے رہے اور اپوزیشن اتحاد نے موقع غنیمت جان کر عددی برتری حاصل کرلی ،میڈیاان ایام کی ہرسیاسی سرگرمی اس وضاحت سے عوام کے سامنے پیش کرتا رہا کہ عمران خان کے بیانیہ کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی اسکے بعد تحریک عدم اعتماد ٹالنے کے لئے تمام غیر آئینی اور غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ،قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد آجانے پر بھی ووٹنگ ٹالنے کے حیلے بہانے کرتے رہے ،سنگین صورتحال پیدا کرتے ہوئے سپیکر جیسے انتہائی غیر جانبدار منصب کو طلب کرکے اس عہدے کی عزت پامال کی گئی ،ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کے لئے وہی جعلی خط کو بنیاد بنالیا جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے انکی اس حرکت پر تاریخ ساز فیصلہ سنایا اسکے باوجود عمران خان اقتدار کی خاطر آخری حد تک گئے اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات پر عملدرآمد نہ کرتے ہوئے
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے سے گریز کیا گیا۔ عمران خان جو اب رات کے 12بجے عدالتیں لگانے کی بات کرتے ہیں یہ بات پوری قوم جانتی ہے کہ رات 12 بجے تک آئین سے انحراف کرتے ہوئے پاکستان کے سب سے مقدم ادارے پارلیمنٹ کو مفلوج کیا گیا پورے نظام کو جام کردیا گیا اور اس پر پاکستان کے آئین کی محافظ بن کر سپریم کورٹ آف پاکستان رات کو12بجے عدالتیں نہ لگاتی تو آج پاکستان میں سکھاشاہی ہوتی ،عمران خان کی طرف سے پاکستان کے وقارکو خاک میں ملانے کے عمل کو روکنے کی خاطر سپریم کورٹ نے جو اقدام کیا اس پر پوری قوم انہیں دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتی ہے ،کیونکہ پارلیمنٹ کے تقدس کی پامالی 22کروڑ عوام کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے اگر عمران خان پاکستان کے 22کروڑ عوام کو یرغمال نہ بناتے تو سپریم کورٹ آف پاکستان کبھی رات کے 12بجے عدالتیں لگانے کا اہتمام نہ کرتی اس لئے یہ سب اقدام جو ان کے قریب سازش ہے درحقیقت پاکستان کے عوام اور اداروں پر عمران خان کے خودکش حملے تھے جس میں وہ خود ہی اپنی سیاسی موت آپ مر چکے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...