Home بلاگ میرادل بدل دے۔

میرادل بدل دے۔

(تحریر:عمران محمود

(قسط نمبر 2)

آج کل تو دل میں کدورتیں ہیں۔ رنجشیں ہیں۔ نفرتیں ہیں۔ عدم برداشت ہے۔ حسد ہے۔ کینہ ہے۔ ایسے میں دل کیسے شفاف ہو سکتا ہے؟ دوسروں کو قبول کرتے نہیں، سنتے نہیں۔ دوسروں کی جگہ اور مقام کو مانتے نہیں۔ رب کی تقسیم میں دخل دیتے ہیں۔ اختیار کی طاقت سے نا اہل ٹولے کو نوازتے ہیں اور اہل لوگوں کو محروم کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ بس ایک ”میں ”کے پیچھے لگ کر 50سے 60سال کی عارضی زندگی برباد کرنے میں لگے ہیں۔ جو حضور پاکؐ کی زندگی پر عملِ پیرا ہے اس کو دل میں عزت دیں، اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ آپ کو بھی دوسروں کے دلوں میں عزت ملے گی۔ دوسروں کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے ضرور اس سے جان لیں، ہو سکتا ہے آپ کی سوچ اور ہو اور اسکے دل میں کچھ اور۔ بعض اوقات ہمیں کچھ اور نظر آتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہو تی ہے۔ اس ضمن میں ایک چھوٹا سا واقعہ عرض کرتا چلوں۔ دفتر سے واپسی پر میرا 15-20منٹ کا پیدل سفر ہے۔ رستے میں ایک جگہ تھوڑے دور فاصلے پر ایک بندے کو دیکھا وہ کتے کو مار کر بھگا رہا تھا۔ چھو ٹا سا کتا تھا، بیمار اور لنگڑا کر چل رہا تھا۔ شاید پہلے بھی لوگ اس کو مار مار کر بھگارہے تھے۔ وہ میرے پاس سے گزارا۔مجھے ترس آیا اور چہرے پر نا خوش گواری اور دل میں اس بندے کے لیئے غصہ بھی آیا یعنی دل بدگمان ہوا۔ جب اس بندے کے قریب پہنچا تو وہ اپنے دروازے پر کھڑا تھا۔ وہ خود ہی مخاطب ہوا کہ یہ کتا بلی کو پڑ رہا تھا، یعنی بلی کو دبوچنا چاہ رہا تھا۔ اس نے ایک طرف بیٹھی بلی کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔ میں نے دیکھا گھاس پر بلی سہمی ہوئی بیٹھی تھی۔ اب میں نے جو دل میں اس بندے کے لیئے رائے قائم کی تھی وہ یکسر بدل گئی۔ ا س سے مجھے سبق ملا کہ یک طرفہ رائے قائم کرنے سے پہلے دوسرے کو سن لینا چاہیئے۔ ہو سکتا ہے اس کے پاس معقول دلیل اور جواب ہو۔ ایسے دل بدظن اور بدگمان ہونے سے بچ جائے گا۔ بدظن دل میں دوسرے کی محبت اور خیال کبھی نہیں بس سکتے۔
بڑادل بڑی قربانیاں دلواتا ہے۔ جتنی بڑی قربانی ہوگی، اتنا بڑا مقام ملتا ہے۔ کوئی انسان اپنی خوشیوں کو قربان کر کے کسی انسان کی زندگی بچا سکتا ہے۔ قربانی دینا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ انبیا کرام کی سنت ہے جنہوں نے اپنی خوشیوں، آسائشوں، اولاد، حتیٰ کہ اپنا سب کچھ اللہ کے رستے میں قربان کر دیا۔ یہ بہت بڑے دل کی بات ہے۔ قربانی وہی دے سکتا ہے جو مخلص ہو اور خالص دل رکھتا ہو۔ بابا جی واصف علی واصف ؒ کا قول ہے کہ ”جان بچانے کے لیئے اگر جان لگانے پڑے تو کبھی در یخ نہ کرنا”۔
خالص دل کی یہ خوبی ہے کہ جہاں وہ کسی کی مدد کرواتا ہے تو وہاں وہ کسی دوسرے کا نقصان نہیں ہونے دیتا۔ ایسے دل والے رب کے ولی ہوتے ہیں۔ لیکن جلد باز یہ کبھی سمجھ نہیں پاتے۔ کیونکہ ان کا دل صرف ”میں ”کے دائرے میں پھنسا ہوتا ہے۔ ”میں ”کے دائرے میں قید دل انسانیت کی خدمت نہیں کر سکتا۔ اور دنیا میں ہمیں صرف ”میں ”کے لیئے نہیں بھیجا گیا، ”سب”کے لیئے بھیجا گیا ہے۔ ”میں ”کی وادی میں مست انسان کسی کی جان نہیں بچا سکتا۔ کسی کی مدد یا خدمت نہیں کر سکتا۔کسی کو رستہ نہیں دکھا سکتا۔ ”ہم”کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اس سے معاشرے میں نکھار آئے گا اور خوبصورتی و دوام۔
اس طرح جلد باز اور بد ظن دل کا مالک انسان بڑے نقصانات اٹھاتا ہے۔ اپنے دل میں کسی کے لیئے منفی رائے قائم نہ کریں۔پہلے جان لیں، پوچھ لیں۔ ہو سکتا ہے اس نے رب کی رضا کے لیئے کوئی قدم اٹھا یا ہو۔ حضور ؐ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کیا ہو۔کسی کے لیئے قربانی دی ہو۔ اپنے دل کو قربان کیا ہو۔ ایسے لوگوں کے فیصلے میں شامل ہو جانا چاہیئے۔ دوسروں کے لیئے قربانیاں دینے والا دل ہی رب کے قریب تر ہوتا ہے۔ ایسا دل مل جائے تو اس پر قربان ہو جانا چاہیئے۔ اس دل والے کے ساتھ جڑ جاناچاہیئے۔ سکون مل جائے گا۔ جیسے جسم کا مرکزی حصہ دل ہے ویسے ہی اعمالِ صالح کی بنیاد بھی خالص دل ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...