Home بلاگ برسوں پہلے کی بات

برسوں پہلے کی بات

تحریر؛ناصر نقوی
برسوں پہلے کی بات ہے کہ کہ سرکاری ٹی وی سے پبلک سروس چلتا تھا، پانی نعمت رب جلیل ہے، اسے ضائع نہ کریں، لیکن اب چینلز کی منڈی آباد ہے اور کسی کو یہ توفیق نہیں کہ کوئی بھی میسج ایسا چلا دے جو آگاہی کے کام آ سکے، حالانکہ موجودہ دور میں پانی ہی نہیں، ہر چیز ہی ضائع ہو رہی ہے جسے روک کر خلق خدا کی بھلائی کیلئے کام کیا جا سکتاہے۔آج کے جدید اور سیاسی بحرانی دور میں پانی جنھیں میسر ہے وہ اسے فضول بہا رہیہیں اور ایسے بھی لوگ ہیں جنھیں ایک، ایک بوند کی تلاش ہے۔ ماضی کا تجزیہ کریں تو نچلی سطح سے لے کر حکومتی سطح تک کسی نے پانی کی فکر نہیں کی۔ ازلی دشمن بھارت نے ہماری اس بے حسی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہائی تیزی اور پھرتی سے ڈیم بنا کر راوی، ستلج اور بیاس کا پانی باپ کی جاگیر بنالیا۔ اب دونوں ممالک کی جانب سے واٹر کمیشن کے روایتی اجلاس اور مزاکرات سے بات آگے نہیں بڑھتی، کیونکہ دشمن چالاک اور مکار ہے اور ہم بے وقوف پاکستانی وفد ایک نہیں، زیادہ مرتبہ کامیاب مزاکرات کرکے اپنا حق حاصل کرنے کے دعوے کے ساتھ بھارتی سرزمین پر پائوں رکھتے ہیں اور پھر دہلی کی سیر کرکے آگرہ یاترا کرکے تاج محل کیساتھ فوٹو سیشن کروا کر واپس آجاتے ہیں۔ یہی نہیں واپسی پر ان کی زبان بھی مختلف ہوتی ہے، ان سے سوال کریں کہ آپ کا دعویٰ تو کچھ اور تھا اور اب زبان و بیان میں فرق کیوں آیاہے توجواب ملتاہے کہ سب کیا دھرا ماضی کے حکمرانوں کا ہے، جنھوں نے پاک بھارت کے پانی معاہدے کے مطابق اپنے ڈیم تعمیر نہیں کیے۔ اس معاہدے میں دونوں ممالک کو ایک خاص مدت کیلئے پابند کرنے کے بعد ڈیم تعمیر کرنے کی اجازت حاصل تھی۔ بھارتی بازی لے گئے، انھیں سبق یاد تھا۔ ہمارے حکمران خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے لہذاوقت گزرگیا۔ بھارت نے صرف چناب پر پانچ ڈیمز بنائے ہیں اور ہم ابھی تک صرف منصوبہ بندی ہی کررہیہیں۔ دنیا میں موسمی تبدیلی نے بھی ہم جیسے غریب ملک کیلئے مسائل بڑھا دیئے۔ کبھی بارشیں زیادہ تو ہمارے مال ڈنگر کے ساتھ انسان بھی بہہ جاتے ہیں۔ کبھی خشک سالی سے فصلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ پاکستان ایک زرخیز زرعی ملک ہونے کے باوجود پانی کے ہاتھوں اپنی زرعی پیداوار نہیں بڑھا سکا۔ پانی پر دیہی علاقوں میں قتل و غارت گری بھی ہوتی ہے۔ بارانی علاقوں کے کاشتکار آسمان کی طرف آس لگائے منہ تکتے رہتے ہیں، کوئی ان سے پانی کی قدر پوچھے جن کی زندگی کا دارومدار ہی پانی پر ہے بلکہ عبرت کے لیئے تھر اور چولستان کی طرف دیکھا جا سکتاہے جہاں میلوں دور پانی میسر ہے۔ انسان اور جانور بوند، بوند پانی کو ترس رہیہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ دور دراز علاقوں کے علاوہ شہری آبادی میں بھی پانی کی سطح ماضی کے حوالے سے بہت زیادہ نیچے چلی گئی ہے۔ کچھ علاقوں کا حال تو یہ ہے کہ اگر پانی میسر بھی ہے تو وہ اس قدر غیر معیاری ہے کہ اسے پینے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس پانی سے کینسر اور ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔اس سا ل شیڈول بارشیں نہیں ہوئیں، یقینا یہ دنیا کی موسمی تبدیلیوں کا انعام ہے، اس کا مجموعی نقصان کیا ہے، اس کا نتیجہ فوری اخذ نہیں کیاجاسکتا لیکن پہلا مسئلہ جنوبی پنجاب میں شدید بحران پیدا ہوگیا۔ بہاولپور بھی پانی کی قلت کا شکار ہوگیا لیکن اچھی بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے فوری ایکشن لیلیا۔ ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے تمام ذمہ داران افسران کو جنگی بنیادوں پر اقدامات کے احکامات دے دیئے۔ ان کا کہناہے کہ پانی ہے زندگی اسلیئے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گا۔ انسانی زندگی کے حوالے سے پانی کی فراہمی انتہائی ضروری ہے، عارضی حالات کی پالیسی اپنائی جائے۔ چولستان کے بحران کو نظرانداز نہ کیا جائے ، میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہوں اور تمام تر سرگرمیوں کی نگرانی چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر خود کروں گا۔ ان کا کہناہے کہ زیادہ متاثرہ علاقوں کو فوکس کیا جائے۔ انتظامیہ اور سیاسی ٹیمیں نقصانات کا تخمینہ لگائیں تاکہ متاثرہ لوگوں کی حکومتی سطح پر مدد کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے نہری پانی چوری کے واقعات کی روک تھام کیلئے بھی کریک ڈائون کرنے کی ہدائیت جاری کی ہے۔ یہی نہں انھیں سیکرٹری آبپاشی نے دریائوں اور نہروں میں پانی کی آمد اور اخراج کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔وزیراعلیٰ کا یہ اقدام قابل تحسین ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ پانی کی قدر و قیمت کے حوالے سے سارا سال نہ صرف خیال رکھا جائے بلکہ پورا سال منصوبہ بندی اور نگرانی کی جائے تاکہ اچانک بحران پر پیدا ہونیوالے معاملات سے نمٹا جاسکے۔ اگر باقاعدہ منصوبہ بندی نہ کی گئی تو ماضی کے حکمرانوں نے ہمیں جس بحران میں پھنسا دیا ہے اس سے نجات ممکن نہیں۔ پانی ہے زندگی اگر اس کی افادیت کو محسوس نہ کیاگیا تو سزا برسوں بھگتنی پڑے گی، یہی نہیں، ہمیں ذمہ داری سے پانی کی فکر کرنا ہوگی۔ ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ اسے ضائع نہ کریں اور میڈیا پبلک سروس میسج سے بھی قوم کو آگاہی دے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے پانی ضائع کرکے اپنے لیئے مشکلات پیدا کررہیہیں لہذا سب کا فرض ہے کہ قومی ذمہ داری جاتے ہوئے پانی بچائیں اپنے لیئے، اپنی آنے والی نسل کے لیئے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ٹیکساس اسکول واقعہ: 18 سالہ حملہ آور کے والدین کا بیان سامنے آگیا

امریکی ریاست ٹیکساس کےایلیمنٹری اسکول میں بچوں اور ٹیچرز کو نشانہ بنانے والے 18 سالہ نوجوان سیلواڈور راموس کے والدین کا...

وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم اور وزیر داخلہ کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرانے کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرانے...

وزارت مذہبی امور نے خواتین معاونین حج پر پابندی عائد کر دی

وزارت مذہبی امور نے خواتین معاونین حج پر پابندی عائد کر دی۔ وزارت مذہبی امور نے حج...

اسلام آباد میں عمران خان، اسد عمر اور شاہ محمود کیخلاف 16 مقدمات درج

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور جنرل سیکرٹری اسد عمر سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے...

پی ٹی آئی کی بہت بڑی سپورٹر تھی، ان کی حرکتوں سے اصلیت کا علم ہوا: عفت عمر

عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر سخت تنقید کرنے والی اداکارہ عفت عمر نے انکشاف کیا ہے کہ...