Home بلاگ دمے پر آگاہی کی ضرورت اورکینسر کے مریضوں کا نوحہ

دمے پر آگاہی کی ضرورت اور
کینسر کے مریضوں کا نوحہ

میری بات۔۔۔۔مدثر قدیر

صادق دودھ فروش کو سانس لینے کی تکلیف یعنی دمہ کی بیماری تھی میں اس کو اکثر چلتے چلتے رک کر گہرے سانس لیتے دیکھتا اور یوں محسوس ہوتا کہ اس کا سانس ابھی بند ہوجائے گا اور یہ بے حس وحرکت ہو کر گر پڑے گا اس وقت پاء صادق کی عمر 70سال کے قریب تھی اور وہ نماز فجر کے بعد دکان کھول کر بیٹھ جاتا کیونکہ اندورن شہر کی ہلچل نماز فجر کے بعد ہی شروع ہوجاتی تھی پہلے تو حنیف انکل اخبار بیچنے کی صدا لگاتے گزرتے اور پھر صفائی کرنے والے آکر اپنے فرائض سرانجام دیتے اور کبھی یہ لوگ کرسمس کی طرح چھٹیوں پر چلے جاتئے تو تمام گلیوں میں صفائی نہ ہونے کے برابر ہوتی اور گندگی کے ڈھیر جابجا نظر آتے جس کے باعث ملیریا اور ڈائریا کی بیماری عام ہوجاتی اور ہر گھر میں اس کا ایک مریض ضرور ہوتا تھا۔
سانس لینے میں دشواری کی بیماری کو پہلے میں 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کی بیماری تصور کرتا تھا کیونکہ میرے اردگرد رہنے والے کئی لوگ بڑھاپے میں ا س بیماری کا شکار ہوئے میرے تایا ٹی بی کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کا شکار ہوئے اور میرے والد معروف صحافی،شاعر امین الدین قدیر شیدائی جن کے پھپھڑے ان کی زندگی کے آخری دنوں میں صرف 5فیصد ہی کام کررہے تھے ان کو بھی سانس لینے میں دقت کا سامنا ہوا انھیں دمے کی بیماری تو نہیں تھی مگر چونکہ ان کے پھپھڑے چین سموکنگ کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ چکے تھے انھیں سروسز ہسپتال کی پلمانالوجی وارڈ میں دوران علاج دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا ڈاکٹروں نے مشین کی مدد سے دل کی دھڑکن کو بحال کرنے کی کوشش کی مگر وہ جاچکے تھے۔
بات کرنے کی ہے کہ سانس لینے میں دشواری کی بیماری کو دمے سے تشبیہ دی جاتی ہے مگر یہ بیماری پھپھڑوں کے سکڑنے اور ان کے کام نہ کرنے کی وجہہ سے بھی ہوسکتی ہے جس کا علاج کیا جانا ضروری ہے۔دمے کی بیماری جس کو میں بڑھاپے کی بیماری تصور کرتا تھا بعد میں میں نے ہیلتھ رپورٹنگ کے دوران اس کو اپنی عمر اور بچوں میں بھی پایا جو 14 فی صد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں اس بیماری کی شدت پر عالمی ادارہ صحت نے بھی 2016 ء کے بعد توجہ دی جبکہ اس پر آگاہی کا سلسلہ 1998ء سے چل رہا تھا جب گلوبل انیشیٹو فار ایستھما (GINA) کے ذریعے اس دن کو منانے کا اعلان ہوا جس کے لیے 3مئی کا انتخاب کیا گیا ہرسال یہ دن مختلف نظریات کے تحت منایا جاتا ہے اس سال یہ دن اس عزم کے ساتھ منایا جارہا ہے کہ پوری دنیا میں دمہ کے مریضوں کے لیے بیداری اور جدید ترین نگہداشت لانے کی کوشش کی جائے اس حوالے سے گزشتہ روز میری سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیسن سائنسز کے پلمانالوجسٹ ڈاکٹر محمد حسین سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا د مہ سانس کی بیماری کا نام ہے جو کہ سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کی خرابیوں کے باعث سامنے آتی ہے۔ دمہ کے مریض سانس لینے میں دشوری، کھانسی، سانس پھولنا، سینے میں درد، نیند میں بے چینی اور تھکن جیسی علامات کا سامنا کرتے ہیں۔ دمہ کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں الرجی، تمباکونوشی، موسمیاتی تبدیلیاں اور سانس کی نالیوں کا انفیکشن شامل ہیں۔ دمہ کا حتمی علاج نہیں ہے لیکن ایسی ادویات اور علاج موجود ہیں جن کی مدد سے اس بیماری کو روکا جا سکتا ہے اور مریض کی تکلیف میں کمی کی جا سکتی ہے۔
پوری دنیا میں لاکھوں لوگ دمہ کا شکار ہیں، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر لوگ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اس میں مبتلا ہے۔ وہ لوگ جن کی زندگی میں کسی کو دمہ ہے وہ عام طور پر انہیلر کی ‘psst psst’ آواز سے واقف ہوتے ہیں جو ان لوگوں کے لیے نسبتاً معمول کی روزمرہ کی زندگی کو ممکن بناتے ہیں جو ان کا استعمال کرتے ہیں۔
2016 تک، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے دمہ کو صحت عامہ کی اہم اہمیت کے طور پر تسلیم کیا۔، ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ دنیا میں تقریباً 340 ملین لوگ دمہ کے مرض میں مبتلا ہیں اور پھیپھڑوں کی اس بیماری کی وجہ سے 400,000 سے زیادہ اموات ہوئیں۔دمہ ناقابل یقین حد تک ان جگہوں پر پایا جاتا ہے جو ہوا کے کم معیار سے متاثر ہوتے ہیں اور اتفاق سے، اس قسم کے علاقے بھی اکثر ایسے ہوتے ہیں جہاں کم آمدنی والے طبقے رہتے ہیں جیسے اندورن شہر کی زندگی اس طرح یہ پہلے سے ہی پسماندہ افراد عام طور پر اس خطرناک بیماری کے سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایک اضافی عنصر نفسیاتی تناؤ ہے بھی ہے جو ان لوگوں میں زیادہ ہے جو غربت کے کنارے پر رہتے ہیں، وہاں اس کی موجودگی کو مزید بڑھاتے ہیں۔
دمے پر آگاہی کے بعد میں گزشتہ روز ہونے والے ایک واقعہ کا ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں جب کینسر کے مریضوں نے میٹرو ٹریک پر احتجاج کرکے اس کو بند کردیا جس پر اب حکومت پنجاب کو کام کرنے کی ضرورت ہے اور خصوصی ٰ طور پر خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر سے درخواست کروں گا کہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اور بے بس مریضوں کی دعائیں لیں۔ پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور یہ مریض کینسر کی مختلف اقسام میں مبتلا ہیں۔جس طرح یہ مرض خطرناک ہے، اسی طرح اس موذی مرض کا علاج بھی غریب آدمی کے بس میں نہیں ہے۔خواتین بلکہ 18‘ 19سال کی لڑکیوں کو بھی یہ مرض لاحق ہو رہا ہے۔کینسر کے تدارک کے لئے دنیا بھر میں بھر پور توجہ دی جا رہی ہے۔مریضوں کے لئے فنڈز مختص کرنے کے ساتھ ساتھ مرض کی آگاہی کے لئے نا صرف سیمینار اور مذاکرے منعقد کرائے جاتے ہیں بلکہ میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے جبکہ صاحب ثروت افراد اور این جی اوز مریضوں کے لئے عطیات دیتے ہیں لیکن پاکستان میں مرض کے خاتمے اور مریضوں کے علاج معالجے کے لئے جو کوششیں کی جارہی ہیں وہ انتہائی ناکافی ہیں۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں سے کینسر کے مریضوں کے لئے مہنگی ادویات بیت المال اور زکوٰۃ فنڈز سے مفت مہیا کی جارہی تھیں۔اب اچانک ان ادویات کی مفت فراہمی بند کر دینا کینسر کے مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مفت ادویات بند کرنے کی بجائے فنڈز بچانے کے دوسرے راستے اختیار کئے جائیں اور اس کے لئے کینسر کے غریب مریضوں کو تختہ مشق بنانے سے گریز کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ٹیکساس اسکول واقعہ: 18 سالہ حملہ آور کے والدین کا بیان سامنے آگیا

امریکی ریاست ٹیکساس کےایلیمنٹری اسکول میں بچوں اور ٹیچرز کو نشانہ بنانے والے 18 سالہ نوجوان سیلواڈور راموس کے والدین کا...

وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم اور وزیر داخلہ کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرانے کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرانے...

وزارت مذہبی امور نے خواتین معاونین حج پر پابندی عائد کر دی

وزارت مذہبی امور نے خواتین معاونین حج پر پابندی عائد کر دی۔ وزارت مذہبی امور نے حج...

اسلام آباد میں عمران خان، اسد عمر اور شاہ محمود کیخلاف 16 مقدمات درج

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور جنرل سیکرٹری اسد عمر سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے...

پی ٹی آئی کی بہت بڑی سپورٹر تھی، ان کی حرکتوں سے اصلیت کا علم ہوا: عفت عمر

عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر سخت تنقید کرنے والی اداکارہ عفت عمر نے انکشاف کیا ہے کہ...