Home بلاگ خواہشیں ہی خواہشیں ہیں اور ہنر کوئی نہیں

خواہشیں ہی خواہشیں ہیں اور ہنر کوئی نہیں

روداد خیال

صفدر علی خاں

انسان کی خواہشیں ہمیشہ زندگی کے چلن کو تبدیل کرتی رہتی ہیں ،سب کچھ حاصل کرنے کی خواہش خود سب کچھ کھو دینے کے تصور سے خوفزدہ رہتی ہے ،یہ خوف انسان کو بے چین رکھتا ہے اور ہمیشہ دنیا میں رہنے کی ازلی خواہش انسان کے حالات بگاڑنے کا سبب بنتی ہے ۔انسان کو اگرچہ اس اٹل حقیقت کا ادراک بھی ہے کہ یہاں ہمیشہ رہنے والی کوئی شے نہیں ،انسان کی عارضی سی زندگی جیسے وہ کسی کمرہ امتحان میں اپنے پیپرزدینے آیا ہے اور کچھ دیر بعد اسے اپنے امتحان کے رزلٹ کا انتظار ہوگا اب اس امتحان کا ممتحن بڑا غفور الرحیم ہے وہ اسے رعایتی نمبروں سے پاس کردے یا اسکی پوزیشن بدل دے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ۔اسی طرح شہرت کے لئے سرگرم لوگ دنیا کے امتحان پر توجہ دینے کی بجائے بعض اوقات اپنی خواہشوں کے اسیر بن کر من پسند چیزوں کے حصول کو ہی مقصد حیات بنالیتے ہیں ۔ان میں اقتدار کا حصول سب سے زیادہ خطرناک خواہش ہے ۔پاکستان میں اس حوالے سے حال ہی میں اقتدار کے لئے کرکٹ کے کھلاڑی نے جو حربہ استعمال کیا وہ بھی ایک منفرد مثال ہے باقی سیاستدان بھی اقتدار کے لئے تقریباً یہی راستے اختیار کرتے رہے ہیں مگر عمران خان کا طریقہ کار سب سے نرالہ اس لئے بھی ہے کہ وہ اقتدار میں تو ہمیشہ رہنے کی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں مگر عوام کے لئے کوئی بھی اچھا کام پایہ تکمیل تک پہنچانے کی نیت بھی نہیں رکھتے اس کا ثبوت یہ ہے کہ عوام سے کیا گیا کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا اور پھر جن لوگوں نے انہیں اقتدار میں لانے کا یہ ناممکن کارنامہ سرانجام دیدیا انکی خدمات کے معترف بھی نہیں ،احسان فراموشی کی بھی حد ہوتی ہے جن طاقتوں نے انکے بیانیہ سے متاثر ہوکر انکے لئے اقتدار کا راستہ ہموار کرنے کے لئے بہت محنت کی انہیں پر اب تنقید کے نشتر بھی چلائے جارہے ہیں ،اقتدار تو عوام کے ووٹوں سے حاصل کیا جاتا ہے جمہوریت کے بنیادی قاعدے کو پڑھ لیا جاتا تو یہ بات کبھی فراموش نہ کرتے کہ اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے ارکان اسمبلی کی مطلوبہ تعداد پوری رکھنے کی خاطر ساتھیوں اور اتحادیوں کو ساتھ ہی رکھنا پڑے گا ۔جب پی ڈی ایم نے ایک سال پہلے انکی حکومت گرانے کا اعلان کیا تو تحریک عدم اعتماد ان کے ایجنڈے پر تھی اس دوران انہیں سال کی مہلت پی ڈی ایم کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے ملی جس میں خود عمران خان کا کوئی کمال نہیں۔اسکے باوجود جمہوریت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی اور سال بعد پھر پی ڈی ایم کا اتحاد اپنے وجود کو جوڑ کر حکومت گرانے میدان میں آگیا ،اب تو پی ڈی ایم نے یک نکاتی ایجنڈا تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کیساتھ سامنے رکھ دیا اس پر پہلے تو اسے جمہوری اور آئینی طریقے سے شکست دینے کا اعلان ہوا مگر عملی طور پر اس سے انحراف کا راستہ اختیار کیا گیا۔یہی بات عمران خان کے سیاسی طور پر نابالغ ہونے کا مظہر بنی ۔
2اپریل 2022ء تک عمران خان یہ دعویٰ کرتے رہے کہ اسٹیبلشمینٹ نے اُنھیں ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے اپوزیشن کی طرف سے تین چیزوں میں سے ایک کے چناؤ کی پیشکش کی ہے ۔9اپریل تک انکی اقتدار میں رہنے کی خواہش ملیامیٹ ہوگئی ،اقتدار میں رہنے کے سارے خواب چکناچور ہوگئے اور جمہوریت کو دوام بخش کر اداروں نے اپنا صائب کردار نبھایا ،حکومت میں رہتے ہوئے چاہے صرف ایک ووٹ کی برتری سے ہی سہی اپنا اقتدار بچالیتے مگر زمینی حقائق کو سامنے دیکھ کر ان سے آنکھیں موندلیں ،اب قبل ازوقت الیکشن کی خاطر آسمان سر پر اٹھائے پھر رہے ہیں حالانکہ وزارت اعظمی سے ہاتھ دھونے سے قبل وہ خود یہ اعتراف کررہے تھے کہ قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ ہے اور یہ سب سے بہترین طریقہ ہے۔مگر عملی طور پر اس آپشن کو سرد خانے میں رکھا گیا بلکہ دھونس سے اقتدار پر تسلط برقرار رکھنے کی واردات میں پاکستان کے آئین کو بھی پائوں تلے کچلنے کی گھناؤنی حرکت کرڈالی وہ تو آئین کے محافظ اصول پسند ججوں نے پاکستان کو یرغمال بنانے کی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے رات کے 12بجے عدالتیں لگائیں ۔اقتدار سے چمٹے رہنے کے جنون نے انہین کہیں کا نہ چھوڑا اب وہ اسٹبلشمنٹ کو بھی مورد الزام ٹھہرانے سے گریز نہیں کررہے ۔ان حالات میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین و وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ عمران چاہتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ٹائیگر فورس بن کر اس کی سپورٹ کرے۔بلاول بھٹوزرداری نے عمران کی ایک اور خواہش کا اظہار کیا ہے جس نے انکے اقتدار کا پریڈ مختصر کرنے میں رول پلے کیا ہوگا ،تاہم خواہشوں کی پیروی کرنے والوں کو ہمیشہ ایسے ہی حالات کا سامنا رہتا ہے ،بڑی خواہشیں رکھنے والوں کو ان کے حصول کی خاطر کچھ ہنر بھی سیکھنا پڑتا ہے جس سے انکی منزلیں آسان ہوجایا کرتی ہیں مگر عمران خان کے معاملے میں تو یہ بات اب طشت ازبام ہے کہ “خواہشیں ہی خواہشیں ہیں اور ہنر کوئی نہیں “اب کوئی نیا ہنر سیکھنے کے لئے انکے پاس وقت نہیں بچا اب وہ جس راستے پر چل نکلے ہیں اس پر انہیں منزل ملتی تو دکھائی نہیں دیتی اگر آئینی طریقے اختیار کرتے ہوئے نئے انتخابات کی تیاری شروع کردیتے تو تاریخ میں انہیں اناڑی سیاستدان کے طور پر شائد نہ یاد رکھا جاتا ،الیکشن کا انتظار کرنے کی بجائے انتشار پھیلانے کا چلن ان کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں ملانے کا سبب بن سکتا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...