Home بلاگ کاشف کے ہاتھوں کا کامیاب ری پلانٹ پلاسٹک سرجنز کا کارنامہ

کاشف کے ہاتھوں کا کامیاب ری پلانٹ پلاسٹک سرجنز کا کارنامہ

میری بات۔۔۔مدثر قدیر

گزشتہ دنوں چلڈرن ہسپتال لاہور میں طویل سرجری کے بعد بصیر پور سے تعلق رکھنے والے بچے کاشف کے دونوں کٹے ہاتھوں کو ری پلانٹ کیا گیا جو طب کی تاریخ میں سنہری ھروف میں لکھنے کے قابل ہے اور اس سے بڑی بات کہ یہ کارنامہ چلڈن ہسپتال کے ڈاکٹرز نے سرانجام دیا جنہوں نے 12گھنٹوں سے زائد وقت اس ٹیکنیکل اور پیچیدہ آپریشن کو جاری رکھا اس آپریشن کے حوالے میرے بھتیجے بلال وحید کا کہنا تھا کہ آپ اس آپریشن کو تاریخی کیوں کہ رہے ہیں میں اس کی بات پر مسکرایا اور اس کو سمجھانے لگا کہ کٹے ہوئے ہاتھوں کو جوڑنے کے آپریشنز تو دنیا بھر میں ہوتے ہیں اور پلاسٹک سرجنز اس ضمن میں بڑی محنت کرکے اپنا رزلت حاصل کرتے ہیں مگر کاشف کا آپریشن دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں کی پیوند کاری کا تھا جو بہت طویل اور آنکھ سے نظر نہ آنے والی خون کی چھوٹی نالیوں کو جوڑنے کا عمل تھا جس پر چلڈرن ہسپتال کے 4رکنی ڈاکٹرز کی ٹیم جس کو اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسلم راؤ لیڈ کررہے تھے اور اس ٹیم کے اراکین میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وسیم ہمایوں،ڈاکٹر سلمان اور ڈاکٹر فرحان گوہر شامل تھے انھوں نے اس آپریشن کو سرانجام دیا اور آخر کار کاشف اس قابل ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو انگلیوں کو ہلکی سی جنبش دے سکتا ہے۔میری اس بات کو سمجھتے ہوئے بلال وحید بھی مسکرادیا اور کاشف کے لیے دعا کرنے لگا۔
چند دن پہلے میں نے کسی کام کے سلسلے میں میڈیکل ڈائریکٹر چلڈرن ہسپتال پروفیسر محمد سلیم کو فون کیا اور ان سے کاشف کی پیوند کاری کے حوالے سے بات کرنا چاہی تو انھوں نے ڈاکٹر اسلم راؤ کا نمبر مجھے دیا کہ آپ ان سے رابطہ کرلیں کیونکہ یہ آپریشن ان ہی کی زیر نگرانی ہوا ہے میں نے اکٹر اسلم راؤ سے اس متعلق بات کی تو انھوں نے کہا کہ کاشف کا تعلق بصیر پور اوکاڑہ سے ہے اور ٹوکہ پر حادثہ کی وجہ سے اس کے دونوں ہاتھ کٹ گئے اس کی چیخ و پکار سے اور اس کے کٹے ہاتھوں کو دیکھ کر اس کے والدین اسے فوری طور پر نزدیکی ہسپتال لے آئے جہاں ڈاکٹرز نے فوری طور پر وقت ضائع کیے بغیر 1122کی مدد سے اس کو چلڈرن ہسپتال لاہور ریفر کیا اور یہ بچہ ہم تک پہنچا،1122کے مددگاروں نے جو کام بہت اہم کیا وہ یہ ہے کہ انھوں نے کٹے ہاتھوں کو دھو کر پلاسٹک بیگ میں لپیٹ دیا اور اس کے گرد برف ملا پانی رکھ دیا جس کی وجہ سے ان کا ٹمپریچر کم ہوگیا اور یہ گلنے سے بچ گئے اور جیسے ہی یہ ہم تک پہنچے تو ہم نے ان کا معائنہ کیا تو دونوں کٹے ہاتھ اور ان میں بہت باریک خون کی نالیاں ٹھیک حالت میں تھیں جس پر چلڈرن ہسپتال کی انتظامیہ سے بات کرنے کے بعد ہم نے اس آپریشن کو جلد مکمل کرنے کی ٹھانی اور رات 8بجے کے قریب اس کو شروع کیا اور ہمارا سرجری کا کام ساری رات چلتا رہا اور اگلے دن ہمارے یونٹ کے دوسرے ڈاکٹرز نے آئی سی یو میں بچے پر مسلسل نظر رکھی،پہلے دس دنوں میں ہمیں کچھ چھوٹے آپریشنز بھی مزید کرنے پڑے جس کے بعد 11ویں دن ہم نے بچے کے والدین کو آگاہ کردیا کہ کاشف کی صحت بحالی کی طرف گامزن ہے اور اس کے ہاتھوں کی پیوند کاری کامیاب ہوئی ہے۔
کاشف کے والدین کا ری ایکشن بڑا حوصلہ مند نہیں تھا کیونکہ انھیں یقین نہیں تھا کہ ایک گوشت کا ٹکڑا جو الگ ہوجائے،بے جان ہوجائے اس میں کیسے جان پڑ سکتی ہے کیونکہ دوراز کے علاقوں میں ہنے والے لوگوں کے ساتھ اگر ایسا واقعہ پیش آجائے تو لوگ کٹے اعضاء کی تدفین کرکے بچے کو لے کر ہسپتال آجاتے ہیں کہ اس کا خون نہیں رک رہا اور ڈاکٹرز کو بھی متعلقہ مریض کو خون روکنے کا علاج کرنا پڑتا ہے مگر کاشف کے کیس میں کسی نے ان کو بتایا ہوگا کہ کٹے ہاتھوں کو بھی اٹھا کر ساتھ لے چلو اور یہ لوگ بروقت ہسپتال پہنچے جس کے بعد اس کا علاج شروع ہوا اور اللہ تعالی نے اس کے ہاتھوں کو بچانا تھا تو اس فرض کے لیے ہمیں چنا۔دیکھیں واقعہ کہاں پر ہوا اور اس کے لیے تمام چیزیں کیسے ایک لائن میں آئیں اور اس کا علاج بلامعاوضہ ہوا۔
کاشف کا ری پلانٹ پاکستان کی طبی تاریخ کا پہلا کامیاب دونوں ہاتھوں کا ری پلانٹ ہے کیونکہ دنوں ہاتھوں کے ری پلانٹ کا واقعہ پہلے نہیں ہوا اگر ہوا بھی ہے تو کامیابی سے ہم کنار نہیں ہواکیونکہ سیلز کے ڈیڈ ہونے پر ان میں سپلائی کا عمل رک جاتاہے مگر کاشف کی کیس میں اس کے سیلز ڈیڈ نہی ہوئے اور ان کے درمیان رابطہ کا عمل بھی بحال رہا جس کی وجہ سے یہ ری پلانٹ کامیاب رہا اور پیوند کاری کا عمل کامیابی سے ہم کنار ہوا مگر اس میں اللہ کی رضا بھی شامل تھی کیونکہ بعض اوقات ایک ہاتھ کا ری پلانٹ کرتے ہوئے بھی کامیابی کا تناسب ففٹی ففٹی ہوتا ہے۔ڈاکٹر اسلم راؤ نے اپنی گفتگو کے دوران جو سب سے اہم بات کہی وہ قارین کی نظر ہے کہ اگر ایسا کوئی حادثہ پیش آجائے تو سب سے پہلے کٹے ہوئے اعضاء کو پانی سے دھو لیں تاکہ اس میں سے مٹی نکل جائے اورا نفیکشن کا خطرہ کم ہوجائے پھر اس کو کسی کپڑے یاں شاپر بیگ میں لپیٹ دیں اور اس کو برف کے پانی میں رکھیں تاکہ اس کا تمپریچر کم ہوجائے اد رکھیں اس کو برف میں نہیں رکھنا بلکہ برف کے پانی میں رکھنا ہے تاکہ اس کا تمپریچر کم ہو اور گلنے کا سلسلہ رک جائے اس کے بعد 1122 سے رابطہ کریں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ ایسے مریض کو کس جگہ منتقل کرنا ہے اور بروقت اسے اصل جگہ منتقل کریں گے لاہور میں اس حولے سے سہولیات چلڈرن ہسپتال،جناح برن سنٹر اور میو ہسپتال میں موجود ہیں جہاں پر اس حوالے سے تمام تر انتظامات بلامعاوضہ موجود ہیں۔کاشف کی حالت آہستہ آہستہ بحالی کی طرف بڑھے گی کیونکہ اس کے ہاتھوں کے پٹھوں کی بحالی کاعمل 6ماہ سے زائد کا وقت لے سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

دعا زہرا کی عمر 15سے 16سال کے درمیان ہے: میڈیکل بورڈ کی رپورٹ

کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ نے دعا زہرا کی عمرکے تعین سے متعلق رپورٹ جمع کرادی۔

کپتان سمیت قومی ہاکی کھلاڑیوں کا نوکریاں دینے کا مطالبہ

کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان ہاکی ٹیم کا ٹریننگ کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے لیکن...

ملک بھر میں سندھ کورونا کیسز میں سب سے آگے

ملک بھر میں یومیہ رپورٹ ہونے والےکورونا کیسز میں سندھ سب سے آگے ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ...

رمیز راجا اور سابق کرکٹرز کی ملاقات کی اندرونی کہانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین رمیز راجاکی کراچی میں سابق کرکٹرز کے ساتھ ملاقات کی دلچسپ اندرونی کہانی منظر عام...

عمران خان نے اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ترمیم کو چیلنج کردیا

سابق وزیراعظم عمران خان نے اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔