Home بلاگ انتشار پر مبنی سیاست

انتشار پر مبنی سیاست

تحریر اورنگزیب اعوان

پاکستان اس وقت معاشی بد حالی کا شکار ہے. وقت کا تقاضہ ہے. کہ تمام سٹیک ہولڈرز مل کر اس کو موجودہ صورتحال سے باہر نکالے. ورنہ ہمارے حالات سری لنکا سے بھی ابتر ہو جائے گے. بدقسمتی سے ہمارے ہاں تمام سیاسی جماعتوں کا مقصد صرف اور صرف اقتدار کے ایوان تک پہنچنا ہے. ملک کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا. عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا. تو انہیں پاکستانی عوام کی طرف سے کوئی خاص پذیرائی نہیں مل سکی. شاید ان کے پاس وہ دلفریب نعرے نہیں تھے. جن سے پاکستانی عوام کو لبھایا جا سکے. یا دوسرے لفظوں میں وہ اس سیاسی میدان میں اناڑی تھے. آہستہ آہستہ ان کو پاکستانی سیاست کے رموز اوقاف کا پتہ چل گیا. شاید ضرورت سے زیادہ ہی پتہ چل گیا. انہوں نے وہ فن بھی سیکھ لیا. جو پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتیں عرصہ دراز سے نہیں سیکھ سکیں. یہ تھا جھوٹ اور انتشاری سیاست کا فن. عمران خان کی سیاست جھوٹ اور انتشار پر مبنی ہے. یہ ملک کے آئینی اداروں کو ڈرا دھمکا کر اپنے من و پسند فیصلے چاہتے ہیں. ماضی میں اداروں نے ایسا کیا بھی ہے. 2013 کے عام انتخابات کے بعد عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کا شوشہ چھوڑ دیا. اور ملک میں سیاسی انتشار پیدا کر دیا. انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر چڑھائی کی. اور 126 دن تک وہاں دھرنا دیا. جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی. اس کے ساتھ ہی ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچا. چینی صدر کو اپنا دورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا. عدالت عظمیٰ نے دباؤ میں آکر عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا. جس نے الیکشن 2013 کے چار قومی اسمبلی کے حلقوں کی انکوائری کی. قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے حلقہ میں دوبارہ ووٹنگ کروائی گئی. جس میں سردار ایاز صادق نے نمایاں کامیابی حاصل کی. اس دھرنا کے دوران قومی اسمبلی، پاکستان ٹیلی ویژن پر حملہ کیا گیا. عدالت عظمیٰ کی عمارت کی تذلیل کی گئ. اور پولیس کے افسران پر وحشیانہ تشدد کیا گیا. ان کے اس ایکشن سے ملکی ادارے خوف زدہ ہوگئے اور ان کے حق میں فیصلہ سازی شروع کر دی. عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں ایک کمیشن بنا کر انہیں سیاست سے تاحیات نااہل کر دیا. اور عمران خان کے لیے وزارت عظمیٰ کا راستہ ہموار کیاگیا . تین سال تک اپوزیشن جماعتوں نے سوائے بیان بازی کے اس کے خلاف کچھ نہیں کیا. شیخ رشید خود فرماتے تھے. کہ جتنی کمزور اپوزیشن عمران خان کو ملی ہے. تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی. جب تین سال کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سر جوڑ کر اس فتنہ کے خلاف یک جان ہوکر احتجاج کا پروگرام تشکیل دیا تو اس پر عمران نیازی کے غرور کی انتہا یہ تھی. کہ وہ کہتا تھا. کہ یہ سب مل کر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے. شاید وہ بھول گیا تھا. کہ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے. عوام کے لیے کچھ نہ کرنے والا کس منہ سے اقتدار کی کرسی پر براجمان رہ سکتا ہے. جب ان سے عوام مہنگائی کا رونا روتی تھی. تو وہ جواب میں کہتے تھے. کہ میں آلو، ٹماٹر کی قیمتیں کنڑول کرنے نہیں آیا. جب عوام کے منتخب نمائندوں نے اپنی عوامی طاقت کے بل بوتے پر ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی. تو اس کے جواب میں عمران خان نے سیاسی پینترا کھیلتے ہوئے. غیر ملکی سازش کا رونا شروع کر دیا. ان کا موقف تھا. کہ امریکہ نے پاکستانی سفیر کو بلا کر کہا ہے. کہ عمران خان کو حکومت سے فارغ کردو. ورنہ تمھارے لیے اچھا نہیں ہو گا. اگر ان کے اس موقف کو سچ مان لیا جائے. تو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئ حکومت کے لیے آسانیاں پیدا ہونی چاہیے تھیں. پھر اس کے لیے مشکلات کیوں ہیں. یہ بات عمران خان کے موقف کو جھوٹا ثابت کرتی ہے. عمران خان نے ایک ایسا طبقہ فکر تیار کیا ہے. جس کی زبان اور ہاتھ سے کوئی محفوظ نہیں. عمران خان نے یہ اچھا طریقہ تلاش کیا ہے. کہ ملکی اداروں کو ڈرا دھمکا کر من پسند فیصلے کروائے جائے. اب پھر سے انہوں نے 25 مئی کو اسلام آباد میں دھرنے کی کال دی ہے. اس بار ان کا موقف ہے. کہ فی الفور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے. ان سے سوال ہے کہ کیا یہ ملک ہے. یا ان کی ذاتی جاگیر. جس میں تمام فیصلہ سازی ان کی ذاتی منشاء کے مطابق کی جائے. اگر اس بار بھی ملکی اداروں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے. عمران خان چاہتا ہے. کہ اسے تاحیات ملک کا وزیراعظم بنا دیا جائے. اور اس سے کوئی پوچھے بھی نہ کہ وہ کیا کر رہا ہے. حکومت وقت بالخصوص وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان سے گزارش ہے. کہ اس عمرانی فتنہ کے دھرنے کو کسی صورت سیکورٹی فراہم نہ کی جائے. غریب پاکستانی کے خون پسینے سے حاصل کردہ ٹیکس کی رقم کو ان لوگوں پر خرچ نہ کیا جائے. سرکاری املاک کی حفاطت کرے. ان منحوس اور ملک دشمن لوگوں کو مرنے دے. اگر آپ انہیں سیکورٹی فراہم کرتے ہیں. تو اس کا مطلب ہے. کہ آپ بھی اس جرم میں شامل ہے. جو ملک کے خلاف سازش کی صورت میں کیا جا رہا ہے. یہ سازشی عناصر ملکی ترقی کو برداشت نہیں کرتے. پہلے دھرنا اس موقع پر دیا گیا. جب چینی صدر پاکستان آ رہے تھے. اب اس وقت اعلان کیا ہے. جب آئی ایم ایف کا وفد پاکستانی حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے. اس یہودی ٹولے کا مقصد پاکستان کی ترقی کو روکنا مقصود ہے. یہ ہر بار اہم ترین موقع پر ہی کیوں دھرنے کا اعلان کرتا ہے. حکومت اور ملکی اداروں کو بھی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے. اس فتنہ کو کچلنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی. ورنہ یہ فتنہ اس قدر مضبوط ہو جائے گا. جس کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا. بہتر ہے. کہ اس فتنہ کے سرغنہ عمران خان کو نوے روز کے لیے نظر بند کر دے. اس کی زبان اور ہاتھ سے کوئی محفوظ نہیں. یہ پاگل شخص ہے. یہ کچھ بھی کر سکتا ہے. اس کو اس کی انتشاری سیاست سمیت اس کی منزل مقصود پر پہنچا دینا چاہیے. موجودہ وقت میں ملک کسی بھی صورت انتشاری سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا. فی الفور انتشاری سیاست کرنے والوں کو گرفتار کرکے نظر بند کیا جائے. عدلیہ کو بھی محب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. خود کو ملکی سیاست سے دور رکھنا ہوگا. کیونکہ موجودہ حالات میں ملکی سیاست میں عدلیہ کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہو گیا ہے. خدارا اس کردار کو مثبت طور پر ادا کرے. سب اداروں کو یکجا ہوکر ملک سے انتشار کی سیاست کا قلع قمع کرنا ہو گا. اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے. کب تک ایسے لوگوں سے ملکی ادارے بلیک میل ہوتے رہے گے. ہمت کرکے ان کے خلاف ایک بار بھرپور ایکشن لیا جائے. تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی منفی اور انتشار پر مبنی سیاست کا سوچ بھی نہ سکے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...