Home بلاگ ہمیشہ زندہ رہنے کا ہنر

ہمیشہ زندہ رہنے کا ہنر

روداد خیال
صفدر علی خاں

زندگی بہت مختصر ہے مگر انسانی رویوں سے ایسا لگتا ہے کہ یہاں نہ ختم ہونے والی زندگی کے لئے پرتعیش سامان کی فراوانی سے ایک نہ ختم ہونے والا جہان دیگر پیدا ہورہاہے یہ انسان کی ازلی خواہش بھی رہی ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے ،یہ شائد سائنس دانوں کی کسی تحقیق میں تو ممکن نہیں ہوسکا مگر اس پرشعوری یا لاشعوری طور پر کام ہورہا ہے ۔لیبارٹریز میں انسانی جانیں بچانے کی تحقیق میں مصروف سائنس دانوں کی ہر کاوش کا نچوڑ یہی ہوتا ہے کہ کسی طرح ان موذی امراض سے انسان کو بچاکر اسکی طویل العمرزندہ رہنے کی خواہش کو تکمیل تک پہنچایا جاسکے ۔تاہم وائرس اور موذی امراض کے علاوہ بھی انسان کو جنگوں ،دشمنیوں اور حادثات سے جان کا خطرہ بہرحال ہرآن لاحق رہے گا ,قدیم فلسفیوں نے انسان کو زندہ رہنے کا یہ ہنر سکھانے کی کوشش کی تھی کہ ایسے بہترین کام کئے جائیں جو انسان کے جانے کے بعد بھی رہتی دنیا تک اسے زندہ رکھیں ،یہ بہرحال فلسفیانہ سوچ ہے زمانہ ساز لوگوں کے سامنے سراسر زندگی وہی ہے جو اس نے اپنے عہد کو انجوائے کرکے گزارلی چاہے دوسروں کو آزار دیکر ہی سہی ،اپنے لئے آسانیاں پیدا کرنے کا سامان پیدا کرلیا اسی نظریے پر اصولی طور پر زیادہ تر لوگ وقتی کامیابیوں کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ دوڑ لگانے والے اقتدار تک رسائی چاہتے ہیں جس کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ایسے لوگ ہر طرح کا جھوٹ بولنے کی مہارت رکھتے ہیں اور ہر طرح کا فریب دینے کیلئے نت نئے حربے ایجاد کرلیتے ہیں ایسے لوگ زمین پر فساد پھیلانے کی خاطر بہت کچھ کر جاتے ہیں بظاہر یہ انکی چالاکی اور مکاری ہوتی ہے مگر ہمارے مذہب اسلام نے ایسے چالاک اور مکار لوگوں کو بنیادی طور پر احمق قرار دیا ہے جن کا وہ خود بھی شعور نہیں رکھتے ،انہیں ایک لاحاصل دوڑ میں آگے نکلنے کی جلدی رہتی ہے اور یہی جلدبازی انہیں اچانک زندگی سے دور لے جاتی ہے ۔ان لوگوں کے بارے میں پھر تاریخ کوئی ذکر نہیں کرتی ۔اربوں سال پرانی دنیا میں کتنے انسان آئے اور چلے گئے۔وقتی طور پر بھی انہی کو یاد رکھا گیا جنہوں نے دوسروں کے لئے خلوص نیت سے کچھ کرنے کی کاوش کی اپنے لئے جینے کا چلن تو جانوروں کا ہے انسان اگر اشرف المخلوقات ہے تو اسکا جانوروں سے بنیادی فرق دوسروں کے لئے کچھ کرنے کا چلن ہی ہے ورنہ دنیا میں جانوروں سے بھی بدتر انسانی کردار اب طشت ازبام ہیں ،معمولی فائدے کی خاطر قتل وغارت ،دن دیہاڑے بچیوں کے اغوااور اقتدار کے لئے تمام جرائم کرنے والوں کی سوچ انہیں جانوروں سے بھی بدتر بنادیتی ہے ۔انسان کے سامنے سب سے پہلے اسکے جینے کا مقصد ہوتا ہے اور دنیا کے تمام مذاہب اسے انسانیت کا درس دیتے ہیں ،علامہ اقبال بھی یہی کہتے ہیں کہ ع۔
“مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا “

انسان کو بیماریوں اور وائرس کی تباہ کاریوں سے بچانے والے سائنس دان آپس کے بیر سے تو کسی صورت نہیں بچا سکتے اس لئے ابھی تک انسان کی ہمشیہ زندہ رہنے کی خواہش کسی سائنس دان کی بجائے انسانیت کی بقاء اور انسانوں سے پیار کرنے والوں کے درس سے ہی ملتی ہے چاہے وہ مذہبی پیشوا ہوں یا قدیمی فلسفی سب نے انسان کو دوسروں کی بھلائی کی ترغیب دیکر ہمیشہ زندہ رہنے کا راستہ دکھایا ہے ،افراتفری اور انتشار بنیادی طور پر انسانی وصف نہیں ہیں یہ انسانوں میں کیسے سرایت کرگئے اس پر پھر کسی کالم میں بحث ہوگی اس وقت انسان کی عادت و اطوار کے برعکس جو عوامل ظاہر ہورہے ہیں انکے پیچھے وہی ازلی زندہ رہنے کی خواہش ہے جو جنون بن کر انسان کی حسیات کا دم توڑ دیتی ہے ۔انسان کی اسی تبدیلی پر اسکے جانوروں سے بدتر کردار کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے ،اگر انسان کو موت کے اٹل ہونے کا یقین ہو جائے تو پھر وہ کوئی برائی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا صرف وقتی طور پر فہم وفراست سے عاری ہوکر انسان نفرت کی آگ سے فساد کے الائو میں اپنے ساتھ سب کچھ جلانے کو تیار رہتا ہے ،ایسی سوچ ہی انتہاپسند ہوتی ہے جسے کوئی مذہب اور معاشرہ قبول نہیں کرتا ،انتشار پھیلانے کے اعلانات کرنے والے درحقیقت معاشرتی اقدار کو ملیامیٹ کر کے اپنی وقتی خواہش پوری کرنے کے لئے زمین پر فساد سے بربادی کی صورت پیدا کرتے ہیں انہی کے بارے میں کلام پاک میں ہے کہ یہ زمین پر فتنہ وفساد برپا کرنے کے عمل کو درست قرار دینے کے لئے دلیل بھی دینگے مگر یہ اس بات کا شعور ہی نہیں رکھتے ۔یہ بے شعور مخلوق خدا نے اسی لئے پیدا کی ہے کہ اہل شعور انکے مقابلے میں اپنے حسن عمل سے امن اور محبت کو رواج دیکر دنیا کو عارضی ٹھکانہ سمجھتے ہوئے اپنی آخرت کی تیاری کریں ،ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش انکی بھی ہوتی ہوگی مگر ان کا یہاں طریقہ کار ان سے بالکل مختلف ہے یہ انسانوں کی بھلائی اور انکی آسانی کی خاطر قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور یوں دنیا میں انسانوں کے لئے بہترین کام کرنے کے سبب قابل احترام قرار پاتے ہیں انکی موت کے بعد بھی لوگ انہیں اچھے الفاظ میں یاد رکھتے ہیں یہی انکے ہمیشہ زندہ رہنے کا ہنر ہے ،جبکہ انکے برعکس اپنے رعب و دبدبے اپنی برتری کو ضد بناکر خلق خدا کو آزار دینے کی کاوش کرنے والے بھی موت کو فراموش کرکے اقتدار تک رسائی کو ہی حقیقی زندگی سمجھ کر لوگوں کو انتشار اور فساد پر اکساتے ہیں انکے عمل سے کوئی بھی نقصان سے نہیں بچ سکتا،وہ اپنے اس اثر کو اپنی بہت بڑی خوبی گردانتے نہیں تھکتے حالانکہ خلق خدا کا صرف راستہ مسدود کرنا اسلام کے نظریے میں سب سے بڑا گناہ ہے اور دنیا کے کسی مذہب نے بھی انسانوں کو تکلیف دینے والے اس طرح کے کسی عمل کی اجازت نہیں دی ،کوئی مہذب معاشرہ کسی طرح کی شر انگیزی کا طلبگار نہیں آج کے اس جدید دور میں بڑی سے بڑی طاقتیں بھی اب مذاکرات کی میز پر مسائل سلجھانے کے لئے اپنے بدترین دشمن کا سامنا انتہائی ملنساری سے کرنے کا رویہ اختیار کررہی ہیں تو پھر یہ زمانہ جاہلیت کا سب سے مکروہ عمل کہ دوسرے انسانوں کو تکلیف دیکر اپنی برتری ثابت کی جائے اسے کس طرح قابل قبول سمجھا جائے ،انسان کے لئے دنیا کی تمام آسائشیں عارضی اور ہیچ ہیں ،کسی انسان کو بھی اپنی ضرورت سے زیادہ کوئی سہولت رکھنے کا کوئی حق نہیں پھر بھی انسان کے طرز عمل سے یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ وہ جیسے اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا ہوا ہے یہی اسکی سب سے بڑی غلطی ہے اس غلطی کو سدھارنے کے لئے انسان کو قناعت پسند سوچ اپنانا ہوگی ،زبانی کلامی دوسروں کی بھلائی کا دم بھرنے والوں کو بھی قدرت نے موقع دیا اور وہ جب اپنی عیاشیوں کے سوا دوسروں کے لئے کچھ بھی نہ کرسکے تو انکی جگہ تبدیل کردی گئی اس پر اب تلملانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ قدرت نے موقع دیا تو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی بھلائی کے کچھ یاد گار کام کرلئے ہوتے تو پھر اس دنیا میں ہی انہیں دلی تشفی نصیب ہوجاتی اس بے قراری اور اضطرابی کیفیت کا حقیقی سبب تو انسان کی اپنی ناکامی ہے اگر اسے تسلیم ہی کرلیا جائے تو پھر دنیا میں انتشار اور فتنہ وفساد پھیلا کر اپنی برتری ثابت کرنے کی کسی کو کبھی ضرورت پیش نہ آئے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...