Home بلاگ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

منشاقاضی
حسب منشا

بچپن جن کا بزرگوں کی صحبت میں گزرتا ہے وہ احترام انسانیت اور احترام آدمیت کے , جہاں اپنے والدین کی نیک نامی کے چلتے پھرتے سفیر بن جاتے ہیں وہاں وہ بھلائی کے بڑے بڑے کام بھی کر جاتے ہیں , کچھ والدین اپنی اولاد کو مکمل انسان کا درجہ دینے کی بجائے انہیں اپنے سپیئر پارٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور وہ دنیا میں اپنے آپ کو خود بڑا کہتے ہیں خلق خدا انہیں چھوٹا کہتی ہے , خلق خدا کی رائے مستند اور معتبر ہوتی ہے اور اصل بڑے لوگ وہ ہوتے جو خلق خدا کی زبان پر بڑے ہوں کیونکہ خلق خدا نقارہ ء خدا ہوتی ہے , جو بچپن میں ادب نہیں سیکھتا اس سے بڑا ہونے پر بھی ادب کی توقع نہ رکھو , بڑے لوگ وہ ہوتے ہیں جو شکائتوں کو جذب کر کے کدورتوں کی پرورش نہ کریں اور نہ ہی وہ طعن کے سنگ پھینکیں , آؤ آج آپ کو بڑے انسان سے ملائیں جو پاکستان ٹیلیویژن میں سینئر پروڈیوسر اور لندن میں اے آر وائی کے بیورو چیف رہ چکے ہیں آپ ایک نابغہ ء روزگار , فرض شناس اور برقی ذرائع ابلاغ کے ماہر اذکار رفتہ کی حیثیت سے درد مندوں کے درد مند اور درد کا درماں تلاش کر رہے ہیں میری مراد احمد علی سید سے ہے , جنہوں نے 19 مئی کو رحمن فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر وقار احمد نیاز , ایم ڈی الفت رسول , جناب گل جمال نوازش علی خان لودھی , فرح دیبا , محترمہ فردوس کھوکھر اور محترمہ شازیہ فیاض جنرل مینیجر مارکیٹنگ اور راقم کا ایبٹ آباد داتا ہیملٹ ایجوکیشن سوسائٹی میں رحمن کے بندوں کے دکھوں کو کم کرنے کے لیئے ملنا تھا , اور حالات کی سنگینی اور اوقات کی تنگی نے وقت مقررہ پر نہ پہنچنے کی وجہ سے مجھے ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی سے شرمندگی اٹھانا پڑی , ساڑھے چار گھنٹے منتظر رہنے والی آنکھوں میں اداسی کا شائبہ تک نہ تھا اور وہ ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی آمد کا سن کر آنکھیں ان کی راہ میں بچھائے ہوئے تھے اور وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ

آمد جو سنی ان کی اللہ رے انتظار
آنکھیں بچھا دیں ہم نے جہاں تک نظر گئی

پانچ بھائیوں نے نسل نو کی فصل کو شاداب و سیراب کرنے کی وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کر لی ہے
, جناب احمد علی سید
پانچ بھائی ہیں جن میں سے محمد علی سید جو الائیڈ بنک میں سینئر ایگزیکٹو تھے فوت ہو گئے ہیں
پھول وہ شاخ سے ٹوٹا تھا کہ چمن ویران ہو گیا اور اس وقت منہ ڈھانپ کے پھولوں میں صبا روئی تھی , اور آج چاروں بھائی عناصر اربعہ کی حیثیت رکھتے ہیں جو ایثار اور سخاوت کے پیکر متحرک ہیں , , احمد علی سید کے ایک بیٹے قاسم علی سید فرد خاص سپیشل پرسن تھے جن سے والدین کی وابستگی منتہائے خیال تک پہنچی ہوئی تھی اس کی موت نے دائمی جدائی کے درد کو اور بھی بڑھا دیا تو درد مند ماں باپ نے ایک حبشی بچی جس کی نکاہت , کمزوری اور بے بسی کا یہ عالم تھا کہ اس نے سید صاحب کو جن ملتجیانہ نگاہوں سے دیکھا تھا وہ ایک ایسا جمالیاتی لمحہ تھا کہ فیصلہ کر لیا گیا کہ یہی بچی میرا انتخاب ہو گی جس کی فریاد , التجا اور استدعا نے سید صاحب کے دل میں ایک ہیجان اور تحرک پیدا کر دیا تو آپ نے اسی ادا پر کفالت کی ذمہ داری لے لی , لوگ تو ذمہ داریوں سے جان چھڑاتے ہیں لیکن سید صاحب حقیقی مسیحائی کرتے ہیں , قاسم علی سید پارک قاسم علی سید کو بھولنے نہیں دیتا اس کی جوانمرگی کا صدمہ آج بھی ماہی بے آب کی طرح تڑپا دیتا ہے اور سید صاحب یاد رکھنے کے لیئے اسی درد و اثر سے گزر رہے ہیں کیونکہ وہ زندہ انسان کا پیکر ہیں ,
زندہ انسان کا پیکر ہوں کوئی بت تو نہیں
سنگ برسا کے کہتے ہو کہ ٹوٹا کیا ہے
آج قاسم کی یاد میں ایک سپیشل بچوں کی بہبود اور فلاح کے ادارے کو بھی کثیرالمقاصد منصوبہ جات میں شامل کر لیا گیا ہے , داتا جاگیر تیس گاؤں پر محیط ہے 1992 میں پیر سید عبدالقیوم شاہ ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا , کراچی میں اس خاندان کے ایک اور چشم و چراغ ہیں جو محکمہ کسٹم میں کلیدی آسامی پر تعینات تھے میری مراد سید فخر علی شاہ سے ہے وہ بہت ہی عظیم انسان دوست ہیں , ان کے دست کشادہ سے بھی استفادہ کرنے والی مخلوق دعا گو ہے کہ وہ جہاں بھی رہیں شاداں , فرحاں اور خراماں خراماں رہیں , داتا جاگیر کے آخری سربراہ جن کی دورس نگاہ کا اعجاز ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا پیر معظم شاہ خان جو مشہور نیزہ باز اور تیر انداز تھے گھوڑ سواری میں آپ کا مثیل ملنا مشکل ہے اپنے اصطبل اور نسلی گھوڑوں کی بہتات تھی آغا زین العابدین شاہ آئی جی جیل خانہ جات کے پی صوبہ کے رہے ہیں جو شاہ محمد غوث کی اولاد ہیں ڈھائی سو سال سے یہ خاندان انسان دوستی اور خدائی خدمت گار کا ادارہ اور لوگوں کے دل کا راج دلارا ہے , یہی وجہ ہے کہ ہزارہ کے لوگ ان کی شرافت و نجابت کے مداح اور دل و جان سے بے حد تکریم کرتے ہیں احمد علی سید اور آپ کی بیگم نباحت شیرین کی فلاحی خدمات کی خوشبو پورے صوبے میں پھیلی ہوئی ہے , بقول پروین شاکر
فضا میں پھیل چلی میری بات کی خوشبو
ابھی ہواؤں سے تو میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں

یہ خاموش خدمت گزار خاندان جن کے ایک عظیم المرتبت برادر جسٹس سید حامد علی شاہ صاحب لاہور میں موجود ہیں ان سے بھی مل کر دوگونہ اطمینان محسوس ہوا اور دل میں ملنے کی خواہش مسلسل کروٹیں لے رہی ہے , آپ کی زندہ دلی اور فکری رعنائی کی آبشار میرے آئینہ ادراک پر رنگ و نور کی طرح برس رہی ہے. اور آج احمد علی سید کو دیکھ کر مزید روحانی مسرت محسوس ہوئی آپ اپنے بھائی سکواڈن لیڈر اذکار رفتہ سید محمود علی شاہ جو زخموں سے چور تھے اور اسلام آباد میں ان کی دیکھ بھال کر رہے تھے رحمن فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ 10 بجے اسلام آباد کو چھوڑ چکے تھے سکوارڈن لیڈر سید محمو علی شاہ فلاح و بہبود کے کاموں میں ہمیشہ سبقت لے جاتے ہیں مجھے یہ بات بڑی پسند ہے کہ سخی کے دشمن بھی اس کے دوست بن جاتے ہیں اور بخیل کی اولاد بھی دشمن جاں بن جاتی ہے , اس سخی خانوادے کے محاسن بیشمار ہیں جن پر پھر کسی روز خامہ فرسائی ہو گی فی الحال احمد علی سید کی بات ہو رہی ہے جن کے منصوبہ ساز زہن کے بطن سے پیدا ہونے والے فلاحی خیال کو پیکر محسوس میں ڈھال دیا ہے, داتا ہیملٹ سوسائٹی میں معذور بچوں کی تعلیم و تربیت , گردوں کے مریضوں کے لیئے خصوصی مرکز رحمن فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی قیادت میں اور ڈاکٹر آصف محمود جاہ منی جنرل ہسپتال کا اجرا ہو گا , بزرگوں کے قیام و طعام کے نشیمن بھی تعمیر کیئے جائیں گے اور اس ہسپتال کے ایڈمنسٹیٹر پروفیسر ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی ہوں گے جن کو تعلقات عامہ اور انتظامی امور میں ایک خاص تجربہ حاصل ہے
ڈاکٹر کیوان قدر خان ملزئی کو جسٹس سید حامد علی شاہ یوں ہی بلبل ہزار داستان نہیں کہتے آپ یاداشتوں کا سمندر اور انمول خزانہ ہیں جب وہ کسی شخصیت کو اپنے حافظہ کی زینت بناتے ہیں تو انہیں وہ نہیں بھولتے , گذشتہ ایک ماہ سے آپ ایک ایسی شخصیت کے لیئے دیدہ و دل فرش راہ کیئے ہوئے تھے جنہیں دنیا درد کے ماروں کا مسیحا کہتی ہے میری مراد ڈاکٹر وقار احمد نیاز سے ہے جن کی ایک دنیا نیاز مند ہے آپ ایک عجوبہ ء روزگار شخصیت ہیں کامیابیوں و کامرانیوں کی خواھش کیئے بغیر بھی ان کو نصرت کے غائب سے سامان میسر ہوتے رہتے ہیں کیوں کہ گردوں کی صفائی کا مستند ادارہ نہ تو موصوف کے باپ کے نام پر ہے اور نہ ہی والدہ محترمہ جن کی نیم شبی دعاؤں کے حصار میں آپ ہمشہ گرفتار ہیں ان کے نام پر یے اور نہ کسی ڈائریکٹر کے عزیز کے نام پر ہے یہ ادارہ رحمن کے نام پر ہے اور یہ نام اربوں مسلمانوں کی زبانوں پر ہے اور میں بھی اس کا ذکر کرتے وقت غالب کی زبان میں اسے حرز جاں بنائے ہوئے ہوں ,

زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیئے

جس طرح پروفیسر ڈاکٹر کیوان قدر خان ملزئی یاد رکھتے ہیں بالکل اسی طرح رحمن فاؤنڈیشن کے چئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز اور ان کے ایم ڈی اور ڈائریکٹر صاحبان بھی یاد رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ 19 مئی کا یادگار دن ہم سب کے حافظہ کی ڈائری میں لکھا جا چکا تھا , اور یہ مسرت آلود منظر احمد علی سید کی موجودگی کی چغلی کھا رہا تھا , لذت عارضی ہوتی ہے مسرت دائمی , اور ہم دائمی مسرتوں سے سرفراز ہو کر ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی معیت میں نکل آئے اور ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی کے گھر کی طرف روانہ ہو گئیے جہاں ان کی بیٹیوں کو ارمغان کتب دینی تھیں مگر آدھا قافلہ راستہ بھول گیا کیونکہ زگ زیگ راستوں کے راھی کی بے پرواہی کا یہی عالم ہوتا ہے , ایسا راستہ اور شائستہ فاصلہ پھر بھی قافلہ راہ بھول گیا کیونکہ
اتنے الجھاؤ تو ان کے کاکل پیچاں میں نہیں ڈاکٹر فردوس نثار دوسرے قافلے کو لیکر چلی ہوئی تھی اور مسلسل 28 گھنٹے گاڑی چلانا میں سمجھتا ہوں کہ ایک شاندار , کامیاب اور مؤثر ریکارڈ ہے , واقعی آفتاب سے مہتاب بازی لے گیا عربی زبان میں آفتاب مونث ہے اور مہتاب مذکر ہے اس لیئے تذکیر و تانیث کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس کا کام بولتا ہے. محترمہ فردوس کھوکھر نے قول کے ذریعے نہیں عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ اخلاص کی پیکر , صدق دل کی دیوی , عزم بالجزم کی چٹان اور بلند نصب العین کی عملی سماجی سائنسدان ہیں اس متحرک خاتون شخصیت کے ذہن میں نصف کائنات کی فلاح کے کئی منصوبے موجود ہیں , تصاویر اور وڈیو بھی فردوس نظر کی رہین منت ہیں ,

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

محترمہ فرح دیبا کے بارے میں صرف یہی جانتا تھا کہ وہ سابق ایم پی اے نون ہیں اور ایک سیاسی خاتون ہیں لیکن اس کی اصل پہنچان تو موصوفہ کی ان کے عالمی شہرت یافتہ والد گرامی جن کا فلمی نام رنگیلا ہے اور سعید خان افغان نژاد قبائلی ہیں اور آج جن کی 17 ویں برسی ادبی بیٹھک الحمرا میں ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی صدارت , نوازش علی خان لودھی اور ڈاکٹر نبیہ علی خان کی نقابت و نظامت میں منائی گئی , فرح دیبا کا ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی نے خصوصی استقبال کیا اور مجھے اس سفر میں پتہ چل گیا وہ بچوں کی بہترین استاد بھی ہیں جس کی مثال وہ اپنے بچے کو سبق یاد دلا رہی تھی پورے سفر میں وہ اپنے بچے سعید خان کو امتحان کی تیاری کرواتی رہیں , ڈاکٹر کیوان قدر خان کے حافظہ کا یہ عالم ہے کہ وہ ہمارے ایم ڈی الفت رسول کے ہمدم دیرینہ نکلے اور دیر تک ماضی کی یادوں میں کھو گئے ,
اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے
یہ سفر بہت یادگار رہے گا , فردوس نثار کھوکھر کا ایثار اور چٹان سے زیادہ مضبوط عزم نازک خیال اس خاتون کی بہادری کا عکاس ہے , ان کے ساتھ شازیہ فیاض کا اخلاص بھی شامل تھا جس کی وجہ سے مزید سفری مشکلات میں آسانی پیدا ہو گئی , میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر دعاؤں میں ہی مصروف تھا اور فردوس کھوکھر کی شدید بیداری کو شدید تر کا متمنی تھا , فردوس کھوکھر کی ہمت , استقامت اور پائیدار فکری چراغ ہمیشہ فروزاں رہیں گے میں پاکستان کی عظیم بیٹی کی کامرانیوں کے لیئے ہمیشہ کی طرح رفتار کن کی دعا دیتا ہوں , اور سب کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اللہ تعالی نے ہم سب کو سلامت اپنے گھروں میں پہنچایا , بارش , آندھی , طوفان , میں بھی فردوس کا حوصلہ آگ کو گلزار بنا رہا تھا , واقعی طوفانوں میں ہی زندگی ہوتی ہے پرسکون ساحلوں پر موت رقص کرتی ہے , زندگی جاگ کر اور عمر سو کر گزرتی ہے , فردوس کھوکھر نے ثابت کر دیا کہ
عزم اپنا چٹان کی مانند
اور نازک خیال ہیں ہم لوگ

میدان سے کوہستان تک سیاحت کی اور معلوم ہوا بقول شاعر مشرق

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ ء صحرائی یا مرد کوہستانی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...