Home بلاگ الٹی میٹم

الٹی میٹم

تحریر : اورنگزیب اعوان

کاش ہمارے حکمران کبھی ملک سے غربت، بے روز گاری، مہنگائی کے خاتمہ کا الٹی میٹم دیتے. مگر لگتا ہے کہ یہ خیال ایک خواب ہی رہے گا. جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا. کیونکہ ان کے پاس عوام کے لیے تو وقت ہی نہیں. سبھی اپنی اپنی انا کی تسکین میں لگے ہوئے ہیں. ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لیے سبھی الٹی میٹم دیتے پھر رہے ہیں. ان کے اس کھیل میں عوام ذلیل و رسوا ہو کر رہ گئ ہے. جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے سبھی عوام کی آنکھوں میں دھول چوکنے کے ذرائع ہیں. ایک حکومت میں آتا ہے. تو دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے. اس کو حکومت سے فارغ کرنے کے لیے عوام کو الٹی میٹم دینا شروع کر دیتا ہے. کچھ سیاست دان تو اس کھیل میں اتنے خود کفیل ہو چکے ہیں. کہ وہ باقاعدہ نجومی بن گئے ہیں. اور فال نکال کر عوام کو بتاتے ہیں. کہ اس حکومت نے فلاں تاریخ تک ختم ہو جانا ہے. پاکستانی عوام ان پڑھ اور معصوم تو ہے ہی. اس کے ساتھ ساتھ اتنی جاہل ہے. کہ سڑک کنارے ایک مداری بندر اور کتا کا تماشہ دیکھنا شروع کر دے. تو وہاں مجمع لگا لیتی ہے . کہ شاید یہاں کچھ نیا ہو رہا ہے. جس عوام کو ایک مداری بیوقوف بنا سکتا ہے. سیاستدانوں کے لیے اسے پاگل بنانا کتنا آسان کام ہوگا . سیاستدان اس کو سبز باغ دیکھاتے ہیں. یہ ان کو اپنا مسیحا سمجھ بیٹھتی ہے. کاش یہ خود بھی سوچ سکتی کہ بحیثیت قوم ہم اپنے لیے کیا کرتے ہیں. کیا ہم نے ناجائز منافع خوری، رشوت، اقربا پروری جیسی برائیوں کے خلاف کبھی آواز بلند کی ہے. ہر گز نہیں. کیونکہ ہم تو ان برائیوں کو اپنے لیے کمائی کا ذریعہ مانتے ہیں. جس شخص کو بھی دیکھو وہ ملکی اداروں اور دوسروں سے نالاں نظر آئے گا. اس کا نقطہ نظر ہے. کہ ملک میں پائی جانے والی تمام برائیوں اور مشکلات ملکی اداروں کی مجرمانہ خاموشی اور سیاسی قیادت کی مطلب پرستی کی وجہ سے ہے. مگر خود اس سلسلہ میں کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتا. شاید بحیثیت قوم ہم لوگ معجزوں کے منتظر رہتے ہیں. معجزے بھی تبھی رونما ہوتے ہیں. جب انسان خود سے ہمت کرتے ہیں. ہماری قوم اتنی سہل پسند ہو چکی ہے. کہ وہ خود سے اپنے حق کے لیے آواز بھی بلند نہیں کرتی. مگر کسی کے بہاوے میں آکر اس کے لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر انقلاب برپا کرنے نکل پڑتی ہے. مگر انہیں ہر بار انقلاب کی بجائے دھوکہ سے وابستہ پڑتا ہے. انہیں محض اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. چند کھوکھلے نعروں کے زیر عتاب یہ قوم اپنے ملکی اداروں پر چڑھ دوڑتی ہے. اس کے رویہ کو دیکھتے ہوئے. کہا جاسکتا ہے کہ اس کا کچھ نہیں بن سکتا. کسی کے ہاتھوں آلہ کار بنے والے لوگ ہجوم تو کہلوا سکتے ہیں. قوم نہیں. قوم بننے کے لیے یک جہتی، اجتماعی سوچ اپنانا پڑتی ہے. ہم لوگ تو فرقوں اور سیاسی گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں. ہر گروپ کا اپنا نصب العین ہے. وہ اس کے مطابق ہی چلتا ہے. دوسرے کے نقطہ نظر اور موقف کو سننے اور سمجھنے کے لیے اس کے پاس وقت نہیں. ملکی ادارے بھی شاید اسی روش پر گامزن ہیں. یہ بھی وقتی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں. جن کے دور رس نتائج برآمد نہیں ہو پاتے. ملکی اداروں کو پسند و ناپسند کے چکر سے باہر نکل کر ایک بار ایسے قوانین تشکیل دینا ہوگا. کہ جن سے انحراف کرنے کی صورت میں شدید سزا دی جاسکے. پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے. جہاں جب جس کا دل چاہتا ہے. مسلح جھتوں کو لیکر وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کر دیتا ہے. ہر بار یہی الفاظ سماعت کو سننے کو ملتے ہیں. کہ اب قوم جاگ گئ ہے. وہ اپنے ساتھ چلنے والے مسلح جھتوں کو قوم سے تعبیر کرتا ہے. مگر ہر بار مایوسی ہی ہوتی ہے. اپنے مطالبات تسلیم کروانے کہ بعد قوم کو سڑکوں پر ذلیل اور رسوا ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے. ان تمام واقعات سے بھی ہم لوگ کچھ نہیں سیکھتے. آج تک سمجھ نہیں آئی. کہ یہ الٹی میٹم ہم دیتے کس کو ہے. اور اس کا مقصد کیا ہوتا ہے. کیا اس الٹی میٹم سے غربت، بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے ہرگز نہیں. بلکہ دنیا ہم پر ہنستی ہے. ہم بیرونی قرضوں میں سر سے پاؤں تک جکڑے ہوئے ہیں. کاش ایک قوم اور سوچ بن کر ان بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے الٹی میٹم دیا جاتا. دنیا سے بھیگ مانگنے کی بجائے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے عزم کا پختہ الٹی میٹم دیتے. ہمارے تمام سیاسی رہنما محب الوطن ہیں. کوئی بھی غیر ملکی ایجنٹ نہیں اور نہ ہی غدار ہے. ملکی ادارے بھی محب الوطن ہیں. ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے. مل کر ایک قوم بن کر سوچنے کی ضرورت ہے. آئے مل کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر عہد کرے. کہ ہم نے اپنی قوم اور ملک کو غیر ملکی قرضوں کے چنگل سے نکالنے کے لیے مل کر کام کرنا ہے اور آیندہ پانچ سال میں ہم نے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے. ہمیں کسی سے قرض لینے اور اس کے آگے ہاتھ پھیلانے کی قطعی ضرورت نہیں . یہ ہے وہ حقیقی الٹی میٹم جس کا قوم بے صبری سے انتظار کر رہی ہے. جس دن ہمارے سیاسی رہنما بیرون دنیا کو یہ الٹی میٹم دے گے. کہ ہم سب یک جان ہیں. ہم اپنی قوم کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہیں. یقین کرے. اس دن ساری قوم اور آئینی ادارے آپ کی پشت پر کھڑے ہو گے. ہم لوگ احتجاج کے نام پر اپنی ملکی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں. اس اقدام کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے. ہم تو پہلے ہی بیرونی دنیا سے قرض لیکر اپنی عوام کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرتے ہیں. ایک طرف تو ڈالر کی بڑھاتی قدر نے ہماری معیشت کو برباد کر کے رکھ دیا ہے. رہی سہی کسر ہم اپنے ہاتھوں سے ملکی و سرکاری املاک کو گھیراؤ جلاؤ کرکے پوری کر دیتے ہیں. سیاسی اجتماع کرنا ہر شہری اور سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے. مگر اس احتجاج کی آڑ میں ملکی اداروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا کسی کا آئینی حق نہیں. پیچھے جو بھی ہوا اس کو بھول کر آئے آج ہی عہد کر لیں . کہ آئندہ ہم نے مل کر یک جان ہوکر ملک و قوم کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہے. ملکی اداروں کو بھی ان کے اس عزم کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی. قوم ایسے حقیقی الٹی میٹم کی منتظر ہے. ناکہ جلاؤ گھیراؤ کے الٹی میٹم کی. کسی کی بھی آنا اتنی بڑی نہیں ہونی چاہیے. کہ وہ اس کو ملک پر ترجیح دے. خدارا اپنی اپنی انا کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایسی مثبت روایات کو پروان چڑھائے. جن کی بدولت نہ صرف آپ کے وقار میں اضافہ ہو. بلکہ ملک و قوم کی عظمت کو بھی چار چاند لگے. تمام سیاسی رہنما اپنے اپنے ورکرز کو جو ان کی ایک کال پر جان تک دینے کو تیار یو جاتے ہیں. انہیں ملکی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا درس دے. ایک معاہدہ کے تحت تمام سیاسی رہنما پانچ سال کے لیے اس ملک میں مخلوط حکومت قائم کرکے معاشی ایمرجنسی کا نفاذ کرے. دیکھے کیسے ملک ترقی کی منازل طے کرتا ہے. تمام سیاسی رہنما مل کر بیرونی دنیا کو الٹی میٹم دے. کہ ہم نے آیندہ پانچ سال میں خودکفیل قوم بننا ہے. جو ہر شعبہ زندگی میں اپنے فیصلے آزادی سے کر سکے. قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے. کہ آپ اسے کب ایسے الٹی میٹم کی نوید سنائے گے. چور اور غدار کے لقب دینے سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے. اس قوم کو یکجا کرے. آپ کی ذاتی انا اس ملک سے بڑھ کر نہیں. اپنی انا کی تسکین میں ملک کو آگ میں مت دھکیلے. ایک عام پاکستانی آپ لوگوں کی طرف دیکھ رہا ہے. کہ آپ کب اپنی ذاتی لڑائیوں سے فارغ ہو کر اس کے مسائل پر توجہ دے گے. ہر سیاسی جماعت میں قابل لوگوں کی کمی نہیں. پھر کیا وجہ ہے. کہ ہمارا ملک ترقی نہیں کر پا رہا. اس کا سبب ہماری نا اتفاقی ہے. آئے سب مل کر قوم کو غربت، بےروزگاری کی دلدل سے نکالنے کے لیے الٹی میٹم دے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...