Home بلاگ شہرت یافتہ اداکار رنگیلا کی 17ویں برسی کی تقریب

شہرت یافتہ اداکار رنگیلا کی 17ویں برسی کی تقریب

تحریر: منشاقاضی

حسب منشا

ملک و ملت کی بہبود اور فلاح کے کام کرنے والے لوگ نامور ہوتے ہیں , تاریخ کامیاب اور شہرت یافتہ لوگوں کے کارناموں سےاٹی پڑی ہے , شاندار , کامیاب اور مؤثر کارناموں کی خوشبو شہرت کہلاتی ہے , شہرت اور رسوائی میں ارض و سما کا فرق ہوتا ہے , شہرت ایک طاقتور ٹانک ہے اور روح کو بھی توانا رکھتا ہے رسوائی ایک ایسی دوائی ہے جو روح کو بھی مکروہ کر دیتی ہے اور آج ہم ایک ایسے شہرت یافتہ نامور اداکار کے کارہائے نمایاں کو یاد کر کے ان کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جنہوں نے خود دکھ , مصیبتوں کے پہاڑ اٹھائے اور غم برداشت کر کے سماج کو مسرتیں تقسیم کیں اور آج اسی وجہ سے وہ مر کر بھی زندہ ہیں اور زندہ ء جاوید رہیں گے, کتنے امرا و رؤساء ہیں جنہوں نے اپنے دسترخوان پر آپ کو قورمہ اور پلاؤ فراہم کیا ہو گا اور اس کی لذت عارضی تھی جسے آج آپ بھول گئے ہوں گے , مگر ایک مسرت افروز قہقہ آپ کو مرتے دم تک اپنی دائمی مسرت کے آب حیات سے آپ کی کشت ویراں کو سیراب کرتا رہے گا اور روح شاداب رہے گی , آج ہم اسی قومی ہیرو کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں جس نے فلم انڈسٹری کی ترقی , تعمیر اور ارتقا کے لیئے اپنا خون جگر دیا اور لوگوں کو مسرتوں اور شادمانیوں کے خوشگوار لمحات عطا کیئے اور خود گردوں کی موذی مرض کی جنگ لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے .

رو رہی ہے آج ایک ٹوٹی ہوئی مینا اسے
کل تلک گردش میں جس کے پیمانے رہے ,

اتنا حساس , اتنا شفاف , اتنا زندہ احساس کا پیکر کون ہو سکتا ہے جس کی سعید روح پر فتوح کے لیئے نابغہ ء روزگار ہدایت کار پرویز کلیم اور عجوبہ ء کائنات مسیحا ڈاکٹر وقار احمد نیاز اور ان کے نیاز مند اور مداح اس عظیم انسان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے ادبی بیٹھک الحمرا میں نقیب مجلس جمال گل نوازش علی خان لودھی کی نظامت اور ڈاکٹر نبیہ علی خان کی نقابت میں موجود ہوں مرحوم رنگیلا کی سعادت مند بیٹی محترمہ فرح دیبا اپنے والد گرامی کے دوستوں کو ارادت و عقیدت کے چراغوں کی لو میں خوش آمدید اور خیر مقدم کہہ رہی تھی , فردوس کھوکھر کی آمد پر وہ شاداں و فرحاں تھی , کون جانتا تھا پارا چنار سے ایک گمنام بچہ ایک دن آسمان شہرت پر آفتاب و مہتاب بن کر چمکے گا , اور دنیا اس گمنام بچے سعید خان کو رنگیلا کے نام سے جانے گی اور مانے گی , اور اس کا نواسہ اپنے نانا کا ہم نام سعید خان سامعین میں بیٹھ کر ہمہ تن گوش ہو گا اور ان کی باتیں سن کر مسرت آلود ماحول میں چلا جائے گا , خیر مقدمی کلمات فرح دیبا نے زیبا انداز میں کہے اور پھر مرحوم کے دوستوں نے ماضی کو تصور کی روشنی میں حال میں لا کر ہال کو ماضی میں لے گئے اور یہ فن راشد محمود کو آتا ہے وہ بلا کے ذہین اور نابغہ ء روزگار اداکار ہی نہیں بہت بڑے انسان ہیں جنہیں ہر جلوے میں کلیم نظر آتا ہے اور پرویز کلیم کو راشد محمود دکھائی دیتا ہے آج وہ اپنے مرحوم دوست رنگیلا کی زندگی کے اوراق پلٹ رہے تھے اور ہر مقرر اپنے اپنے انداز میں بات کر رہا تھا , رنگ زندگی ہے اور رنگوں کی کہکشاں آسمان شہرت پر رنگ و نور کی بارش کر رہی تھی , نوازش علی خان لودھی کے بعد معروف نقیبہ ء محفل ڈاکٹر نبیہ علی خان نے مائیک سنبھالا تو میں سیف الدین سیف کو گنگنانے لگا ,

سیف انداز نیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

خداداد صلاحیتوں کا بحر بیکراں جس نے ایک زمانے کو ورطہ ء حیرت میں ڈبوئے رکھا آج اس کی یاد میں جمع ہونے والے اصحاب میں محترمہ فردوس کھوکھر جس کے قرطاس اعزاز پر اعلی تعلیمی امتیازات مشرق و مغرب کے فنون و علوم ثبت ہیں وہ اپنی مصروفیات کو ترک کر کے ہال میں محترمہ صفیہ اسحاق کے ساتھ تشریف فرما تھی , گوجرانوالہ سے شاذب کے ساتھیوں کے لیئے واپسی کے لیئے کوشاں تھی , راشد محمود پاکستان کے نامور نابغہ ء روزگار عظیم فلمی سائنسدان ہیں اور دورس نگاہ رکھتے ہیں آپ نے رنگیلا صاحب کے فلسفہ ء فن کو سراہتے ہوئے تعریف کی اور نصف صدی سے زائد عرصے تک رنگیلا صاحب فلمی دنیا پر چھائے رہے , دردانہ رحمان کا بیان سوز و گداز سے لبریز تھا , ڈاکٹر عالیہ تالپور اپنی نشست پر براجمان تھی ڈاکٹر حسن عسکری , محترم جاوید رضا , جناب سجاد احمد سینئر پروڈیوسر ptv نیلام گھر آغا فقیر پروڈیوسر , حیدر سلطان کا وجدان جاگ رہا تھا شاندار خراج عقیدت پیش کیا , سید فراست علی شاہ بخاری نے شاندار قطعہ پڑھنا تھا , وقت کی تنگ دامانی کی وجہ سے محترمہ صفیہ اسحاق بھی اپنے جذبات کا اظہار نہ کر سکیں , پروفیسر ڈاکٹر زرقا نسیم غالب نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ لگا کر رنگیلا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا , ڈاکٹر وقار احمد نیاز نے اپنے صدارتی روشن کلمات میں رنگیلا مرحوم کی زندہ دلی کی تعریف کی. جو خود تکلیف میں رہ کر سماج کے لیئے خوشیاں بانٹتے رہے, ڈاکٹر وقار احمد نیاز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ رنگیلا مرحوم کے آپ معالج بھی رہے اور آج مرحوم رنگیلا کی بیٹی سابق ایم پی اے فرح دیبا نے رحمن فاؤنڈیشن کے لیئے اپنی زندگی وقف کر دی ہے اور اپنے والد رنگیلا کی حساس اور احساس زندگی پر عمل کر رہی ہے اور اب وہ کسی سائل کے کام کرنے میں تاخیر نہیں کرتی کیونکہ اسے مرحوم رنگیلا کی ڈانٹ پڑ چکی ہے جن کی ڈانٹ میں نیکی تھی اور آج تو ہم لوگوں کی مسکراہٹ میں بدی دیکھ رہے ہیں , آخر میں دستاویزی فلم میں محی الدین , عطاءالحق قاسمی , سید نور اور ان کی بیٹی فرح دیبا نے شاندار خراج تحسن پیش کیا ,

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کیئے ؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...