Home بلاگ میاں شہباز شریف وزیر اعظم اور خواجہ فرید یونیورسٹی

میاں شہباز شریف وزیر اعظم اور خواجہ فرید یونیورسٹی

تحریر: علامہ عبدالستار عاصم
ترقی یافتہ اقوام اپنی قومی آمدنی کا سب سے زیادہ حصہ تعلیم اور صحت پر خرچ کرتے ہیں لیکن پاکستان میں تقریباً صرف سوا دو فیصد قومی آمدن کا تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔ امن و امان اور دفاع پر تقریباً 50 فیصد سے زیادہ رقم خرچ ہو جاتی ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ جنوبی پنجاب ایک پسماندہ علاقہ ہے اور وسیب کے لوگوں کا ہمیشہ مطالبہ ہوتا ہے جتنا فنڈ لاہور اور اسلام آباد میں خرچ ہوتا ہے اس کے برابر ہی جنوبی پنجاب کو دیا جائے۔ پنجاب کا آخری ضلع رحیم یار خان لاہور سے تو بہت دور ہے لیکن ہمارے دلوں کے بہت قریب ہے۔ خواجہ فرید یونیورسٹی آج کل تعلیم کی شمع پورے جوبن پر روشن کیے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس یونیورسٹی کے سربراہ اور وائس چانسلر ایک ممتاز ماہر تعلیم اور ہمدرد انسان ہیں۔ علاقے میں لوگ انہیں عبدالستار ثانی کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ شدید ترین گرمی میں جب پرندے اور جانور صرف پیاس کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہو رہے تھے تو اس یونیورسٹی کے طلباء سوسائٹی کے زیر اہتمام چولستان میں پانی کا بہت بڑا وسیع پیمانے پر پانی کا انتظام کیا لوگوں کی پیاس بجھائی اور جانوروں سے بھی انہوں نے خوب پیار کیا۔ یہ پاکستان میں ایک عجیب یونیورسٹی ہے جس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء و طالبات کی کردار سازی پر بہت توجہ دی جاتی ہے۔ بلکہ پڑھے لکھے طلباء و طالبات کے ساتھ خوبصورت شخصیات بھی تیار کی جا رہی ہیں اور اس یونیورسٹی کے اساتذہ کرام بھی ایک رول ماڈل کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ خواجہ فرید یونیورسٹی کے بانی سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ وزیراعظم جناب میاں شہباز شریف ہیں۔ انہوں نے بڑی محنت اور خصوصی فنڈ سے یہ یونیورسٹی تعمیر کرائی اور پچھلے دو تین سالوں میں بڑی تعداد میں علاقے کے نوجوانوں نے تعلیم کے لیے اس یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ جناب پروفیسر ڈاکٹر سلمان طاہر نے بتایا کہ پانچ ہزار سے زیادہ طلباء و طالبات کو سکالر شپ کے ذریعے تعلیم دی جا رہی ہے اور اس سے کئی گنا جنوبی پنجاب میں ایسے طالب علم موجود ہیں جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ جناب وزیراعظم اور دیگر ادارے جو ایجوکیشن کو پروموٹ کر رہے ہیں اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس یونیورسٹی نے چند سالوں میں پاکستان کی ممتاز یونیورسٹیوں میں اعلیٰ مقام حاصل کر لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر استاد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور عالمی یونیورسٹی میں اعلیٰ درجے کی رینکنگ میں شریک ہو چکے ہیں۔ خواجہ فرید یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کی تعداد 7000 کے لیے یونیورسٹی بنائی گئی تھی اور آج وی سی صاحب کی شب و روز محنت سے 17000 سے زیادہ طلباء موجود ہیں۔ یعنی گنجائش سے دو گنا سے بھی زیادہ طلباء ہیں۔ اس کے علاوہ اس یونیورسٹی میں ایک وسیع اور جدید طلباء و طالبات کی کھیلوں کے لیے سٹیڈیم کی بھی ضرورت ہے۔ یونیورسٹی کی توسیع کے لیے حکومت کو فوری طور پر Section 4 کو بروئے کار لاتے ہوئے زمین کی خریداری میں مدد کریں اور زمین یونیورسٹی کے نام منتقل کریں۔ اس سے نہ صرف اساتذہ کرام کو روزگار ملے گا بلکہ جنوبی پنجاب کے طلباء و طالبات کو احساسِ کمتری سے نکال کر دنیا کی صف میں کھڑے ہونے کی طاقت ملے گی۔ میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ کسی زمانے میں خادمِ پنجاب ہوا کرتے تھے۔ اب خادمِ پنجاب ان کے لائق اور ذہین صاحبزادے جناب میاں حمزہ شہباز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس نوجوان میں اللہ تعالیٰ نے تمام خوبیاں جمع کی ہوئی ہیں۔ اُمید ہے کہ حمزہ بھائی ذاتی دلچسپی لے کر فوری طور پر خواجہ فرید یونیورسٹی کی توسیع میں بھرپور کردار کریں گے اور بیورو کریسی جو رکاوٹیں ڈال رہی ہے وہ ریت کی دیوار ثابت ہوں گی۔ یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے بتایا کہ جگہ بہت تنگ ہے۔ ہمیں کھیلوں کے لیے میدان بھی نہیں ملتے اور آئی ٹی ٹاور دنیا کی جدید دنیا لائبریریز ، کلاس رومز، لیبز کے لیے زمین درکار ہے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام پر یونیورسٹی میں ان کے چاہنے والے ان کے نام پر ایک بلاک بھی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس یونیورسٹی میں اوورسیز پاکستانی بھی اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن مقامی بیوروکریسی اس یونیورسٹی کی توسیع میں کئی سالوں سے رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ توجہ احترام، اساتذہ کرام اور تعلیمی اداروں پر دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں تعلیم پر توجہ نہ ہونے کے برابر دی جا رہی ہے۔ زندہ قومیں ہمیشہ سب کچھ تعلیم پر صرف کرتی ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے‘‘ لیکن جنوبی پنجاب کو چین جانے کی بجائے خواجہ فرید یونیورسٹی بالکل قریب ہے۔ شرط یہ ہے کہ بیوروکریسی اور مقامی پاسبانِ علم و ادب یونیورسٹی کی سرپرستی کریں اور اس علاقے میں سرسید ثانی جناب ڈاکٹر سلمان طاہر کی بھرپور سرپرستی کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...